’’بگ تھری ‘‘ اقدام آئی سی سی آئین کی خلاف ورزی ‘ عدالت میں چیلنج ہو سکتا ہے: احسان مانی

لاہور( این این آئی)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی نے کہا ہے کہ بگ تھری کا اقدام آئی سی سی کے آئین کی خلاف ورزی ہے اور اسے عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے لیکن اس کا انحصار سری لنکا اور پاکستان پر ہے، آئی سی سی میں تین ملکوں نے اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے جو بھی فیصلے کیے ہیں وہ صریحاً آئی سی سی کے آئین کے خلاف ہیں۔برطانوی خبر رساں اداے کو دئیے گئے انٹر ویو میں احسان مانی نے کہا کہ اس معاملے کو چیلنج کرنے کا معاملہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کوئی اس معاملے کو آگے بڑھائے۔اور مجھے نہیں معلوم کہ پاکستان اور سری لنکا میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائیں۔احسان مانی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اور فیفا میں اراکین کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے پرکشش پیشکشوں کے معاملات پر گرفت ہوئی ہے لیکن آئی سی سی میں ایسا نہیں ہے۔انہوں نے ان اطلاعات پر بھی سخت حیرانی ظاہر کی کہ سری نواسن آئی سی سی کی صدارت سنبھالنے کے بعد بھی بی سی سی آئی کے صدر کا عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔احسان مانی نے سوال کیا کہ کیا یہ مفادات کا ٹکرا نہیں؟ کیا سری نواسن ہی مستقبل میں میچز اور پیسے کی تقسیم کو کنٹرول کرینگے اور جس نے ان کا ساتھ دیا ان پر ہی نظر کرم رہے گی۔احسان مانی نے کہا کہ آئی سی سی کے اجلاس سے قبل سری لنکا اور جنوبی افریقی کرکٹ بورڈز نے ان سے رابطہ کیا تھا جنھیں انہوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ تینوں ممالک اس اجلاس کو ایک ہفتہ آگے بڑھانے کی کوشش کریں تاکہ دبائودووسرے ممالک کی جانب منتقل ہو سکے اور اس دوران تینوں ممالک قانونی طور پر پابند ہوکر مفاہمت کی یادداشت پر متفق ہوں اور اپنا ایک ترجمان بنائیں جو بگ تھری سے بات کر سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ تینوں ممالک اکٹھے رہتے تو بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن جنوبی افریقہ نے کرکٹ کا نہیں اپنے فائدے کا سوچا۔احسان مانی نے کہا کہ اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ سری لنکا اور پاکستان کا اگلا قدم بہت اہم ہوگا۔