اسپاٹ فکسنگ کیس: خالد لطیف نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا

لاہور ( اسپورٹس رپورٹر) پی سی بی کے تین رکنی ٹربیونل نے پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ کیس میں خالد لطیف کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع کردی، خالد لطیف کے وکیل بدر عالم نے ٹربیونل کے اختیار کوچیلنج کردیا جس پر ان کی پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی سے تلخ کلامی ہوگئی۔ گزشتہ روزجرح کے آغاز پر خالد لطیف کے دبئی میں ہونے والے انٹر ویوکی ریکارڈنگ سنائی گئی ۔سماعت کے بعد خالد لطیف کے وکیل بدر عالم نے الزام عائد کیا کہ پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے ان کو بلیک میلر کہا ہے ، خالدلطیف شرجیل خان کو نہیں بلکہ شرجیل خان خالدلطیف کو بکی کے پاس لے کر گئے تھے ۔انہوں نے کہاکہ سماعت کے دوران ہم سے بدسلوکی کی گئی جس پر ہم احتجاجاً سماعت میں شامل ہورہے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ ٹربیونل نے خالد لطیف کا دس فروری کو دبئی میں لئے گئے انٹرویو کی ریکارڈنگ چلائی تو اس دوران جب بھی خالد لطیف کو ئی بات نہیں کرنا چاہتے تو کیس کے تفتیشی افسر اوربات شروع کردیتے۔ خالد نے اپنے انٹرویو میں کہاکہ بکی نے جو آفر کی وہ میں نے قبول نہیں کی کیو نکہ میں اپنا کیرئیردائو پر نہیں لگاناچاہتا۔ اگر آپ کہیں تو میں بکی کو فون کر کے بلاتا ہوں لیکن کرنل صاحب نے آگے بات کرنے نہیں دی، یہ سب ریکارڈ شدہ گفتگو ہے۔انہوں نے پی سی بی کے قانونی مشیر پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مستقل خالد لطیف کی باتوں کو کاٹا اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے نہیں دیا۔ بدر عالم نے کہا کہ پاکستان کے قانون میں الزام لگانے والا ہی ثبوت لاتا ہے لیکن پی سی بی کے ٹریبونل کا کوڈ کہتا ہے کہ پی سی بی الزام لگائے گا اور کھلاڑی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑے گی۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ خلاد لطیف پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا ہے جبکہ میچ فکسنگ اس وقت ہوتی ہے جب آپ میچ کھیلیں حالانکہ خالد لطیف تو میچ کھیلا ہی نہیں تو پھر میچ فکسنگ کیسے کر لی۔انہوں نے مزید کہاکہ حال ہی میں عمر امین نے اعتراف کیا کہ وہ تین سال سے یوسف نامی بکی کو جانتے ہیں اور وہ ایک جنٹلمین آدمی ہیں اور بکی سے دبئی میں کئی مرتبہ ملے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جو بہت بڑا تضاد ہے۔ پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا تھا کہ خالد لطیف کے وکیل ٹربیونل کی کاروائی کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں معلوم ہی نہیں وہ کیا کیس لڑ رہے ہیں وہ جسے میچ فکس کہہ رہے ہیں درحقیقت وہ سپاٹ فکسنگ کا کیس ہے۔ان کا کہنا تھاکہ خالد لطیف نے ٹربیونل کے سامنے جھوٹ بولا اور وہ ایک سے زیادہ مرتبہ بکیز سے ملے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ خالد لطیف کے پاس سے بکی کی دی ہوئی گرپ برآمد ہوئی جسے انہوں نے بیٹ پر چڑھایا تھا اور اس بات کو تسلیم بھی کیا۔انہوں نے کہاکہ خالد لطیف کے وکیل نے سماعت کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی جس پر میں نے انہیں کہاوہ آپ ہمیں بلیک میل کررہے ہیں جسے انہوں نے دھمکی قرار دیدیا۔ جرح کے دوسرے روز ٹربیونل کے سامنے خالد لطیف کے مزید انٹر ویو اور ویڈیوز ٹربیونل کے سامنے پیش کی جائیں گی ۔