کوچ ملکی ہو یا غیر ملکی فرق نہیں پڑتا‘ کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چلے : شاہد آفریدی

لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان ٹیم کے آل راونڈر شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ کوچ ملکی ہو یا غیر ملکی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایسا ہونا چاہیے جو کھلاڑیوں کو ساتھ لیکر چل سکے۔ پاکستان ٹیم ایشیا کپ میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش جاتی ہے تو بورڈ بھی کھلاڑیوں کو بی پی ایل میں شرکت کی اجازت دے۔ قذافی سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کے متبادل اے ٹیم بنائی جائے جس میں 30 سے 35 کھلاڑیوں کا پول بنا کر انہیں مستقبل کے لیے تیار کیا جائے اگر سینئر ٹیم کے کسی کھلاڑیوں کو کوئی مسئلہ ہو تو ان کھلاڑیوں میں سے کسی کو موقع دیا جا سکے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کا ایک سسٹم نہ ہونے کی بنا پر ہمیں مسائل کا سامنا ہو رہا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ دو تین سال کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کا ایک ہی سسٹم رکھیں اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ لائی جائے۔ ہمارے ڈومیسٹک سسٹم اور کوئی بال استعمال ہوتا ہے جب کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ میں جا کر دوسرا بال ملتا ہے تو مسائل جنم لیتے ہیں باولرز کا گیند موو نہیں ہوتا۔ پاکستان ٹیم کی ون ڈے اور ٹی ٹونٹی ٹیم کا بہترین کمبینشن ہے، ایشیا کپ کھیلنے بنگلہ دیش جاتے ہیں تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کو بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں بھی کھیلنے کی اجازت دے۔ سینئر کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ ضروری کھیلنی چاہیے اس سے غلطیوں پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے جب بھی موقع ملے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنے ادارہ کی نمائندگی کرتا ہوں۔ اپنے والد کے نام پر کوہاٹ میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال بنا رہا ہوں، مستقبل میں پنجاب اور سندھ میں بھی اسی طرح کے ہسپتال بنانے کا ارادہ ہے۔