پاکستان مقابلے میں بھارت کوترجیح دینے کی بات درست نہیں ؛ ڈیوڈرچرڈسن

پاکستان مقابلے میں بھارت کوترجیح دینے کی بات درست نہیں ؛ ڈیوڈرچرڈسن

لاہور(سپورٹس رپورٹر+نمائندہ سپورٹس)آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا ہے کہ ورلڈ الیون کی آمد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی ابتدا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کو واپس لانا طویل مرحلہ ہے ، ٹیسٹ ممالک کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے پی سی بی کو لاہور کے علاوہ دیگر شہروں تک بھی کرکٹ کو لے جانا ہوگا۔ دو سال سے سکیورٹی کی صورتحال میں بہت بہتری ہوئی ہے جو پاکستانی عوام کیلئے خوشی کی بات ہے۔ وہ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ آئی سی سی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دورہ کرنے پر ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کے مشکور ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ پاکستان لانے کا سہرا عوام کے سر ہے جنہوں نے مشکل حالات میں بھی کرکٹ کی سپورٹ جاری رکھی۔ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد آٹھ سال تک پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا نہ ہونا تکلیف دہ تھا مگر پی سی بی اور سب کی کوششوں سے ملک میں کرکٹ بحال ہوگئی ہے۔ اب مزید انٹرنیشنل دورو ں کیلئے دو سے تین سال انتظار کریں۔ جلد ہی بڑی ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ کریں گے۔2023ءتک آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی دی جا چکی ہے۔ امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں حالات اسی طرح بہتر ہوں گے جس کے بعد یہاں آئی سی سی ایونٹس کے انعقاد پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات اس وقت اچھے نہیں ہیں جس کا نقصان پی سی بی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ معاملہ اس وقت آئی سی سی کی مصالحتی کمیٹی کے پاس ہے اور ہم اس میں صرف سہولت کار کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ڈیوڈ رچرڈسن کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کو بھی پاکستان جیسے حالات سے گزرنا پڑا مگر خوش قسمتی سے پاکستان اپنی انٹرنیشنل کرکٹ باہر کھیل رہا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ مضبوط رہے اور پی ایس ایل کا اسی کامیابی سے انعقاد ہوتا رہے۔ پاکستانی عوام کرکٹ سے محبت کرتے ہیں ‘ آئی سی سی کے اندر بھارتی اثر و رسوخ بہت زیادہ ‘سیریز سیاسی کشیدگی کی وجہ سے نہیں ہورہی ہے ‘فی الحال توجہ پی ایس ایل میچز پاکستان میں کرانے پر ہے ۔سب ٹھیک چلتارہاتوآئی سی سی ایونٹ بھی پاکستان میں ہوسکتاہے اور آئی سی سی ممبر ممالک کی ٹیموں کو بھی پاکستان لانے کی کوشش کرے گی