قومی اسمبلی : میچ فکسنگ ۔۔ چیئرمین پی سی بی‘ ٹیم مینجر‘ واجد شمس الحسن کی برطرفی کا مطالبہ

اسلام آباد (لیڈی رپورٹر + نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں منگل کو میچ فکسنگ کے معاملے میں چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ اور مینجر قومی کرکٹر اور لندن میں ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو ان کے عہدوں سے برطرف کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے حنیف عباسی‘ شیریں ارشد خان‘ نثار تنویر‘ نزہت صادق اور پرویز ملک کی جانب سے توجہ دلاﺅ نوٹس پر برطانیہ میں کچھ پاکستانی کرکٹروں کی جانب سے کی گئی سپاٹ فکسنگ سے متعلق دلائی۔ ن لیگ کے ارکان نے چیئرمین بورڈ اعجاز بٹ اور مینجر سمیت واجد شمس الحسن کو ان کے عہدوں سے برخاست کرنے کا مطالبہ کیا اور واجد شمس الحسن کی تیار کردہ رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر کھیل اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ ہمارے سفیر نے صحیح طریقے سے اپنا مو¿قف واضح کیا ہے۔ ان کی رپورٹ ایوان میں لائیں گے۔ سری لنکن حملے کی رپورٹ کمیٹی کے پاس ہے انہوں نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے پی سی بی اپنی کوتاہیاں دور کرے ورنہ ایکشن لیں گے۔ نیا آئین لایا جائے جسے آئندہ اجلاس میں منظور کرکے وزارت قانون کو بھجوائیں گے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ نے رپورٹ تیار کر لی ابھی ہمیں نہیں ملی‘ عامر‘ آصف‘ سلمان بٹ اور وہاب ریاض سے تفتیش جاری ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے معاملے پر پوری قوم کی بدنامی ہو رہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں کمزوریاں موجود ہیں۔ اس کو قبل از وقت ایسے کھلاڑیوں کے خلاف ایکشن لینا چاہئے تھا۔ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے جو رپورٹ بھیجی ہے وہ ایوان میں پیش کی جائےگی اور اگر کوئی کھلاڑی سٹے بازی میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔ وزیر کھیل نے کہاکہ کرکٹرز کے اثاثوں کی چھان بین پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ آسٹریلیا میں کوئی میچ فکسنگ نہیں ہوئی تھی۔کرکٹ بورڈ کے آئین کو تابع کر رکھا ہے اسے نظریہ ضرورت کے تحت استعمال کر رہے ہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ توجہ دلاو نوٹس پر تقاریر نہیں ہونی چاہئیں اس حوالے سے تحریک التواءلائی جائے۔ ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے اس پر تحریک التواءپر بھی بات ہونی چاہئے۔ وزیر قانون بابر اعوان نے کہاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئین بنانے کی ضرورت ہے۔ حنیف عباسی نے کہاکہ قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کو ہٹانے کی سفارش کی تھی ابھی تک کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں ہوا لہذا قائمہ کمیٹی برائے کھیل کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔ بی بی سی کے مطابق حنیف عباسی نے یہ معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپاٹ فکسنگ میں مبنیہ طور پر ملوث کرکٹرز نے پیسوں کی خاطر قومی غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ شیریں ارشد کا کہنا تھا کہ ان کرکٹرز کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے۔ نزہت صادق نے کہا کہ تحقیق کی جائے کہ پاکستان کرکٹر بورڈ نے ان کھلاڑیوں کو ٹیم میں دوبارہ شامل کیوں کیا جنہیں بورڈ چند ماہ پہلے ہی پابندی اور جرمانے جیسی سزائیں دے چکا تھا۔