ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ …… میگا ایونٹ میں روائتی حریف کے خلاف خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ …… میگا ایونٹ میں روائتی حریف کے خلاف خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا

آئی سی سی ٹی ٹونٹی  ورلڈ کپ کے پانچویں  ایڈیشن کے مین راونڈ کا آغاز پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ سے ہو گیا ہے۔ کوالیفائنگ راونڈ اور وارم اپ میچز کے بعد مین راونڈ کے آغاز سے ہی کرکٹ کا بخار اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے خاص طور پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ جادو سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ کھلاڑیوں سے زیادہ شائقین کرکٹ اپنی ٹیموں کی کامیابی کے لیے دعائیں کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان ٹیم نے ابتدائی میچ میں روایتی حریف کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی شائقین کو انتہائی مایوس کیا ہے۔ پاکستان ٹیم کی ناکامی کی وجوہات بیٹنگ کی شعبہ کی ناکامی ہے ہمارے بلے باز بھارتی باولرز کے پریشر میں آ گئے۔ میچ کے آغاز میں ہی کامران اکمل رن آوٹ ہو گئے جنہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف پریکٹس میں میں نصف سنچری سکور کی تھی۔ کامران اکمل کا رن آوٹ ہونا ٹیم کو ابتدا میں ہی منگا پڑا تاہم کپتان محمد حفیظ زیادہ دیر تک وکٹ پر نہ ٹھہر سکے انہوں نے 15 کے انفرادی سکور پر اپنی وکٹ گنوا دی۔ احمد شہزاد سے توقع تھی کہ وہ پاکستان ٹیم کے لیے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرینگے لیکن وہ بھی 22 کے سکور پر سپن باولر کو بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں سٹمپ آوٹ ہو گئے۔ تین وکٹیں 47 کے سکور پر گرنے کے بعد چوتھی وکٹ کی شراکت میں شعیب ملک اور عمر اکمل نے 50 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی جس کی بنا پر قومی ٹیم قدرے بہتر سکور کرنے میں کامیاب ہو سکی۔ جواب میں بھارتی ٹیم جس کے پاس آئی پی ایل کھیلنے کا وسیع تجربہ ہے کے سامنے 131 رنز کا ہدف کوئی بڑا نہیں تھا۔ بھارتی ٹیم نے ہدف صرف تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کر کے میچ سات وکٹوں سے جیت لیا اور پاکستان ٹیم کا میگا ایونٹ میں پہلی بار جیتنے کا خواب چکنا چور کر دیا۔ پاکستانی ٹیم کے ناقص کھیل پر شائقین کرکٹ کی طرح سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور سابق چیئرمین پی سی بی بھی مایوس ہیں تاہم اچھی بات یہ ہے کہ تمام افراد نے پاکستان ٹیم کی ہار کو آخری ہار قرار نہیں دیا بلکہ کھلاڑیوں کے مورال کو بلند کرنے کی تجاویز دی ہیں۔ اگلے میچز میں پاکستان ٹیم کو جارحانہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابیاں حاصل کرنا ہونگی۔ سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود کا کہنا تھا کہ پاکستانی بلے بازوں نے بنگلہ دیش کی بیٹنگ وکٹ پر 130 سکور کم کیا تھا، پاکستان ٹیم اگر بھارت کے خلاف 170 سکور کرتی تو ممکن تھا کہ بھارتی کھلاڑی جلد بازی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئوٹ ہو جاتے۔ بھارتی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کا وسیع تجربہ ہے جن کے سامنے 131 رنز کا ہدف کوئی مشکل نہیں بھا۔ پھر بھی پاکستانی بائولرز کافی حد تک میچ کو آخری لمحات تک لے جانے میں کامیاب رہے۔ اگلے میچز میں غلطی کی گنجائش نہیں رہی ہے۔ ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا کی ٹیمیں آسان نہیں ہیں، ان کے خلاف کامیابی کیلئے آل آئوٹ جانا ہو گا۔ سابق کپتان عامر سہیل کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کا ٹوٹل سکور کم تھا جس کی بنا پر شکست پہلے ہاف میں ہی ہو گئی تھی۔ بھارت کی ٹیم نے ٹاس جیت کر 30 فیصد میچ اپنے حق میں کر لیا تھا۔ اگر پاکستانی بلے باز بہتر انداز میں میچ کا آغاز کرتے تو شاید رزلٹ کچھ اور ہوتا۔ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان میچ ہمیشہ ہی کانٹے دا ہوتا ہے جس میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے اعصاب پر قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان کی ابتدائی تین وکٹیں جلد گرنے سے قومی کھلاڑیوں پر پریشر بڑھ گیا تھا، بعد میں آنے والے کھلاڑیوں نے سکو کرنا چاہا تو وقت گذر چکا تھا۔ اس کے باوجود صہیب مقصود اور عمر اکمل نے کچھ بہ تر کھیل کر 130 رنز تک سکور کو پہنچایا۔ سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف ایک شکست کے بعد کھلاڑیوں کا مورال گر چکا ہے، کھلاڑیوں کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اگلے میدز میں غلطیوں پر قابو پایا جا سکے۔ کپتان محمد حفیظ کو اگلے میچز میں صہیب مقصود اور شاہد آفریدی کو بہتر استعمال کرنا ہو گا۔ بھارت کے خلاف کھیلے جانے والے میچ میں وکٹ آسان نہیں تھی۔ اگلے میچز کے لئے ٹیم کا مورال بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، ایک شکست سے ٹورنامنٹ ختم نہیں ہوا۔ شرجیل خان کو موقعہ دیا جانا چاہئے تھا، کامران اکمل نے مایوس کیا۔ سابق کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف میگا ایونٹ کے ابتدائی میچ میں ہونے والی شکست سے سبق سیکھ کر اگلے میچز کیلئے مضبوط حکمت عملی تیار کرنا ہو گی، جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ ٹی ٹونٹی کے مختصر فارمیٹ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان چھٹا ٹاکرا تھا۔ بھارت نے چوتھی مرتبہ کامیابی اپنے نام کی جبکہ پاکستان ٹیم نے صرف ایک بھارت کو ہار سکی ہے۔  ٹی ٹونٹی کے میگا ایونٹ میں پاکستان ٹیم کا بھارت کو ہرانے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ تین میچ سے دو میچوں میں بھارت نے کامیابی اپنے نام کی جبکہ ایک میچ برابر رہا ہے۔ ٹورنامنٹ میں برقرار رہنے کے لیے پاکستان ٹیم کو اگلے میچز میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔ کرکٹ حلقوں  کا خیال ہے کہ پاکستان ٹیم  کی وارم اپ میچ میں پاکستان ٹیم کی جنوب یافریقہ کے ہاتھوں ہونے والی شکست کا اثر پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے میچ پر بھی پڑا۔ قومی کھلاڑی اہم میچ میں اپنا ردھم حاضل کرنے میں ناکام رہے۔
ٹی ٹونٹی ورلڈ کے لیے کوالیفائنگ راونڈ بھی گذشتہ روز مکمل ہو گیا ہے جس میں نیدر لینڈ نے ناقابل یقین میچ میں آئر لینڈ کو شکست دیکر مین راونڈ سے آوٹ کر دیا۔ کوالیفائنگ راونڈ کے اس گروپ میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی زمبابوے ٹیم بھی اگلے مرحلے میں رسائی حاضل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نیدر لینڈ نے مین راونڈ کے گروپ ون میں جبکہ بنگلہ دیش ٹیم نے اپنے گروپ  میں  ٹاپ  پوزیشن حاصل کرکے مین رائونڈ  کے گروپ ٹو میں رسائی حاصل کی جہاں پہلے  سے پاکستان، بھارت،  آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں شامل  ہیں۔ کوالیفائنگ  رائونڈ میں گروپ  بی کے آخری   لیگ  میچ میں نیدر لینڈ نے جاحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے آئر لینڈ کو شکست دیکر مین راونڈ کے گروپ ون میں جگہ بنا لی اور ٹیسٹ کرکٹ کا سٹیٹس رکھنے والی زمبابوے ٹیم کم اوسط پر مین راونڈ کے لیے کوالیفائی نہ کر سکی۔ گروپ بی  میں  نمبر  ون پوزیشن  حاصل کرنے والی نیدر لینڈ ٹیم مین رائونڈ  میں گروپ ون میں  سری لنکا،  جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے پول میں شامل ہو گئی۔ جونیئر ٹیم کو کسی ظور پر آسان نہیں لیا جانا چاہیے کیونکہ مختصر فارمیٹ کی کرکٹ میں کوئی بھی ٹیم آسان نہیں ہوتی کسی بھی وقت اپ سیٹ کر سکتی ہے۔