فیصل صالح حیات نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے: حافظ سلیمان

اسلام آباد (سپورٹس رپورٹر) پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سابق سیکرٹری جنرل و سابق رکن قومی اسمبلی حافظ سلیمان بٹ نے کہا ہے فیصل صالح حیات پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر نہیں رہے، فیڈریشن نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کا فٹ بال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کو فٹ بال کے معاملات میں گھسیٹنا منافقت ہے، وہ جمعرات کو اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں اسلام آباد فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر سلیم چوہدری اور جنرل سیکرٹری سید شرافت حسین بخاری کے ہمراہ ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر پاکستان پرویز مشرف نے فیصل صالح حیات کو پاکستان فٹ بال فیڈریشن کا صدر بنایا تھا اور سابق صدرفیصل صالح حیات 12 سال تک فیڈریشن کا حصہ رہے اور مختلف چیلنلز پر آکر فیفا کے معاملے کو اینگل دینے کو شش کی، فیڈریشن نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے، کمیشن کھاتے رہے اور فیفا سے غلط بیانیاں کرتے رہے، انہوں نے کہا کہ نیشنل کوچز کے پیسوں میں بھی بے پناہ کرپشن کی گئی،2014 ءمیںبرازیل میں کھیلے گئے عالمی کپ میں شرکت کے لئے فیفا سے آئے گئے 84 ٹکٹیں پاکستان کے شائقین کرکٹ کو فروخت کرنے کی بجائے امریکی پاکستانیوں کو ڈالروں میں فروخت کر دیئے گئے اس طرح فیفا کے ٹکٹس بھی کرپشن کی بھینٹ چڑھا دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فیفا کی جانب سے 7 گول پراجیکٹس ملے تھے جن میںکراچی ، جیک آباد، کوئٹہ، ایبٹ آباد، خانیوال، پشاور، لاہور شامل ہیں ان میں سے ایک گول پراجیکٹ لاہور مکمل ہوا، باقی تمام ابھی تک نامکمل ہیں، فیفا کے پیسوں اور حکومت کی زمین کا ضیاع ہوا ہے ، انہوں نے کہا کہ جھنگ میں گھوسٹ سٹیڈیم کےلئے پیسے مانگے گئے، چھ کروڑ روپے آئے اگر عدالت اکاﺅنٹس سیز نہ کرتی تو یہ لوگ وہ پیسے بھی کھا جاتے،فیفا نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کو نیا آئین بنانے کےلئے دو سال کا وقت دیا تھا،اور فیصل صالح حیات 2015ءسے 2017 ءتک کے عرصہ میں نیا آئین نہ بنا سکے۔ ان دوروں پر کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے تھے، بحیثیت ممبر اے ایف سی کمیٹی، فیصل صالح حیات کو لگ بھگ پانچ لاکھ روپے ماہانہ ملتے تھے۔ یہ پیسے اب انہیں نہیں ملیں گے اور اسی بات کی در اصل انہیں تکلیف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیفا کوایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے کر پاکستان بھجوانی چاہیئے تا کہ وہ فٹبال کے معاملات کا خود جائزہ لے کر اپنی نگرانی میں نئے انتخابات کروانے چاہئےں ، اور نئی فیڈریشن کے آفیشلز عدالت جا کر ایک دوسرے کےخلاف دائر مقدمات غیر مشروط طور پرواپس لیں۔ یوں پاکستان فٹبال فیڈریشن پر عائد پابندی ختم ہو سکتی ہے ۔