کرکٹ بورڈ میں بلیک میلرز، تنقید کرنیوالے کرکٹرز کی کوئی جگہ نہیں: شکیل شیخ

لاہور (حافظ محمد عمران/نمائندہ سپورٹس) صرف باتیں کرنے سے کام نہیں چلتا لکھنا پڑھنا کسی کو آتا نہیں جس کے پاس کوئی تجویز ہے وہ کرکٹ بورڈ کو بھیجے۔ قابل عمل تجاویز پر کام ہو گالیکن مستقبل میں کرکٹ بورڈ کے نئے نظام میں بلیک میلرز اور تنقید برائے تنقید کرنیوالے کرکٹرز کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ بعض لوگ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز پر ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے شخصیات پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ سابق کرکٹرز کھیل کی بہتری چاہتے ہیں تو لاہور میں ایک سیمینار کریں اور مسائل کے ساتھ انکے حل کی تجاویز بھی وہ ایسا کیوں نہیں کرتے۔ ماضی میں آئی سی سی میں پاکستان کی نمائندگی کرنیوالے چئیرمینوں کو انگریزوں کی انگلش ہی سمجھ نہیں آتی تھی۔ پاکستان میں کرکٹ کا ایک نیا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے اس نظام میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے کام کرنے کا بہت موقع ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی اور گورننگ بورڈ کے رکن شکیل شیخ نے وقت نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریار اور سیٹھی میں کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ تمام کمیٹیاں فیصلے جمہوری انداز میں کرتی ہیں، حتمی فیصلہ چیئرمین کا ہی ہوتا ہے۔ ذکا اشرف نے کرکٹ بورڈ میں آنے سے پہلے کرکٹ کھیلی نا ہی دیکھی۔ بورڈ نئے نظام میں فرسٹ کلاس کرکٹرز کے معاوضے میں اضافہ کرے گا۔ کلب کرکٹ کی بھی مالی مدد کی جائے گی۔ بورڈ کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں۔