قومی ٹیم کا ورلڈکپ کوارٹرفائنل کھیلنا بڑی کامیابی ہو گی : خالد محمود

لاہور(نمائندہ سپورٹس)پاکستا ن کرکٹ بورڈ کا سابق چیئر مین خالد محمود کا کہنا ہے کا عالمی کپ میں ٹیم کوارٹر فائنل کا مرحلہ عبور کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ ٹیم کی تیاریاں بھی نا مکمل دکھائی دیتی ہیں اور ماضی قریب میں ون ڈے فارمیٹ میں کارکدگی بھی غیر معیاری نظر آتی ہے۔ افراتفری میں کی گئی سلیکشن نے بھی تیاریوں کی قلعی کھو کر رکھ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل خان ایک لمبے عرصے سے بین الاقومی کرکٹ سے دور ہیں انہیں اچانک عالمی کپ کے لئے سکواڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔احسان عادل کی سلیکشن بھی اس عمل کو مشکوک بنا رہی ہے۔ سلیکشن پر چیک رکھنے کیلئے چیئرمین کرکٹ بورڈ کو مداخلت یا تبدیلی کا آئینی حق حاصل ہے۔ سلیکشن کے عمل کئی غلطیاں نظر آرہی ہیں۔ سابق کپتان سلیم ملک کا کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی نے علاقائی دبا ؤ میں آکر کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے۔ ناصر جمشید کو کیوں شامل نہیں کی گیا‘ شعیب ملک کو سکواڈ کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا؟کیوں ٹیم سلیکٹ کرتے وقت آسٹریلیا کے موسمی حالات اور پچز کو سامنے نہیں رکھا گیا۔ عالمی کپ میں ا ٹیم سے زیادہ توقعات نہیں کیونکہ دیگر ٹیمیں بہت بہتر ہیں۔ اپاکستان ٹیم کو آسٹریلیا کے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے کیلئے ایک مہینہ قبل وہاں جانا چاہیے۔ سینئر کھلاڑیوں پر انحصار کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ نئے لڑکوں کیلئے مشکل کنڈیشنز میں اچھا کھیلنا مشکل ہو گا۔ وہاں فنگر سپنر کی کمی محسوس ہو گی۔ ٹیم کے سابق کوچ عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ عالمی کپ کیلئے ایک متوازن ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے۔ البتہ ایک بیٹنگ آل راؤنڈر کی کمی نظر آتی ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی اس سے بہتر ٹیم تیار کر سکتی تھی۔ٹیم میں کئی خرابیاں واضح نظر آتی ہیں۔ لیفٹ آرم سپنر ہر حال میں سکواڈ کا حصہ بنایا جا نا چایئے تھا۔ عامر نذیر کہنا تھا کہ معین خان اور انکے ساتھی اچھی ٹیم بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ سہیل خان اور احسان عادل کہاں سے شامل کر لئے گئے ہیں۔ اظہر خان کا کہنا تھا کہ بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ احسان عادل سلیکٹرز کی نظر میں تھا‘ وہ کئی ماہ سے مختلف دوروں پر ٹیم کے ہمراہ رہا۔ سہیل خان کو تیز گیند باز کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔