سپاٹ فکسنگ کیس، بالر محمد عامر اور مظہر مجید کا برطانیہ کی عدالت میں اعتراف جرم

سپاٹ فکسنگ کیس، بالر محمد عامر اور مظہر مجید کا برطانیہ کی عدالت میں اعتراف جرم

لندن (ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) سپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث پاکستانی فاسٹ بالر محمد عامر اور پاکستانی کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید نے لندن کی عدالت میں اعتراف جرم کر لیا۔ سپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت گذشتہ روز برطانوی عدالت میں ہوئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق محمد عامر نے اپنے وکیل کے توسط سے باقاعدہ اعترافی بیان عدالت میں جمع کرا دیا جس میں اپنے اوپر لگے الزامات کو قبول کیا ہے۔ محمد عامر اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے موقع پر سلمان بٹ اور محمد آصف ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔کراون پراسیکیوشن کی فیصلہ کن سماعت 4 اکتوبر سے شروع ہو گی جو ایک ماہ مسلسل روزانہ کی بنیاد پر ہو گی۔ فیصلہ کن سماعت میں تینوں کرکٹرز شامل ہوں گے۔ آئی سی سی محمد عامر پر 5 سال کے لئے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے محمد عامر نے تصدیق کی کہ انہوں نے عدالت میں اعترافی بیان جمع کروایا ہے۔ اعتراف جرم کے بعد محمد عامر کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں کہ عامر نے ایسا کیوں کیا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بکی مظہر مجید کے اعتراف جرم کے بعد سلمان بٹ اور آصف کے لئے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عامر نے کہا کہ کم عمر تھا پیسوں کے لالچ کی وجہ سے نہیں دباو پر ایسا کیا جبکہ مظہر مجید نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی تمام رقم تینوں کھلاڑیوں کو دی ہے‘ قانون دان خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ محمد عامر کی سزا کم ہو سکتی ہے۔