ایشیائی ٹیموں کے درمیان مقابلے شروع

چودھری محمد اشرف
نواں ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ آج سے ملائیشیا کے شہر ایپو میں شروع ہو رہا ہے جس میں 8 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں پاکستان، میزبان ملائیشیا، جاپان اور چائینز تائپے جبکہ گروپ بی میں بھارت، کوریا، بنگلہ دیش اور اومان کی ٹیمیں شامل ہیں۔ ایشیائی ٹیموں میں پاکستان اور بھارت کے لیے یہ ٹورنامنٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ٹورنامنٹ کی تیسری بڑی ٹیم کوریا ہے جس نے پہلے ہی 2014ءکے عالمی کپ ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کر رکھا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی ٹیموں میں سے جو بھی ٹیم ٹورنامنٹ جیتے گی تو عالمی کپ تک اس کی رسائی ممکن ہو جائے گی، دوسری صورت میں کسی ایک ایشیائی ٹیم کو عالمی ٹورنامنٹ سے محروم ہونا پڑ جائے گا۔ ملایشیا کے شہر ایپو میں منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ میں اصل مقابلہ بھی انہی دونوں روایتی حریف ٹیموں کے درمیان ہونے کا امکان ہے جس میں مرو یا مارو کی صورتحال ہوگی تاہم ایشین ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جاری ہونے والے شیڈول میں دونوں ٹیموں کو الگ الگ پول میں رکھا گیا ہے قوی امکان ہے کہ دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ کے فائنل میں ہی مد مقابل ہونگی۔ پاکستان ہاکی ٹیم نے آخری مرتبہ 1999ءمیں ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا 24 سال بعد وہ دوبارہ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہو گی یا نہیں اس کے بارے میں کہنا قبل از وقت ہے تاہم قومی ٹیم کی تیاریوں اور کھلاڑیوں کے مورال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمام کھلاڑی 24 سال بعد پاکستان ٹیم کو چوتھی مرتبہ ایشین ٹائیگر بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ٹیم مینجمنٹ کی ہر ڈیمانڈ پوری کی ہے لہذا اب ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں اچھی سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ملک و قوم کا نام روشن کریں۔
ٹیم مینجمنٹ جن کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے نے ملکی عزت و وقار کی خاطر سابق کپتان و گول کیپر سلمان اکبر کی خدمات حاصل کی ہیں سلمان اکبر نے 2010ءکی ایشین گیمز میں پاکستان کو 20 سال بعد چیمپیئن بنوانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ تین سال بعد ایک مرتبہ پھر ٹیم مینجمنٹ کو سلمان اکبر کی یاد آئی ہے جبکہ دو سال سے انہیں کسی ٹورنامنٹ کے لیے مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ گذشتہ سال پاکستان ہاکی ٹیم نے آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں تیسری اور ایشین چیمپیئنز ٹرافی میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اس وقت سلمان اکبر قومی ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام نے قومی کھیل کی ترقی کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی تیاری کے لیے ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے جو سہولیات مانگی گئیں فیڈریشن کی جانب سے فوری انہیں پورا کیا گیا۔ لاہور میں لگائے جانے والے تربیتی کیمپ میں قومی کھلاڑیوں نے جس طرح کی ٹریننگ کی ہے امید ہے کہ ٹورنامنٹ میں اچھے نتائج ملیں گے۔ موجود ٹیم کے کھلاڑی ٹورنامنٹ کے لیے روانگی سے قبل کافی پر عزم تھے کہ وہ اس مرتبہ ٹائٹل جیت کر واپس آئیں گے۔ 24 سال بعد ٹائٹل اور عالمی کپ تک رسائی پاکستان ہاکی کے روشن مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ کا آغاز 1982ءکو ہوا تھا جس کی افتتاحی ایونٹ پاکستان میں کھیلا گیا تھا۔ میزبان پاکستان ٹیم نے ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھارت کو چار صفر سے مات دیکر پہلا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جبکہ 1985ءاور 1989ءمیں منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ میں بھی پاکستان ٹیم نے کامیابی حاصل کر کے مسلسل تین مرتبہ ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ جس کے بعد ہونے والے پانچ ٹورنامنٹ میں سے قومی ٹیم تین میں دوسرے جبکہ ایک ٹورنامنٹ میں تیسرے نمبر پر رہی۔ چار سال قبل 2009ءمیں منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ میں پاکستان ٹیم کو فائنل میں کوریا کے ہاتھوں ایک صفر سے مات کی وجہ سے دوسری پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ 2007ءکا ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ پاکستان ٹیم کے لیے انتہائی مایوس کن رہا تھا جس میں پاکستان ٹیم کی چھٹی پوزیشن آئی تھی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ نے نوائے وقت کے ساتھ خصوصی گفتگو میں بتایا کہ فیڈریشن کاکام ہے کہ ٹیم اور کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ قومی ٹیم کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے قبل ہاکی ورلڈ لیگ میں کھلاڑیوں نے ورلڈ کپ 2014ءتک رسائی کا ایک آسان موقع گنوا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ کے لیے قومی ٹیم کے ممکنہ کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ لگایا گیا تو بہت ساری تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا تاہم میں نے اس کی پروا کیے بغیر ٹیم مینجمنٹ کے تمام فیصلوں کو تسلیم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پہلی مرتبہ ٹیم مینجمنٹ کو بااخیتار کیا ہے اس کے کسی فیصلے میں فیڈریشن نے مداخلت نہیں ہے جس کی وجہ ہے کہ ٹیم مینجمنٹ سے ہی کھلاڑیوں سے رزلٹ حاصل کرنے ہیں اگر ہم بار بار ان کے کام میں مداخلت کرینگے تو اچھے نتائج نہ آنے کی صورت میں ہم پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوگی۔ سلمان اکبر سمیت ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی کھیل کی ترقی کے لیے ایشیا کپ جیت کو وطن واپس آئیں۔
پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ اختر رسول کا کہنا تھا کہ مینجمنٹ سے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی ٹورنامنٹ سے پہلے مکمل فٹ ہو جائیں جس کے لیے فزیکل ٹرینر کی بھی خدمات حاصل کی گئی ہیں جنہوں نے لاہور کے تربیتی کیمپ میں انتہائی محنت کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ میں صرف اور صرف جیت کے لیے شریک ہو رہے ہیں۔ پاکستان ٹیم ٹورنامنٹ میں کسی حریف ٹیم کو کمزور تصور نہیں کرئے گی بلکہ ہر میچ میں پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترا جائے گا۔
کوچ اجمل خان لودھی کا کہنا تھا کہ تمام کھلاڑی مکمل فٹ ہیں اگر گیم پلان کے تحت کھیلے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ٹیم کے لیے ایشیا کپ جیتنے کا شاندار موقع ہے۔ سینئر اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کچھ کر دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پاکستان ہاکی ٹیم کے فزیکل ٹرینر اولمپیئن رانا غضنفر علی کا کہنا تھا کہ ہاکی ورلڈ لیگ کے مقابلے میں ایشیا کپ میں شرکت کرنے والی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کا فٹنس لیول بہت اچھا ہے امید ہے کہ ٹیم کی موجودہ فزیکل فٹنس ٹورنامنٹ میں اہم کردار ادا کرئے گی۔