قومی کرکٹ ٹیم متحدہ عرب امارات سے وطن واپس پہنچ گئی

لاہور(سپورٹس رپورٹر) نیوزی لینڈ کیخلاف امارات میں ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی وطن واپسی ہو گئی ہے۔ قومی ٹیم تقریباً اڑھائی ماہ تک امارات میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کھیلنے میں مصروف رہی۔ قومی ٹیم دونوں ممالک کے ساتھ کھیلی جانے والی سیریز میں سے صرف آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہو سکی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف آخری پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں بھی بلے باز دھوکے باز نکلے جنہوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ امارات میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں ابھرتے ہوئے نوجوان حارث سہیل نے سب سے زیادہ 235 رنز بنائے۔ جس میں دو نصفر سنچریاں بھی شامل ہیں۔ آل راونڈر شاہد آفریدی پانچ میچوں میں 205 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ احمد شہزاد نے ایک سنچری اور ایک نصف سنچری سے 195، یونس خان نے ایک سنچری کے ساتھ 160 جبکہ محمد حفیظ نے 118 رنز بنائے۔ عمر اکمل کو تین میچوں میں موقع دیا گیا جس میں وہ 36 رنز بنا سکے۔ باولنگ کے شعبہ میں محمد عرفان 248 رنز کے عوض 9، شاہد آفریدی نے 199 رنز دیکر 8 جبکہ حارث سہیل نے 217 رنز دیکر 6 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔پی سی بی نے اگلے سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہونے والے عالمی کپ ٹورنامنٹ کے کھلاڑیوں کو فائنل کرنے کے لیے ابتدائی 30 رکنی سکواڈ کے تمام کھلاڑیوں کو رواں ماہ کے آخر میں منعقد ہونے والے پٹینگولر کپ ون ڈے ٹورنامنٹ میں شرکت کر لازمی قرار دیا ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے 9 سینئر کھلاڑیوں نے رواں ماہ منعقد ہونے والے پٹینگولر کپ ون ڈے ٹورنامنٹ میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کھلاڑیوں کی معذرت کو قبول کرتے ہوئے آرام کرنے کا مشورہ دیدیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے معتبر ذرائع کے مطابق آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف امارات میں تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والی سیریز میں شامل 7 سے 9 قومی کھلاڑیوں نے تھکاوٹ کا بہانہ بنا کر پٹینگولر کپ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی شہریار خان سے درخواست کی تھی کہ انہیں ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کی ٹیموں میں شامل نہ کیا جائے، کیونکہ ڈھائی ماہ سے انٹرنشنل سرگرمیوں میں مصروف رہنے کی بنا پر وہ اپنے اہل خانہ کو وقت نہیں دے پائے ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ فروری مارچ میں ہونے والے عالمی کپ ٹورنامنٹ سے قبل کچھ آرام کرنا چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض کھلاڑیوں نے ورلڈ کپ سے قبل ہوم گراونڈ پر ملنے والے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں اپنی فارم کو بحال کرنے کے لیے ٹورنامنٹ میں شریک ہو رہے ہیں تاکہ اچھی کارکردگی دکھا کر سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کا اعتماد حاصل کیا جا سکے۔