وزیراعظم کھیلوں کی فیڈریشنز ‘ ایسوسی ایشنز پر پابندی کا نوٹس لیں : عہدیداروں کا مطالبہ

لاہور (سپورٹس رپورٹر) کھیلوں کی تنظیموں کی بھاری اکثریت نے غیر قانونی عبوری کمیٹی کی جانب سے 22 فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز کی رکنیت معطل کرنے کے عمل کو بھونڈا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ لیگل تنظیموں کی رکنیت کو معطل کر سکے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف سے اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر معاملے کا از خود نوٹس لیں اور انکوائری کمیٹی تشکیل دیں تاکہ اصل حقائق سب کے سامنے آ سکیں۔ کھیلوں کی تنظیموں کے نمائندوں کا مشترکہ بیان میں کہنا تھا کہ غیر قانونی عبوری کمیٹی اس ایجنڈے پر کام کر رہی ہے کہ کھیلوں میں اتنا گند ڈال دیا جائے کہ حکومت کو بھی نہ پتہ چلے کہ اصل کون ہے اور نقل کون ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 32 ویں نیشنل گیمز کا انعقاد 22 سے 28 دسمبر 2012ءتک لاہور میں ہو چکا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی گیمز کو کسی صورت نیشنل گیمز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کی آشیرباد سے غیر قانونی گیمز کے لیے 8 کروڑ روپے جاری کر دیئے گئے ہیں جبکہ نیشنل گیمز جو ملک کا سب سے بڑا ایونٹ ہے اس پر ایک کروڑ 25 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے اتنی بھاری رقم کھیلوں کے لیے جاری کرنے کا صرف اور صرف مقصد کمیشن مافیا کی جیبوں کو بھرنا ہے۔ کھیلوں کی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ غیر قانونی عبوری کمیٹی ملک میں کھیلوں کو تباہی کے دہانے پر لے جانے کی کوشش کر رہی ہے جس کی ہر سطح پر مزمت کی جائے گی۔ وزیر اعظم غیر قانونی عبوری کمیٹی کو جاری فنڈز کی انکوائری کرایں۔ وزیر اعظم سے اپیل کی کہ سپورٹس پالیسی کا بھی از سر نو جائزہ لیا جائے۔ اجلاس میں پاکستان بیس بال فیڈریشن، پاکستان باکسنگ فیڈریشن، پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن، پاکستان فٹبال فیڈریشن، پاکستان جمناسٹک فیڈریشن، پاکستان ہینڈ بال فیڈریشن، پاکستان جوجسٹو فیڈریشن، پاکستان کبڈی فیڈریشن، پاکستان کراٹے فیڈریشن، پاکستان روئنگ فیڈریشن، پاکستان رگبی یونین، پاکستان فیڈریشن آف سوفٹ بال، پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن، پاکستان ٹگ آف وار فیڈریشن، پاکستان ویٹ لیفٹنگ فیڈریشن، پاکستان ریسلنگ فیڈریشن، پاکستان ووشو فیڈریشن، پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن اور سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔