’’بگ تھری منصوبہ‘‘ رشوت‘ دھمکیاں‘ بلیک میلنگ ‘ دنیا کی کسی تنظیم کو بھارتی حکمرانی منظور نہیں: بی بی سی

’’بگ تھری منصوبہ‘‘ رشوت‘ دھمکیاں‘ بلیک میلنگ ‘ دنیا کی کسی تنظیم کو بھارتی حکمرانی  منظور نہیں: بی بی سی

لندن (بی بی سی رپورٹ )کرکٹرز کی ’قانونی خرید و فروخت‘ کے لیے آئی پی ایل کی منڈی سب نے دیکھی ہے اور یہ بھی سب نے دیکھا ہے کہ کرکٹرز نے ’غیر قانونی بیوپاریوں‘ سے اپنے ضمیر کے سودے کس طرح کیے لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کرکٹ کے رکھوالوں نے ہر رکن ملک کی حیثیت کے مطابق اس کی قیمت کا تعین کر کے اس کھیل کو مکمل طور پر کاروبار کی شکل دے دی ہے۔بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا نے سوچ لیا تھا کہ وہ ہر قیمت پر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے اور اس کا اندازہ بھارت کی اس دھمکی سے ہوگیا تھا کہ اگر اس مسودے کو نہیں مانا گیا تو وہ آئی سی سی سے باہر نکل آئے گا۔ان تین ملکوں نے ہر ملک کو پرکشش پیشکشوں سے ’رام‘ کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ویسٹ انڈیز نے برطانوی نوآبادیاتی حصہ ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے پہلے ہی مرحلے میں بگ تھری کی حمایت کر دی تھی اور اس کا سبب یہ قرار دیا تھا کہ اسے اس نئے منصوبے میں پیسہ بھی ملے گا اور زیادہ کرکٹ بھی۔بنگلہ دیش نے بھی اپنے معاملات طے کرنے میں مالی فائدے کو ملحوظ خاطر رکھا حالانکہ وہ ان چار ممالک میں شامل تھا جنہوں نے ابتدا میں اس منصوبے سے اتفاق نہیں کیا تھا لیکن بعد میں بنگلہ دیش نے بالکل مختلف انداز اختیار کر لیا۔آئی سی سی کے اجلاس سے قبل جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے صدر کرس نینزانی اور بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن کی ملاقات کام دکھاگئی جس نے جنوبی افریقہ کو بھی بگ تھری کا ساتھ دینے اور پاکستان اور سری لنکا سے آنکھیں پھیرلینے پر مجبور کردیا۔اجلاس سے قبل جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے صدر کرس نینزانی اور بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن کی ملاقات کام دکھاگئی۔جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ اور بی سی سی آئی کے تعلقات کافی عرصے سے کشیدہ رہے ہیں جس کا سبب ہارون لورگاٹ ہیں لیکن اب یقینی طور پر جنوبی افریقہ کو بگ تھری کے ساتھ ہونے کا بھاری فائدہ ہوگا جس کی یقین دہانیاں اسے کرا دی گئی ہیں۔بی سی سی آئی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی دو طرفہ سیریز کھیلنے کی پیشکش کی تھی لیکن وہ اس کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھا جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے قابل قبول نہ تھا۔اس تمام ترصورتحال میں چند اہم سوالات سامنے آئے ہیں کہ کیا اپنی مرضی کا منصوبہ منوانے کے لیے کھلم کھلا پیشکشیں رشوت کے زمرے میں نہیں آتیں۔؟ اور کیا اپنی مرضی کا منصوبہ منوانے کے لیے دھمکیاں دینا بلیک میلنگ کے زمرے میں نہیں آتا؟آئی سی سی یقینی طور پر اس بارے میں آنکھیں بند کیے بیٹھی رہے گی کیونکہ وہ ہمیشہ سے بڑے ملکوں خاص کر بھارت کے معاملے میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ہے اور اب تو تین بڑے ممالک خاص کر بھارت آئی سی سی کا بلاشرکت غیر حکمراں بن چکا ہے لیکن ایسا کسی دوسری عالمی تنظیم میں قابل قبول نہیں ہے اور دنیا اس کی کئی مثالیں دیکھ چکی ہے۔دو ہزار دو کے سرمائی اولمپکس کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے سالٹ لیک سٹی کے منتظمین نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے کئی ارکان کو رشوت دی تھی۔یہ سکینڈل سامنے آنے پر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے اپنے چھ ارکان کو برطرف کردیا تھا۔فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر بننے کے خواہشمند محمد بن حمام پر حمایت حاصل کرنے کے لیے کئی ارکان کو قیمتی تحائف اور نقد رقوم دینے کا الزام ثابت ہوا تو ان پر فیفا کے دروازے بند کردیے گئے۔فیفا کے ایک سابق صدر ہیو لانج کو اعزازی صدر کا عہدہ اس لیے چھوڑنا پڑا کیونکہ ان پر فیفا کی مارکیٹنگ کمپنی سے مالی فوائد حاصل کرنے کا الزام ثابت ہوگیا تھا۔آئی سی سی اگر بھارتی کرکٹ کی پیسے کی طاقت کے سامنے مجبور نہ ہوتی تو وہ آئی پی ایل اور خود سری نواسن کے خلاف قدم اٹھا چکی ہوتی جو اپنے داماد کی سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں گرفتاری کے باوجود بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر کا عہدہ چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئے تھے اور وقتی طور پر اس سے دور رہنے کے بعد انہوں نے خود کو دوبارہ صدر منتخب کروا لیا تھا۔