چیمپئنز ٹرافی میں ناقص کارکردگی........کھلاڑیوں کا احتساب ضروری ہو گیا

چودھری محمد اشرف
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے زیراہتمام چیمپئنز ٹرافی کا آخری ایونٹ انگلینڈ میں جاری ہے لیکن افسوس کہ پاکستان ٹیم کے لئے یہ ٹورنامنٹ اس وقت ہی ختم ہو گیا تھا جب ویسٹ انڈیز کے بعد اسے جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا۔ جذباتی پاکستانی قوم نے قومی ٹیم کی مسلسل دو شکستوں کے باوجود اپنی امیدوں کا دِیا بھارت اور ویسٹ انڈیز کے میچ تک جلائے رکھا۔ آج پاکستان ٹیم اپنی روایتی حریف بھارت کے مد مقابل ہوگی۔ چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان ٹیم کا بھارت کے خلاف ٹریک ریکارڈ اچھا ہے اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان چیمپیئنز ٹرافی میں دو مرتبہ آمنا سامنا ہوا اور دونوں میچوں میں کامیابی پاکستان کا ہی مقدر بنی۔ 2004ءمیں برمنگھم کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چیمپیئنز ٹرافی کا میچ کھیلا گیا جس میں قومی ٹیم نے 3 میچوں سے کامیابی حاصل کی۔ دوسری مرتبہ 2009-10ءمیں دونوں ٹیموں کے درمیان میچ سنچورین میں کھیلا گیا جس میں پاکستان ٹیم نے 54 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ موجودہ ٹورنامنٹ میں مسلسل دو ناکامیوں کے بعد شائقین کرکٹ سخت مایوسی کا شکار ہیں، قومی ہیرو آج روایتی حریف کے خلاف کامیابی حاصل کر کے ناراض شائقین کے دل جیت سکتے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی کھلاڑی بڑے دل کے ساتھ میدان میں اتریں۔ ٹورنامنٹ کے آغاز پر پاکستان ٹیم سے قوم کو بہت ساری توقعات تھیں کہ قوم کے ہیرو انگلش سرزمین پر ایسی کارکردگی دکھائیں گے کہ دنیا حیران ہو جائے گی واقعی ایسا ہی ہوا ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں 11 میں سے9 کھلاڑی ڈبل فگر تک اپنا سکور پہنچانے میں ناکام رہے جبکہ کپتان مصباح الحق جنہیں زائد العمری کا ہمیشہ تانہ سننا پڑتا ہے نہ صرف وکٹ پر کھڑے حریف باولرز کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے اور 96 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی دوسرے کھلاڑی ناصر جمشید تھے جنہوں نے کپتان کا ساتھ دیتے ہوئے نصف سنچری سکور کی لیکن یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی اکثریت کو ناجانے نصف سنچری سکور کرنے کے بعد کیا ہو جاتا ہے۔ غلط شاٹ کھیل کر پویلین کی راہ لے لیتے ہیں شاید ان کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ نصف سنچری سکور کرنے کے بعد اگلے آٹھ دس میچوں میں انہیں کوئی ٹیم سے نکالنے والا نہیں ہے۔ اگر ہمارے کھلاڑیوں کی یہ سوچ ہے تو لازمی کرکٹ بورڈ میں کسی مسیحا کی ضرورت ہے جو آئے اور ایسے کھلاڑیوں کی ہمیشہ کے لئے چھٹی کرا دے۔ ٹیم کے کم سکور کے باوجود باولرز ویسٹ انڈیز ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی کوشش کی لیکن کم سکور نے پاکستان ٹیم کی شکست پر مہر پہلے سے لگا دی تھی۔ اﷲ اﷲ کر کے پہلا میچ ختم ہوا اب قوم اور کھلاڑیوں نے دوسرے جنوبی افریقہ کے میچ سے توقعات وابستہ کر لیں۔ یہ وہی مثال ہے کہ جب کوئی طاقتور کسی کمزور کو تھپڑ مارتا ہے تو غریب اس سے معذرت کرنے کی بجائے اُلٹا یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ ”اب کے مار اور وہ اب کے مار کے چکر میں مار کھاتا رہتا ہے۔“ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ شروع ہونے سے قبل ماہرین کرکٹ نے نمائشی میچ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے جنوبی افریقہ کے خلاف قومی ٹیم کی جیت کے دعو¶ں کا بازار گرم کر دیا۔ کہتے ہیں کہ میدان کے باہر بیٹھے ہر شخص کو کرکٹ کا کھیل انتہائی آسان دکھائی دے رہا ہوتا ہے پتہ اس وقت چلتا ہے جب 50 اوورز کی تین سو بالز کو فیس کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف لڑکھڑاتی بیٹنگ لائن کو دیکھ کر جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 234 کا مجموعہ حاصل کیا۔ کرکٹ حلقوں کا خیال تھا کہ قومی ٹیم ایک اچھی حکمت عملی کے تحت میدان میں اُترتے ہوئے اپنے ہدف کو مقررہ اوورز سے قبل حاصل کر لے گی۔ لیکن افسوس ایک مرتبہ پھر پلے بازوں نے اپنی ذمہ داریاں کپتان کے کندھوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو گئے۔ اس میچ میں بھی مصباح الحق نے نصف سنچری سکور کی جبکہ ناصر جمشید نصف سنچری سکور کرنے میں ناکام رہے۔ 235 رنز کا ہدف ہمالیہ پہاڑ کے برابر ہو گیا جسے سر کرنا ناممکنات میں سے تھا کسی کھلاڑی نے یہ بات گوارا نہیں کی کہ سکور بورڈ کو بھی چلانا ہے ہر کوئی گیندیں ضائع کرتا رہا تاکہ آنے والے کھلاڑی دبا¶ میں کھیل سکیں۔ بہرکیف جنوبی افریقہ کے باولرز کم سکور کے باوجود پاکستانی بلے بازوں کے خلاف عمدہ باولنگ کا مظاہرہ کیا اور اپنی ٹیم کو اہم میچ میں کامیابی دلا دی۔ ٹورنامنٹ میں مسلسل دو ناکامیوں کے بعد تیسری کامیابی کی توقع رکھنا فضول ہو گیا ہے۔ تیسرا آج پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جانے والا میچ آئی سی سی کو مالی طور پر مضبوط کر سکتا ہے تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیمی فائنل تک رسائی نہیں دلا سکتا۔ دو روایتی حریف پیموں کے خلاف میچ کو پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے۔ موجودہ وقت میں بھاری ٹیم میں دنیا کے بہترین بلے باز موجود ہیں جبکہ پاکستان ٹیم میں عرصہ دراز سے پرچیوں اور سفارشوں کے بل بوتے سے جگہ بنانے والوں کا اب احتساب ضروری ہو گیا ہے۔ 18 کروڑ عوام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس سالوں سے جن کھلاڑیوں کی تکنیکس بہتر نہیں ہو سکی ہیں وہ اب کیا کرکٹ کھیلیں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کو اس بات کا نوٹس لینا ہوگا۔ ویسے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کا معاملہ بھی عدالتوں میں چل رہا ہے لہذا فوری طور پر ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ قومی کھلاڑیوں کا کوئی احتساب ہو سکے گا۔