قوانین کی خلاف ورزی، رضا حسن کلب میں پریکٹس کرنے لگے

لاہور (حافظ محمد عمران/ نمائندہ سپورٹس) انٹرنیشنل کرکٹر رضا حسن کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی‘ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام لاعلم‘ رضا حسن لاہور کے ایک کرکٹ کلب میں مسلسل پریکٹس کر کے بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کی وجہ سے لیفٹ آرم سپنر رضا حسن کو دو سال کی پابندی کا سامنا ہے۔ اس عرصے میں وہ بین الاقوامی قومی اور کلب کی سطح پر بھی کرکٹ اور کھیل سے جڑی کسی بھی سرگرمی کا حصہ نہیں بن سکتے۔ یاد رہے کہ پٹینگولر کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران رضا حسن کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان پر ہر طرح کی کرکٹ کھیلنے کے لئے دو سال کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ رضا حسن ان دنوں لاہور کے رجسٹرڈ کلب میں پریکٹس کر رہے ہیں لیفٹ آرم سپنر کا یہ فعل واضح طور پر قومی و بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ رضا حسن نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس میں یہ دہائی بھی دی تھی کہ بورڈ نے اس کیس میں ان کے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔ لیفٹ آرم سپنر رضا حسن ڈوپ ٹیسٹ میں ”کوکین“ کے استعمال کے مرتکب قرار پائے تھے۔ انہوں نے اس کیس میں بچنے کےلئے کئی حربے اختیار کئے۔ کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کو با اثر شخصیات نے سفارشیں بھی کیں۔ لیفٹ آرم سپنر کا رویہ غیر ذمہ دارانہ رہا۔ بی سیمپل اور کیس کی سماعت میں بھی زیادہ دلچسپی نہیںلی۔ رضا حسن کو ڈوپ ٹیسٹ کیس میں پیش ہونے کےلئے کئی خط لکھے گئے لیکن انہوں نے دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اب اگر وہ یہ گلہ کر رہے ہیں کہ بورڈ نے انہیں سنے بغیر یا ان کا موقف جانے بغیر دو سال کی پابندی عائد کی ہے تو یہ غلط اور حقائق کے منافی ہے۔