لیاری منی برازیل تھا، عالمی شہرت یافتہ فٹبالر پیدا کئے

لندن (بی بی سی) 50 کے عشرے میں لیاری کے بچے بڑے تمام ہی فٹبالرز گنجی گراؤنڈ میں جاکر اپنا شوق پورا کیا کرتے تھے۔لیاری کے بارے میں مشہور ہے کہ اس علاقے کا شاید ہی کوئی فٹبالر ایسا ہو جس نے جوانی میں اپنی فٹبال ’ کرمچ‘ کی گیند سے ننگے پاؤں شروع نہ کی ہو۔گنجی گراؤنڈ اب صرف یادوں میں زندہ ہے جس جگہ یہ میدان ہوا کرتا تھا وہاں پیپلز پلے گراؤنڈ بن چکا ہے جو ایک طویل عرصے تک قانون نافذ کرنے والوں کے زیراستعمال رہا اور اس کے اصل مالک یعنی فٹبالرز اس میں کھیلنے کو ترستے رہے۔لیاری کی فٹبال دوستی کی ایک بہت ہی پرانی مثال 50 اور 60 کے عشرے میں امریکی اور برطانوی قونصل خانوں کی جانب سے اس علاقے میں دکھائی جانے والی فٹبال کی فلمیں تھیں جب ان قونصل خانوں کی گاڑی مقررہ تاریخ پر رات کے وقت لیاری میں آتی تھی اور پروجیکٹر کے ذریعے اس دور کے بڑے کھلاڑیوں مثلاً جارج بیسٹ۔ یوسے بیو اور برازیلین کھلاڑیوں کے میچوں کی بلیک اینڈ وائٹ فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔لیاری منی برازیل یا لٹل برازیل کے نام سے مشہور ہے اس کا بھی ایک خاص پس منظر ہے۔لیاری کے لوگ عام طور پر افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ہم رنگ لوگوں سے بہت ملتے جلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ فٹبال کے میدان میں بھی ان کی پسندیدگی اپنے ہم رنگ کھلاڑیوں سے رہی ہے جن کے لیے وہ خاص قسم کے جذبات رکھتے ہیں۔یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ لیاری کے کئی کھلاڑی برازیل اور لاطینی امریکہ کے کھلاڑیوں سے بہت مماثلت رکھتے ہیں۔ مثلاً ماضی کے ایک مشہور فٹبالر غفور مجنا برازیل کے رابرٹو کارلوس سے بہت ملتے جلتے تھے اور دونوں کا کھیلنے کا انداز بھی ایک جیسا ہی تھا۔کراچی میں جب ٹی وی آیا تو لیاری میں بھی ورلڈ کپ کے موقع پر ٹی وی پر میچز دیکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔لیاری کے فٹبالرز جہاں جہاں کھیلے اپنی دھاک بٹھائی۔ ان کے کارناموں کی گونج کلکتہ اور ڈھاکہ میں سنی جاتی رہی۔ترکی کی قومی ٹیم پاکستان آئی تو جبار اور مولابخش گوٹائی کی صلاحیتوں سے اس قدر متاثر ہوئی کہ انہیں اپنے ساتھ لے گئی جنہوں نے انقرہ میں چھ ماہ فٹبال کھیلی۔