قومی سینئر ویٹ لیفٹنگ چیمپیئن شپ …… محمد شہزاد کا 14 سال بعد نیا قومی ریکارڈ

قومی سینئر ویٹ لیفٹنگ چیمپیئن شپ …… محمد شہزاد کا 14 سال بعد نیا قومی ریکارڈ

پاکستان ویٹ لیفٹنگ فیڈریشن کے زیر اہتمام 60 ویں قومی سینئر ویٹ لیفٹنگ چیمپیئن شپ 2014ء کا انعقاد لاہور میں ہوا جس میں دفاعی چیمپیئن پاکستان واپڈا نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا۔ چیمپیئن شپ کی اہم بات 14 سال بعد بننے والے تین نئے قومی ریکارڈ تھے جو واپڈا کے محمد شہزاد کے نام رہے۔ محمد شہزاد نے سنیچ میں 111 کلو گرام ، کلین اینڈ جرک میں 141 کلو گرام وزن اٹھا جبکہ مجموعی طور پر 252 کلو گرام وزن کے ساتھ تین نئے عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ چیمپیئن شپ کے پہلے روز واپڈا کے کھلاڑیوں چھائے رہے جنہوں نے چار میں سے تین کیٹگریز 56، 62 اور 69 کلو گرام کلاس میں گولڈ میڈل اپنے نام کیے جبکہ 77 کلو گرام کلاس میں پنجاب کے نام گولڈ میڈل رہا۔ پہلے روز واپڈا کی ٹیم 45 پوائنٹس کے ساتھ پہلے، پنجاب کی ٹیم 37 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے، ریلوے کی ٹیم 26 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے جبکہ ایچ ای سی ٹیم 20 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر براجمان تھی۔ دوسرے روز بھی چار کیٹگریز جن میں 85، 94 ، 105 اور +105 کلو گرام وزن کے مقابلے ہوئے جن میں سے تین کیٹگریز میں واپڈا کے کھلاڑیوں نے گولڈ میڈل اپنے نام کر کے چیمپیئن شپ میں مجموعی طور پر گولڈ میڈل کی تعداد 6 کر لی۔ دوسرے روز ریلوے کے ویٹ لیفٹرز کا کھیل قابل ستائش نہیں رہا جو 26 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ وکٹری سٹینڈ تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ دوسرے روز ہونے والے مقابلوں میں ایچ ای سی اور پنجاب کے ویٹ لیفٹروں نے قدرے بہتر کھیل پیش کیا۔ پاکستان واپڈا نے چیمپیئن شپ میں مجموعی طور پر 96 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی جس میں چھ گولڈ اور ایک برانز میڈل شامل تھا۔ ایچ ای سی نے 59 پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی جس میں ایک گولڈ، تین سلور اور ایک برانز میڈل شامل تھا۔ پنجاب کی ٹیم نے 57 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی جس کے حصے میں ایک گولڈ، دو سلور اور تین برانز میڈل آئے۔ چیمپیئن شپ کے آخری روز بھی واپڈا کے ویٹ لیفٹر چھائے رہے جنہوں نے چار کیٹگریز میں سے تین میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ 85 کلو گرام کلاس میں واپڈا کے حبیب اصغر نے پہلی، ایچ ای سی کے علی شان نے دوسری جبکہ پنجاب کے محمد عاصم نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔ 94 کلو گرام کلاس میں بھی واپڈا کے عثمان امجد راٹھور نے پہلی، پنجاب کے انس جاوید نے دوسری اور ریلوے کے سبطین نے  تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 105 کلو گرام کلاس میں واپڈا کے ہارون شوکت پہلے، ریلوے کے ساجد رسول دوسرے اور طاہر بٹ تیسرے نمبر پر رہے۔ 105 کلو گرام سے زائد ویٹ کیٹگری میں ایچ ای سی کے مستقیم بٹ پہلے، عبداﷲ بٹ نے دوسرے جبکہ ریلوے کے عدیل شوکت تیسرے نمبر پر رہے۔ تین روز چیمپیئن شپ کے پہلے روز  واپڈا سے تعلق رکھنے والے محمد شہزاد نے 56 کلو گرام کلاس میں نیا قومی ریکارڈ قائم کیا۔ چیمپیئن شپ کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عارف حسن تھے جنہوں نے کامیاب کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر مختلف کھیلوں کی تنظیموں کے صدور و سیکرٹریز بڑی تعداد میں موجود تھے۔
پاکستان ویٹ لیفٹروں نے قومی چیمپیئن شپ میں جس طرح کے کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اگر کھلاڑی مزید محنت کریں تو ایشیا لیول پر پاکستانی کھلاڑی ملکی نام روشن کر سکتے ہیں اس کے لیے ان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کی منفی سیاست کی وجہ سے پاکستان میں ویٹ لیفٹنگ کی بھی دو فیڈریشن بن چکی ہیں تاہم اصل فیڈریشن اسی کو مانا جا رہا ہے جسے آئی او سی کی منظور شدہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن قبول کر رہی ہے۔ محمد شہزاد نے جس طرح 56 کلو گرام کلاس میں نئے قومی ریکارڈ قائم کیے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں بین الاقوامی مقابلوں کے لیے تیار کیا جائے تاکہ میڈل پاکستان کا مقدر بن سکیں۔ کامن ویلتھ گیمز کے لیے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اپنی دیستے کو حتمی شکل دے رہی ہے امید ہے محمد شہزاد سمیت چیمپیئن شپ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ویٹ لیفٹرز کو موقع دیا جائے گا۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عارف حسن اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ پاکستانی ویٹ لیفٹرز کے کھیل کا معیار بین الاقوامی کھیل کے برابر ہوتا جا رہا ہے اگر ایسا ہے تو کھلاڑیوں کو لازمی طور پر موقع ملنا چاہیے۔