ورلڈ اتھلیٹکس‘ روس نے میدان مار لیا ........ یوسین بولٹ مرد میدان قرار پائے

اسحاق بلوچ
issakbaloch@yahoo.com
ورلڈ ٹریک اینڈ فیلڈ کا اختتام میزبان روس کی فتح سے ہوا اس طرح 2001کے بعد پہلی بار روس نے عالمی چیمپئن شپ میں اول پوزیشن حاصل کی ‘جبکہ یہ پہلا موقعہ ہے کہ یو ایس اے 1983کے بعد سب سے زیادہ گولڈ میڈل حاصل نہ کرسکا ۔ دوسری جانب چیمپئن شپ کے آخری روز بھی دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ کی کارکردگی نمایاں رہی‘ انہوں نے4x100 میٹر کی دوڑ میں گولڈ میڈل حاصل کرکے اس ایونٹ میں تیسرا سونے کا تمغہ اپنے نام کیا۔ اس طرح بولٹ نے مجموعی طور پر عالمی چیمپئن کے اپنے گولڈ میڈلزکی تعداد8 تک پہنچادی۔ روس 7 گولڈ‘ 4سلور ‘6 برانز اور مجموعی طور پر17 تمغوں کے ساتھ اول ‘ یو ایس اے نے 6 گولڈ‘ 14سلور اور5برانز میڈل حاصل کئے اور دوم پوزیشن پر رہا۔ یو ایس اے کے مجموعی میڈلز کی تعداد سب سے زیادہ25 ہے۔ جمیکا نے یوسین بولٹ کی تاریخی کارکردگی کی بدولت6 گولڈ‘2 سلور اور ایک کانسی کے ساتھ سوم پوزیشن حاصل کی۔ کینیا نے 5 گولڈ‘ 4سلور اور 3برانز‘ جرمنی نے4 گولڈ 2سلور ایک کانسی ‘ایتھوپیا نے 3 گولڈ‘ 3سلور 4برانز ‘برطانیہ نے 3‘گولڈ ‘3برانز‘ چیک ری پبلک نے 2‘گولڈ‘ ایک برانز ‘ یوکرائن نے 2‘گولڈ ایک برانز ‘ فرانس نے ایک گولڈ‘ 2سلورجبکہ پولینڈ‘ کروشیا ‘ آئرلینڈ ‘نیوزی لینڈ ‘سوڈان ‘ ٹرینڈاڈ اوریوگنڈا نے ایک ایک طلائی تمہ حاصل کیا۔چیمپئن شپ میں شریک صرف 33ممالک ہی میڈل ٹیبل پر جگہ بنا سکے‘ اختتامی روز56 ہزار سے زائد شائقین نے مقابلوں کو دیکھا آخری روز جولین تھرو ویمنز میں جرمنی کی کرسٹینا نے گولڈ‘ آسٹریلیا کی کیمرلے نے سلور اور رو کی ماریہ نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ جمیکا نے 4x100 میٹر مینز اور ویمنز دونوں ایونٹس میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ یو ایس اے نے دوم اور برطانوی ٹیم سوم پوزیشن پر رہی۔ دوسری جانب یوسین بولڈ نے100 میٹر اور200میٹر دوڑ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کے بعد4x100 میٹر میں بھی گولڈ حاصل کرکے مجموعی طور پر8 گولڈ میڈلز کے ساتھ نیاریکارڈ قائم کیا۔روس کے دارالحکومت ماسکو میں جاری ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں اتوار کو جمیکا کے یوسین بولٹ چار سو میٹر مقابلے میں طلائی تمغہ جیت کر دنیا کے سب سے کامیاب رنر بن گئے ہیں۔اس سے قبل وہ 100 میٹر اور 200 میٹر میں طلائی تمغہ پہلے ہی جیت چکے ہیں۔اس طرح انہوں نے اپنے کیریئر میں اب تک آٹھ طلائی اور دو کانسی سمیت 10 تمغے جیت لیے ہیں۔ وہ اب عظیم رنر کارل لوئس اور ایلیسن فیلکس کے برابر آ گئے ہیں ۔لوئس کے پاس آٹھ طلائی، ایک چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ ہے جبکہ بولٹ کے پاس آٹھ طلائی اور دو کانسی کے تمغے ہیں۔ بولٹ نے اتوار کو 37.36 سیکنڈ کا وقت لے کر 400 میٹر ریس میں طلائی تمغہ اپنے نام کیا جبکہ اس ریس میں امریکہ کو دوسری اور کینیڈا کو تیسری پوزیشن ملی۔ریس میں برطانوی ایتھلیٹ تیسرے نمبر پر تھے لیکن تکنیکی بنیاد پر اپیل کے بعد کینیڈا کو تیسری پوزیشن مل گئی۔ماسکو میں ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں تیسرا سونے کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد بولٹ نے کہا یہ بہت ہی زبردست ہے‘ میں اپنی جیت کا تسلسل برقراررکھوں گا۔ میں محنت کرتا رہوں گا‘ میری کوشش ہے کہ عظیم لوگوں کی فہرست میں میرا نام رہے۔