ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ میں انتظامی تبدیلیوں پر غور

لاہور (نمائندہ سپورٹس) چند لوگ ذاتی مفادات کی خاطر منفی پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ اکثر سابق کرکٹرز اور کرکٹ بورڈ کے سابق عہدیدار بھی ذاتی اختلافات کی وجہ سے پی سی بی پر تنقید کرتے نظر آرہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کے رکن اور چیئرمین کرکٹ کمیٹی تشکیل شیخ نے نوائے وقت کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ٹیم دو میچوں میں ناکامی کے بعد کرکٹرز اور بورڈ آفیشلز پر غیر ضروری تنقید کی گئی۔  عالمی کپ کے دوران غیر ضروری تنقید اور بے بنیاد الزامات سے بین الاقوامی سطح پر بھی بدنامی ہوتی ہے۔  عالمی کپ کے بعد انتظامی سطح پر بھی کئی تبدیلیاں زیر غور ہیں۔ ایسوسی ایشنز کے کردار کو بھی مضبوط بنانے پر غور ہو رہا ہے۔ نچلی سطح پر کرکٹ کی بہتری کیلئے سابق کرکٹرز کی خدمات حاصل کرنے اور ان کے تجربے سے استفادہ کرنے کی پالیسی پر غور ہو رہا ہے۔ کرکٹ بورڈ پر بے بنیاد الزام تراشی کرنے والے افراد کے خلاف بھی سخت مؤقف اپنایا جائے گا۔سابق چیف سلیکٹر اظہر خان کا کہنا تھا کہ کھیل پر بات کم ہوتی ہے۔ کرکٹ سے منسلک لوگ گرائونڈ میں ہونے والی کارکردگی پر کم ہی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمیں اصل مسائل پر بات کرنی چاہیے۔ سابق چیف سلیکٹر محمد الیاس کا کہنا تھا کہ شہریار خان ایک تجربہ کار منتظم اور شریف انسان ہیں۔ کچھ لوگ انہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرفراز نواز نے ہمیشہ منفی کردار ادا کیا ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر عامر نذیر کا کہنا تھا کہ چند سابق عہدیداروں اور سابق کرکٹرز کو لیگل نوٹس جاری کرنے کا یہ درست وقت نہیں تھا۔ عالمی کپ کے بعد یہ اقدام کیا جانا تو زیادہ بہتر تھا۔ ٹیم پر تنقید کرتے ہوئے ملکی وقار کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ کرکٹ تجزیہ نگار چودھری محمد صدیق کا کہنا تھا کہ ناقدین کو لیگل نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ درست ہے۔ کھیل انتظامی معاملات کو الگ الگ رکھ کر زیادہ بہتر گفتگو کی جا سکتی ہے۔