اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ”عمر اکمل کی بیماری“

حافظ محمد عمران
دورہ ویسٹ انڈیز کے لئے قومی ٹیم میں جن کھلاڑیوں کی واپسی ہوئی ان میں عمر اکمل بھی شامل تھے۔ کافی عرصہ سے ٹیم کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے ان پر پرفارمنس کے حوالے سے شدید دباو¿ تھا۔ وکٹ کیپنگ کی اضافی ذمہ داری کے باعث ان کے لئے یہ دوہرا امتحان تھا مگر عمر اکمل اس امتحان میں سرخرو ٹھہرے۔ انہوں نے بیٹنگ میں عمدہ پرفارمنس کے ساتھ ساتھ اچھی وکٹ کیپنگ بھی کی۔ دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد کیریبین لیگ کا آغاز ہوا تو عمر اکمل نے اس میں بھی اپنی شاندار فارم کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے کئی عمدہ اننگز کھیلیں۔ ان کی بہترین فارم اور پرفارمنس سے یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ زمبابوے کے دورہ کے لئے انہیں ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ ٹیم میں بھی جگہ دی جائے گی تاکہ وہ اپنا اعتماد پوری طرح بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں مگر پھر اچانک پی سی بی کے میڈیا ونگ نے ایک خبر ”بریک“ کی کہ عمر اکمل انجری کا شکار ہوگئے ہیں اور دورہ زمبابوے کے لئے انہیں شامل نہیں کیا جا رہا۔ یہی نہیں سوشل میڈیا پر پی سی بی کے میڈیا ونگ کی طرف سے ایسی خبریں بھی پھیلائی گئیں کہ عمر اکمل کسی پراسرار بیماری کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کا کیریئر ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا ہے۔
کیربیئن لیگ کھیلنے کے بعد عمر اکمل وطن واپس لوٹے تو ائرپورٹ پر ہی انہوں نے اپنے خلاف پھیلائی جانے والی ”افواہوں“ کی تردید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں اور اپنی ہیلتھ رپورٹس ساتھ لے کر آئے ہیں۔ نیز عمر اکمل نے پریس کانفرنس میں حقائق بتانے کا بھی اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے بعد پی سی بی حکام نے فوری طور پر عمر اکمل کو کیمپ میں بُلا کر معاملے کو دبانے کی کوشش کی اور بعدازاں میڈیکل رپورٹس اور دیگر بہانے بنا کر عمر اکمل کو دورہ زمبابوے سے روک دیا گیا۔ پاکستان کی کرکٹ میں سیاست، لابی ازم اور پسند نہ پسند کا عمل دخل کتنا زیادہ ہے عمر اکمل کا معاملہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ ایک ایسا کھلاڑی جو پرفارمنس دے رہا ہے اور بھرپور فارم میں ہے اسے سیاست اور ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سارے معاملے میں ٹی ٹونٹی کپتان محمد حفیظ کا اہم کردار رہا ہے۔ محمد حفیظ اور عمر اکمل کے درمیان کیریبین لیگ کے دوران تلخ کلامی ہوئی تھی جس کا خمیازہ عمر اکمل کو ٹیم سے بے دخلی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ عمر اکمل پہلے کھلاڑی نہیں ہیں جنہیں ذاتی عناد اور سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے بلکہ ان سے قبل دیگر کئی کھلاڑی بھی پاکستان کرکٹ میں لابی ازم اور سیاست کے باعث کیریئر ختم کروا چکے ہیں۔ اس کی حالیہ مثال آل راو¿نڈر عبدالرزاق ہیں جنہیں محمد حفیظ کے ساتھ جھگڑے کے باعث ٹیم سے باہر ہونا پڑا۔ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا کردار بھی انتہائی افسوس ناک رہا ہے۔ پی سی بی حکام خود سیاست بازی اور لابی ازم کو فروغ دیتے ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹرز اور منیجرز کا کام ہی سیاست کرنا رہ گیا ہے۔ کرکٹ کی بہتری کے لئے تو کوئی کام نہیں کیا جاتا اُلٹا ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ اور کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دی جاتی ہے۔ پی سی بی کے ایسے ہی اقدامات سے ملک میں کرکٹ کا کھیل تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی بھی شاید تمام تر توجہ اپنے عہدے کی معیاد میں اضافہ پر مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ کرکٹ کے معاملات کس طرف جا رہے ہیں اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ عمر اکمل ٹیلنٹڈ کرکٹر ہیں اس وقت بھرپور فارم میں اور پرفارمنس بھی دے رہے ہیں۔ انہیں صرف سیاست اور لابی ازم کے باعث ٹیم سے باہر بٹھانا سراسر زیادتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پی سی بی ایک شفاف سسٹم قائم کرے جس میں غیر جانبداری سے صرف اور صرف پرفارمنس کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو منتخب کیا جائے۔