نجم سیٹھی کا تقرر آئین سے متصادم‘ فیصلہ درست نہیں : سابق چیئرمینوں کا ردعمل

لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور ٹیسٹ کرکٹرز نے نجم سیٹھی کے چیئرمین پی سی بی تقرر پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سابق چیئرمین پی سی بی ڈاکٹر ظفر الطاف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے کیا جانے والا فیصلہ درست نہیں ہے۔ آئین سے ہٹ کر فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان میں پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہیں ایسے میں مزید تجربات پاکستانی کرکٹ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچن اور پروفیشنل کرکٹ میں فرق ہوتا ہے نجم سیٹھی کی جانب سے یہ بیان کہ وہ بچپن میں کرکٹ کھیلتے رہے ہیں ایک مذاق ہے ایسے تو 18 کروڑ عوام بھی کرکٹ سے پیار اور کھیلتی ہے ہر کسی کو چیئرمین پی سی بی نہیں بنایا جا سکتا۔ سابق کپتان عامر سہیل کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے امید ہے نجم سیٹھی کرکٹ کی بہتری کے لیے اقدامات کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے چیئرمین کے لیے کافی چلینج موجود ہیں اکثر ریجنز میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں جو ایک مشکل کام ہے۔ نجم سیٹھی سے توقع ہے کہ وہ اس کام کو احسن طریقے سے انجام دینگے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس کا کہنا ہے کہ ذکاءاشرف کی جگہ حکومت کی جانب سے نئے چیئرمین نجم سیٹھی کا تقرر خوش آئند ہے امید ہے کہ قائم مقام چیئرمین اچھے اقدامات سے تمام معاملات کو درست کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے اچھے فیصلوں کی ضرورت ہے نجم سیٹھی نے نگران وزیر اعلٰی کے طور پر بھی اچھے اقدامات کیے تھے اب کرکٹ بورڈ میں آنے کے بعد بھی ان سے توقع ہے کہ پاکستان کرکٹ کے معاملات کو اچھے طریقے سے چلائیں گے۔ سابق چیئرمین خالد محمود نے کہا کہ نجم سیٹھی کا تقرر آئین سے متصادم ہے۔ جب حکومت وزارت قانون پی سی بی کا آئین منظور کرچکی ہے تواس ضابطہ اخلاق کے تحت قائم مقام چیئرمین پی سی بی کی بورڈ میں کوئی گنجائش نہیں۔