.... ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے

حافظ محمد عمران
بچپن میں ریڈیو پاکستان لاہور سے بچوں کے پروگرام ”ہونہار“ میں ایک گیت نشر ہوا کرتا جسکے بول تھے۔ ”میں چھوٹا سا اک بچہ ہوں پرکام کروں گا بڑے بڑے“ ہماری قومی ٹیم پر یہ گیت صادق آتا ہے اگر صادق نہ آتا تو وہ اشتہارات میں ”پہنچ تو گئے ہو ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے“ کی تکرار نہ کرتے۔ واقعی پاکستانی کھلاڑی ابھی اتنے ”بڑے“ نہیں ہوئے کہ انہیں ہار اور جیت کا مفہوم سمجھ میں آ سکے کیونکہ انہوں نے طفلی سے ہی پروین شاکر کا یہ شعر سن رکھا ہے۔
ہار جانے میں انا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارہ اور ہے
سو وہ لڑکپن سے ہی سود و زیاں کے خسارے سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی لئے وہ ہار کر خسارہ پورا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور تو اور وہ اسی ”لڑکپن“ میں اپنے عاشقانہ مزاج کے باعث کالے اور سنہرے گھنے ریشمی گیسوﺅں کے سائے میں زرا سستانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کوئی ٹھنڈے مشروبات میں اداکاری کرتے ہوئے سو فیصد کارکردگی دکھاتا نظر آتا ہے تو کوئی رنگ گورا کرنے کے طریقے بتاتا رہتا ہے لیکن حیران کن طور پر اسے میدان میں سفید رنگ کا گیند نظر نہیں آتا اور وہ کھلاڑی جتنی مرتبہ رنگ گورا کرنے کی کریم لگاتا ہے اتنی گیندیں بھی نہیں کھیل پاتا۔ اس کےلئے تو بہتر ہے کہ وہ اب رنگ گورا کرنے کے طریقے ہی سکھلائے کیونکہ سفید رنگ کا گیند اسکی سمجھ سے باہر ہے۔ کوئی نوجوانوں کو اپنے اچھے اور کھچڑ بالوں کو ریشمی ملائم اور دراز کرنے کے ”گُر“ بتاتا ہے اور سر کے بالوں کو خشکی سے بچنے کا آزمودہ طریقے بھی سکھاتا ہے لیکن میں اسکی کارکردگی پر ایسی خشکی چھائی ہے کہ شائقین و ماہرین کرکٹ کی تنقید اور مسلسل ناکامیاں بھی اس خشکی اور سکری کو ختم نہیں کر سکیں۔ کوئی پروفیسر بنا بیٹھا ہے۔ ساتھی کھلاڑیوں پر طنزیہ جملے کستا ہے۔ فزیو اور ڈاکٹر کو اسکا کام سکھانے کی کوشش اور امپائرز کو امپائرنگ کے طریقے بتاتا ہے لیکن حیران کن طور پر اسکا اپنا کھیل عبرت کا نشان بن چکا ہے۔ وہ اسے بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں دیتا اردگرد کے لوگوں کا حساب کتاب رکھتے رکھتے وہ اتنا بوکھلا گیا ہے کہ باہر جاتی گیند پر وکٹوں کے پیچھے آﺅٹ ہو جاتا ہے تو اندر آ تی گیند اسکی وکٹیں ہوا میں بکھر جاتی ہیں اور اگر کوئی اچھال والی گیند کھیلنے کو مل جائے تو کمزور نظر والے کی طرح اسے بھی درست طریقے سے دیکھ نہیں پاتا اور کیچ دے کر سر ہلاتے ہوئے چل دیتا ہے۔
چیمپئنز ٹرافی میں قومی ٹیم کے بلے باز بلے باز کم اور جلد باز زیادہ لگے۔ لکھے پڑھے انداز میں آﺅٹ و کر پویلین واپس جانے کی جلدی سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جلد باز بلے بازوں کا گراﺅنڈ میں دل نہیں لگتا اور وہ جلدی جلدی کسی اور جگہ شوٹنگ کے لئے جانا چاہتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے آﺅٹ ہونے سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کھلاڑی شائقین و ناظرین کو گرم گرم چائے جلد از جلد پینے کے طریقے بتاتے معلوم ہوتے ہیں لیکن یاد رہے زیادہ گرم پینے سے منہ بھی جل جاتا ہے۔
ٹیم کے ایک افتتاحی کھلاڑی کو ان کے قریبی عزیز کی زبان بندی کے لئے ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے جیسے قریبی عزیز خاموش ہو جاتا ہے تو گراﺅنڈ میں اس کھلاڑی کا بیٹ بھی خاموش رہتا ہے۔ یہ دامادی رشتہ بھی خوب ہے جو نا صرف قوم پر بھاری پڑتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ٹیم کی ناکامی میں بھی اہم کردار ادا کرنا ہے لیکن پھر بھی وہ ٹیم کا حصہ ہیں کیونکہ ٹیم اپنی جگہ دوستیاں اور تعلق بھی تو نبھانا ہے نا۔ نئے کھلاڑیوں پر ہمیشہ ہی نزلہ گرتا ہے اس مرتبہ بھی عمر امین اور اسد شفیق کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے اب بھی ان دونوں پر ملبہ گرایا جائے گا۔ ان بے چاروں کا قصور صرف یہ ہے کہ یہ باصلاحیت ہیں اور نئے چہرے ہیں پرانے چہرے یہ چاہتے ہیں کہ اگر ہارنا ہی ہے تو کیا وہ یہ کام اچھے انداز میں نہیں کر رہے جو نئے کھلاڑیوں کو آزمایا جا رہا ہے۔
ہمارے تجربہ کار وکٹ کیپر اتنے برس کھیلنے کے باوجود آج بھی اپنی جگہ پکی کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اسے اوپر کے نمبروں پر کھلاﺅ تو کوئی کہتا ہے اسے نیچے ہی دبائے رکھو یہ اوپر آیا تو کسی ایک کو ضرور کھا جائے گا یہی خوف اس وکٹ کیپر کا کیرئر کھائے جا رہا ہے۔ بہرحال اسکا ذمہ دار وہ خود بھی ہے۔ وہ کیچ ایسے چھوڑتا ہے جیسے پانچ سالہ بچہ انڈوں سے کیچ پریکٹس کرتے ہوئے انڈے توڑتے جاتا ہے۔ اس مرتبہ وکٹ کیپنگ اچھی رہی تو بلے بازی دغا دے گئی بلے بازوں کی کارکردگی دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ واقعی ہمارے کھلاڑی اتنے بڑے نہیں ہوئے کہ وہ کرکٹ جیسے مشکل کھیل کو اسکی اصل روح کے مطابق کھیل سکیں۔
آخر میں ہماری ٹیم سے ادا جعفری کی زبان میں اظہار تعزیت
کچھ سوچ کے کہنا ہے ہمیں حرف تسلی
تازہ ہو اگر زخم تو پیکاں سا لگے ہے