ورلڈ کپ کوالیفائنگ راونڈ........پاکستان میں انعقاد ممکن ہو سکے گا؟

چودھری محمد اشرف
کرکٹ پاکستان کا قومی کھیل نہیں ہے لیکن ملک میں سب سے زیادہ کھیلا اور پسند کیا جانے والا کھیل ہے جس کے شائقین کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے۔ ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ پاکستان ٹیم دنیا کی ہر ٹیم کو شکست سے دوچار کرئے۔ 2009ءسے پاکستان میں کسی قسم کی انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مالی نقصان بہت زیادہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کب بحال ہوگی اس کے بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین چودھری ذکاءاشرف نے دبئی میں منعقدہ اجلاس میں 2018ءمیں ہونے والی آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی میزبانی کی درخواست کر دی ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ نہیں بلکہ اس کے کوالیفائنگ راونڈ کی میزبانی حاصل کرنی کی کوشش کی ہے اس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو کتنی کامیابی ملتی ہے یہ آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔ کیونکہ ملک میں عام انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ ملک میں نئی حکومت کونسی بنتی ہے اور اس کے اولین ترجیح کیا ہوتی ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین چوہدری ذکاءاشرف نے گذشتہ روز آئی سی سی بورڈ اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر اس بات کا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کرکٹ گورننگ باڈی نے معاملہ ایگزیکٹو کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ اس پر مثبت فیصلہ سامنے آئے گا۔ چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دورے کے لئے کچھ اور ممالک سے بھی بات ہوئی لیکن اس سلسلہ میں ابھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ بعض ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے ابھی کسی ملک نے حامی نہیں بھری ہے۔ ایسے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو ابھی انتظام کرنا پڑے گا۔ چیئرمین پی سی بی جو دوسروں کے دلوں میں گھر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں امید ہے کہ اپنی کوششوں سے جلد غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کو پاکستان لانے میں کامیاب ہو جائیں گے تاہم وقتی طور پر پاکستانی کرکٹ شائقین کو انتظار کی سولی پر ہی لٹکنا ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ان دنوں بورڈ کے نئے آئین کی بحالی میں مصروف عمل ہیں جبکہ فوری طور پر قومی ٹیم کی بھی کوئی مصروفیت نہیں ہے۔ ان دنوں میں ایک بہترین موقع ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ جمہوری سیٹ اپ بحال کیا جائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے گذشتہ دنوں دبئی میں منعقدہ آئی سی سی بورڈ اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کی کاپی آئی سی سی صدر ایلن آئزک کو پیش کی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا آئین اس سے قبل حکومت پاکستان نے بھی منظور کر رکھا ہے۔ دبئی میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کے علاوہ قانونی مشیر تفضل رضوی بھی موجود تھے۔ پی سی بی کا نئے آئین کے بعد 2007ء کے آئین کو ختم کر دیا ہے جس میں حکومتی مداخلت کی بنا پر آئی سی سی کے چارٹر کی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔ چیئرمین پی سی بی چودھری ذکاءاشرف کا کہنا تھا کہ نیا آئین آئی سی سی کے چارٹر کے عین مطابق ہے اور اس کی تیاری میں شب و روز کی کاوشیں شامل ہیں اور اس نئے آئین سے پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کو نئی زندگی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشکل کام تھا جس کے لئے آئی سی سی اور کرکٹ کے ماہرین سے بھی مدد حاصل کی گئی۔ نیا آئین مکمل کرنے پر آئی سی سی کے صدر ایلن آئزک نے چوہدری ذکاءاشرف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پی سی بی کا ایک مثالی کارنامہ ہے جس کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس سے منسلک تمام ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس نئے آئین سے پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کو نیا رخ ملے گا اور نہ صرف چیئرمین کی تقریری کا عمل جمہوری ہو گا بلکہ بورڈ کے انتظامی معاملات چلانے میں پی سی بی کے خودمختاری بڑھنے سے حکومتی مداخلت بھی ختم ہو جائے گی۔ پی سی بی کے چیئرمین نے بورڈ کے آئین کی کاپی آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن کو بھی پیش کی اور ان سے نئے آئین سے متعلق اہم نکات پر گفتگو بھی کی۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے نیا آئین بنانے پر چوہدری ذکاءاشرف کی تعریف بھی کی۔ آئی سی سی بورڈ اجلاس میں پی سی بی کی جانب سے چیئرمین کے انتخاب کے لئے کی جانے والی آئینی تبدیلیوں کا خیر مقدم کیاگیا۔ آئی سی سی ہیڈ کوارٹر دبئی میں منعقدہ معمول کا دو روزہ بورڈ اجلاس گذشتہ روز ختم ہو گیا جس میں آئی سی سی کے امدادی پروگرام اور کرکٹ کے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔ آئی سی سی نے اپنے ارکان کے امدادی پروگرام کے تحت افغانستان کی قومی کرکٹ کا معیار بہتر کرنے کے لئے کابل میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے قیام کے لئے 4.22 ملین ڈالرز کی امداد کی منظوری دی گئی۔ بورڈ اجلاس میں ارکان کو اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے رکن ممالک کے ارکان کی اینٹی کرپشن ورکشاپ بارے بریفنگ دی جبکہ امپائرزاور آفیشلز کی کارکردگی، فنانس، آڈٹ، گورننس ریویو کمیٹی اور مختلف کرکٹ ایشوز بارے معمول کی بریفنگ دی گئی۔ آئی سی سی بورڈ نے ہدایات کی روشنی میں پی سی بی کے آئین میں چیئرمین کے انتخاب کو جمہوری بنانے اوراس میں حکومتی مداخلت کو کم کرنے کے لئے کی جانے والی تبدیلیوں کا خیر مقدم کیاگیا۔ اجلاس میں پی سی بی کی نمائندگی چیئرمین ذکاءاشرف نے کی۔ ایک طرف دبئی میں آئی سی سی بورڈ کا اجلاس جاری تھا تو دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف کی عالمی ثالثی عدالت میں کی جانے والی اپیلوں پر فیصلہ سنایا جا رہا تھا۔ عالمی ثالثی عدالت نے دونوں کھلاڑیوں کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی سزاوں کا بحال رکھا ہے۔ اب دونوں کھلاڑیوں کو اپنی سزائیں پوری کرنا پڑیں گی۔ سلمان بٹ نے عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے سزا کو برقرار رکھنے کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ سزا کا بڑا حصہ گذر گیا ہے انشااﷲ باقی سزا بھی پوری ہو جائے گی۔ سلمان بٹ جس طرح پر امید ہیں کہ ان کی انٹرنیشنل کرکٹ یمیں واپسی ہو جائے گی ایسا لگتا ہے یہ ایک دن ہو جائے گا کیونکہ پاکستان کرکٹ میں جس طرح کا ٹیلنٹ سامنے آ رہا ہے سلمان بٹ ایک مرتبہ پھر ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دونوں کھلاڑیوں کی سزاوں کے حوالے سے چیئرمین پی سی بی چوہدری ذکاءاشرف نے کہا کہ سپاٹ فکسنگ کیس میں سزا پانے والے کرکٹرز کو اپنی سزا تو پوری کرنا ہی ہو گی۔ پھر دیکھیں گے کہ ان کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس طرح سزا ملنے سے باقی کرکٹرز کے لئے بھی ایک مثال بن گئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہمیشہ ہی کرپشن کے خلاف جنگ کی ہے اور اس سلسلہ میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے۔