بریگیڈیئر منظور حسین عاطف میموریل ہاکی ٹورنامنٹ …… پی آئی اے کے نام

بریگیڈیئر منظور حسین عاطف میموریل ہاکی ٹورنامنٹ …… پی آئی اے کے نام

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی موجودہ انتظامیہ حکومت کی جانب سے فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے شدید پریشان ہے۔ فنڈز کی کمی کے باعث پاکستان ہاکی ٹیم اذلان شاہ کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر سکی ہے اور مستقبل میں ایشیئن گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں بھی اس کی شرکت سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ کھلاڑیوں نے اگر بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کی نمائندگی ہی نہیں کرتی تو پھر وہ کب تک اس کھیل کے ساتھ وابستہ رہیں گے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اولمپیئن اختر رسول اور سیکرٹری اولمپیئن رانا مجاہد نے حالات کو بھانپتے ہوئے قومی سطح پر زیادہ سے زیادہ مقابلوں کے انعقاد کا پروگرام بنا لیا ہے جس میں سابق نامور کھلاڑیوں اور آفیشلز جنہوں نے قومی کھیل کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دے رکھی ہیں۔ ان کے نام پر ہاکی ٹورنامنٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں پہلا ٹورنامنٹ بریگیڈیئر (ر) منظور حسین عاطف کے نام سے سرگودھا میں کرایا گیا۔ سرگودھا ہاکی سٹیڈیم جہاں نئی ٹرف بچھائی گئی ہے۔ اس ٹورنا منٹ کے انعقاد سے اس کا بھی افتتاح ہو گیا ہے۔ ٹورنامنٹ کا فائنل میچ پی آئی اے اور واپڈا (بی) کے درمیان کھیلا گیا جس میں پی آئی اے ٹیم نے 2 کے مقابلے 4 گول سے کامیابی سمیٹی۔ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری اولمپیئن رانا مجاہد تھے۔ رانا مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے کہ غیرملکی ٹیموں کے ساتھ باہمی سیریز کے مقابلوں کا انعقاد کرایا جائے۔ اس سلسلہ میں مختلف ممالک کو خط بھی لکھے گئے ہیں۔ رانا مجاہد غیرملکی ٹیموں کو پاکستان لانے میں کب کامیاب ہوتے ہیں اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ وفاقی وزارت کھیل کے وزیر ریاض حسین پیرزادہ کو شاید موجودہ ہاکی فیڈریشن کے عہدیداران پسند نہیں اور وہ ہر موقع پر پاکستان ہاکی فیڈریشن سے سابق دور میں ملنے والے فنڈز کا حساب مانگتے رہتے ہیں۔ 2013-14ء کے مالی سال کو ختم ہونے میں صرف 3 ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ پاکستان سپورٹس بورڈ اور وفاقی وزارت کھیل کی ہٹ دھرمی کے باعث کسی بھی کھیل کی تنظیم کو سالانہ گرانٹ جاری نہیں ہو سکی ہے۔ دونوں جانب کے منفی رویے کی وجہ سے کئی کھیلوں کی تنظیمیں پی ایس بی سے اپنا الحاق ختم کرنے کے بارے سوچنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے جس کے تمام اخراجات کا دارومدار حکومتی گرانٹ پر ہوتا ہے۔ سابقہ دور میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ملنے والی گرانٹ کا آڈیٹر جنرل آف پاکستان آڈٹ کرا جا چکا ہے جس میں کئی باتوں کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مخالفین کی جانب سے فنڈز کے حوالے سے منظرعام پر آنے والے بلند وبانگ دعوئوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ وفاقی وزارت کھیل کو بھجوائی جانے والی رپورٹ سے اگر وہ خوش نہیں ہیں یا انہیں اس پر یقین نہیں ہے تو آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دفتر میں آڈٹ رپورٹ کی کاپی موجود ہے جو وہاں سے منگوائی جا سکتی ہے۔ ریاض حسین پیرزادہ اپنے ’’دوست‘‘ کو خوش کرنے کی خاطر قومی کھیل کو نقصان نہ پہنچائیں بلکہ اصل حقیقت سے آشنا ہوں۔ امید ہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے ضرور کوئی احکامات جاری کریں گے۔ دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن سے ناراض اولمپیئنز قومی کھیل کے روشن مستقبل کیلئے ایک ہو گئے ہیں۔ ناراض اولمپیئنز کے ایک وفد جس میں اصلاح الدین صدیقی، شہناز شیخ، اختر اسلام، ایاز محمود شامل تھے نے پی ایچ ایف ہیڈکوارٹر لاہور میں صدر فیڈریشن اختر رسول اور سیکرٹری رانا مجاہد سے ملاقات کی۔ اختر رسول اور رانا مجاہد نے ناراض اولمپیئنز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا جو بیڑا اٹھایا تھا اس میں وہ کامیاب ہو گئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی وزارت کھیل کی منفی سیاست کی وجہ سے پاکستان ہاکی ٹیم جن بین الاقوامی ٹورنامنٹس سے آئوٹ ہوئی ہے اس میں شرکت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سابقہ انتظامیہ جس میںقاسم ضیا اور آصف باجوہ کے ویژن کی وجہ سے ایشیا میں پاکستان ہاکی ٹیم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی تھی۔ مستقبل میں ان کے پلان کو جاری رکھا گیا تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ورلڈ میں بھی پاکستان ہاکی کا نام پھر سے زندہ ہو جائے گا۔ ناراض اولمپیئنز فیڈریشن میں آئے ہیں۔ امید ہے کہ عہدے حاصل کرنے کے بعد وہ پوری نیت سے قومی کھیل کی ترقی کیلئے کام کرینگے۔