رسم نکاح کی ادائیگی........ وہاب ریاض بھی گھر والے ہو گئے

حافظ محمد عمران
پاکستان کے نوجوان فاسٹ با¶لر اور ٹیسٹ کرکٹر وہاب ریاض گزشتہ دنوں ازدواجی بندھن میں بندھ گئے ہیں۔ ان کے نکاح کی تقریب ٹیک سوسائٹی لاہور کی ایک مسجد میں ادا کی گئی جس میں سابق کپتان انضمام الحق، سلمان بٹ، معروف اداکار سہیل احمد، ساحر لودھی، اولمپیئن ارشد چودھری اور پاکستان ہاکی ٹیم کے منیجر و ہیڈ کوچ اختر رسول کے علاوہ صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
نکاح کی رسم بعد از نماز ظہر ادا کی گئی، انضمام الحق اس موقع پر خاصے سرگرم دکھائی دے رہے تھے۔ نکاح کے موقع پر دولہا وہاب ریاض نے آف وائٹ کلر کا لباس زیب تن کر رکھا تھا ، ان کے والد بھی اُسی رنگ کا لباس پہنے اور سیاہ شیشوں والا خوبصورت چشمہ لگائے وہاب کے ساتھ ساتھ موجود رہے۔ وہاب کے والد کے چہرے پر خوشی کے مارے خاص چمک تھی اور وہ حقیقتاً بے حد مسرور دکھائی دے رہے تھے۔ اسی خوشی میں وہ مسجد کے اندر بھی سیاہ چشمہ اُتارنا بھول گئے۔ نکاح کے بعد روایتی انداز میں تمام شرکا کو انتہائی بیش قیمت پیکنگ میں بِد بانٹی گئی، یہ ذمہ داری وہاب کے چھوٹے بھائی احسن ریاض نے بہترین انداز میں نبھائی۔ وہ بھاگ بھاگ کر مہمانوں کی تواضع کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ ان کا ساتھ بہنوئی شاہ زیب نے خوب نبھایا ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ سہیل احمد کے دلچسپ فقروں نے بھی محفل کو کشتِ زعفران بنا دیا۔ وہ نکاح کے موقع پر مسجد میں پہنچے تو انہیں اندازہ کرنے میں مشکل ہوئی کہ وہ مہمان دلہن کی طرف کے ہیں یا پھر دولہا کی طرف سے پھر سہیل احمد کو یاد آیا کہ انہیں دعوت نامہ شاہد چودھری، زینب چودھری دلہن کے والد کی طرف سے دیا گیا ہے دراصل انہیں یہ علم نہیں تھا کہ زینب کا نکاح شیخ سکندر کے بیٹے سے ہو رہا ہے۔ بعد ازاں لاہور جمخانہ سے منگوایا گیا کھانا تواضع کے لئے موجود تھا۔ کھانے کے موقع پر وہی منظر دیکھنے میں آیا جو عام طور پر پاکستان میں شادی بیاہ کے موقعوں پر دیکھنے میں آتا ہے۔
وہاب ریاض کے نکاح کی تقریب میں چونکہ دو سابق کرکٹ کپتان بھی موجود تھے لہٰذا تقریب کے بعد محفل کرکٹ پر تبصروں کا مرکز بن گئی۔ سلمان بٹ اپنی سزا کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد کی صورتحال پر صحافیوں اور نکاح کے موقع پر موجود اپنے پرستاروں کے سوالات کے جواب دیتے رہے۔ اُن کا م¶قف تھا کہ انہیں پانچ سالہ پابندی کا سامنا ہے اور وہ بہت پُر امید ہیں کہ دوبارہ کرکٹ کھیل سکیں گے۔ انضمام الحق بھی اس موقع پر سلمان بٹ کو تسلیاں دیتے رہے۔ ایک موقع پر انضمام نے دلچسپ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کل تو کھلاڑی 40 سال کی عمر میں بھی کھیل رہے ہوتے ہیں لہٰذا سلمان بٹ بھی سزا ختم ہونے کے بعد دوبارہ کرکٹ کھیلنا شروع کر سکتے ہیں۔
وہاب ریاض نے نکاح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اُن کی زندگی کا یہ نیا سفر اُن کےلئے بے حد مبارک ثابت ہوگا اور وہ جلد پاکستان ٹیم میں مستقل جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہماری بھی یہی دعا ہے کہ نومبر میں باقاعدہ رخصتی سے قبل وہاب ریاض اپنی پرفارمنس ثابت کر کے قومی ٹیم کے ساتھ بھی مستقل بندھن میں بندھ جائیں۔