پاکستان انڈر 19 ٹیم نے ملک کا نام روشن کر دیا

محمد معین
پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ میں 3 ملکی ٹورنامنٹ جیت کر ملک و قوم کا نام روشن کردیا۔ دیارغیر میں کھیلے جانے والے سہ ملکی ٹورنامنٹ میں میزبان انگلینڈ اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں بھی شامل تھیں۔ اگرچہ قومی ٹیم کا آغاز اچھا نہ تھا اور پہلے میچ میں بنگلہ دیش نے ٹف ٹائم دیا مگر اس کے بعد نوجوان کپتان سمیع اسلم کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے کھلاڑیوں نے کسی ٹیم کی ایک نہ چلنے دی۔ ٹورنامنٹ میں بارش کا بھی عمل دخل رہا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی انڈر 19 ٹیموں کے درمیان پہلا میچ 5 اگست کو کھیلا گیا، بنگلہ دیش کی ٹیم 42.1 اوورز میں 145 رنز بنا کر آﺅٹ ہو گئی۔ پاکستان نے 17 اوورز میں 4 وکٹوں پر 38 رنز بنائے تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور میچ ڈرا ہو گیا۔ دوسرا انگلنیڈ کیخلاف کھیلا جس میں قومی ٹیم نے 5 وکٹوں پر 288 رنز بنائے۔ انگلینڈ کی ٹیم 242 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ تیسرے میچ میں بنگلہ دیش کو 8 وکٹوں سے ہرایا۔ 193 رنز کا ہدف 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ پانچویں میچ میں بھی بنگلہ دیش کو 7 وکٹوں سے شکست دی۔ بنگلہ دیش کی ٹیم 149 رنز پر آﺅٹ ہو گئی قومی ٹیم نے ہدف 3 وکٹوں پرپورا کر لیا۔ چھٹے میچ میں انگلینڈ کو 180 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی۔ قومی ٹیم نے 7 وکٹوں پر 369 رنز بنائے۔ انگلینڈ کی ٹیم 5 وکٹوں پر 171 رنزبنا سکی۔ ایک اور میچ میں انگلینڈ کو 4 رنز سے پچھاڑا، پاکستان نے 8 وکٹوں پر 227 رنز بنائے انگلینڈ کی ٹیم 6 وکٹوں پر 223 رنز بنا سکی۔ فائنل ٹکرا بھی یکطرفہ ثابت ہوا، قومی انڈر 19 ٹیم نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 343 رنز بنائے، میزبان ٹیم 151 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ ٹورنامنٹ میں قومی انڈر 19 کے بلے باز اور باﺅلر پوری طرح چھائے رہے۔ کپتان سمیع اسلم 7 میچوں میں 409 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے۔ انہوں نے 2 سنچریاں اور 3 نصف سنچریاں بھی سکور کیں۔ ان کا سب سے زیادہ انفرادی سکور 120 رنز ناٹ آﺅٹ رہا۔ امام الحق نے 237، کامران غلام نے 210، حسن رضا 171 اور حسین طلعت 152 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ باﺅلرز میں ظفر گوہر نے سب سے زیادہ 18 وکٹیں حاصل کیں۔ محمد آفتاب نے 14، حسین طلعت نے 10، ضیاءالحق نے 7 اور کامران غلام نے 7 وکٹیں حاصل کیں۔ ظفر گوہر نے 25 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کرکے انفرادی بہترین باﺅلنگ کی۔ پاکستانی سکواڈ کپتان سمیع اسلم، اویس منیر، فرحان نذیر، حسن رضا، حسین طلعت، امام الحق، عمران بٹ، کامران غلام، محمد آفتاب، نعمان اکرم، رافع احمد، سیف اللہ خان، سعود شکیل، شیان جہانگیر، ظفر گوہر اور ضیاءالحق پر مشتمل تھا۔ کسی بھی ملک کی بڑی ٹیموں کی کامیابی کا انحصار چھوٹی ٹیموں کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ جو شہر ٹیموں کے کھلاڑی نمایاں کارکردگی کی بدولت ہی بڑی ٹیموں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ احمد شہزاد، حماد اعظم، بابر اعظم، خالد لطیف اوردیگر کئی کھلاڑی انڈر 19 کرکٹ کی پیداوار ہیں، موجودہ انڈر 19 ٹیم میں بھی چند ایسے کھلاڑی ہیں جن سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں قومی سینئر ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔ موجودہ کارکردگی کی وجہ سے سلیکٹرز کی نظروں میں جلد جگہ بنا لیں گے۔ کپتان سمیع اسلم مستقبل میں قومی سینئر ٹیم میں اوپنر کی حیثیت سے شامل کئے جا سکتے ہیں۔ کامران غلام کی صورت میں دوسرا شاہد آفریدی تیار کیا جا سکتا ہے۔ ظفر گوہر باﺅلنگ میں جادو جگا سکتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ وہ قومی انڈر 19 میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں پر نظر رکھے اور مستقبل میں ان کو بڑی ٹیم میں مواقع فراہم کرے۔ سابق کپتان انضمام الحق کے بھانجے امام الحق بھی اچھا پرفارم کر رہے ہیں۔ پی سی بی انڈر 19 کی طرح انڈر 16 ٹیم بھی تیار کرے۔ اس طرح قومی ٹیم کیلئے نرسری تیار ہوتی رہے گی اور بڑے کھلاڑیوں کے متبادل بھی ملتے رہیں گے۔ ٹیموں کی تشکیل کے ساتھ بیرونی دوروں کا بھی اہتمام کیا جائے جس سے جونیئر کھلاڑی تجربہ حاصل کریں۔ ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔