بھگوڑے یا مجبور اور تیسرا پہلو ....!

حافظ محمد عمران
قومی ہاکی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی ریحان بٹ اور شکیل عباسی بھارت میں جاری غیرقانونی اور باغی لیگ ورلڈ سیریز ہاکی کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ کھلاڑی اولمپکس کےلئے اعلان کردہ ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ ایشیئن گیمز 2010ءکی گولڈ میڈلسٹ ٹیم کے کپتان ذیشان اشرف بھی بھارت میں ہاکی کھیل رہے ہیں۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ارباب اختیار کی ”گڈ بکس“ میں نہ رہے اور شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد ٹیم میں بھی نہ رہے۔
ریحان بٹ اور شکیل عباسی بھگوڑے ہیں یا مجبور؟ کیا وجوہات تھیں کہ ٹیم کو دو اہم ترین کھلاڑیوں نے قومی ٹیم کو چھوڑ کر باغی لیگ کا حصہ بننے کو ترجیح دی؟ کیا وجہ تھی کہ ماضی کی نسبت زیادہ معاوضہ بھی کھلاڑیوں کو نہ روک سکا اور وہ سبز رنگ جسے وہ اپنا فخر سمجھتے تھے اسے ٹھکرا دیا۔ صرف کھلاڑیوں کو ہی تنقید کا نشانہ بنانا اور ان کے اس فیصلے کی دیگر وجوہات کو نظرانداز کر دینا ناانصافی ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ساتھ کام کرنے والے تمام افراد اور موجودہ انتظامیہ سے بھی بڑھ کر کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا اظہار کر رہے ہیں۔ وفاداری اور حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ کھلاڑی ہر حال میں قومی فریضہ انجام دیں اور اگر اس میں وہ کوتاہی کرتے ہیں تو پھر وہ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔
کھلاڑیوں کے نقطہ¿ نظر سے دیکھا جائے تو ان میں غیریقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے گولڈ میڈل جیتنے کے بعد بھی اعلان کردہ انعامات دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کھلاڑیوں تک نہیں پہنچے تو پھر ایک مجبور، بے بس اور لاچار کھلاڑی کیا کرے گا؟ جب کھلاڑیوں کے پاس ملازمتیں نہیں ہونگی وہ معاشی تفکرات میں گھرے رہیں گے تو پھر ان سے وفاداری اور اچھی پرفارمنس کی امید کیسے رکھی جاسکتی ہے؟
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے قومی کھیل کو زندہ رکھنے اور اسے پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان بنانے کے بدلے میں کھلاڑیوں کے بنیادی مسائل کےلئے فوری اقدامات کرے۔ ان کےلئے اچھی ملازمتوں کا انتظام کرے۔
ہمیں اپنے ٹیلنٹ اور ہیروز کو بچانے کےلئے ایک دوسرے پر تنقید کی بجائے عملی اقدامات کرنا ہونگے۔ رہا سب سے اہم مسئلہ بھارت جا کے کھیلنے کا تو ہمارے خیال میں بھارت کے ساتھ بنیادی مسائل کے حل ہونے تک میں کسی بھی قسم کے تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں۔ وہ ثقافتی وفود کا تبادلہ ہو، تجارت ہو یا کھیل، یہ سب چیزیں اپنی جگہ لیکن ملک سب سے اہم ہے۔