پنجاب یونیورسٹی: 2 طالبات کا وزیراعلیٰ کو لکھی درخواست سے لاتعلقی کا اعلان‘ کھلاڑیوں میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کا ڈراپ سین

لاہور(سپورٹس رپورٹر+لیڈی رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی کی کھلاڑیوں میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو لکھی گئی درخواست میں 5 میں سے دو طالبات نے درخواست سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ۔ پنجاب یونیورسٹی کی دونوں طالبات فوزیہ پروین اور زنیرہ لیاقت نے اس سلسلے میں وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو تحریری درخواست جمع کرا دی ہے کہ وزیر اعلیٰ کو دی گئی درخواست میں ان کے جعلی دستخط کئے گئے اور ان کے نام کو غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اپنی درخواست میں اور میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے فوزیہ پروین اور زنیرہ لیاقت نے کہا ہے کہ انہیں کبھی بھی ادویات نہیں کھلائی گئیں ۔ فوزیہ پروین نے درخواست میں کہا کہ لاء کالج کی لیکچرار خجستہ ریحان نے درخواست دینے کیلئے انہیں اکسانے کی کی کوشش کی۔ شمسہ ہاشمی اور انتظامیہ کی جانب سے کبھی بھی انہیں ادویات نہیں دی گئیں۔  سپورٹس ہاسٹل میں لگنے والی آگ کے معاملے میں بھی مذکورہ طالبات نے درخواست میں ان کے جعلی دستخط کئے اور نام ڈالے۔ جبکہ پنجاب یونیورسٹی کی کھلاڑی قراۃ العین نے وائس چانسلر کو درخواست دی ہے اقصیٰ نواز اور اقصیٰ رشید نے ساتھ دینے کے لئے دباوٗ ڈالا جس کے باعث ان میں لڑائی بھی ہوئی۔ درخواست میں ان کے دستخط بھی جعلی کئے گئے اور وہ ان کی کسی بھی سرگرمی میں شامل نہیں۔ قراۃ العین کے مطابق اقصیٰ نواز نے کئی بار یونیورسٹی آف لاہور میں داخلہ لینے پر زور ڈالا اور اچھی سکالرشپس کے لالچ دئیے۔انتظامیہ کے کسی بھی فرد کی جانب سے انہیں کبھی بھی ادویات نہیں دی گئیں۔ دوسری جانب 6لڑکیوں کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ (بائیں سے دائیں جانب بیٹھی )تین لڑکیاں عائشہ قاضی، زیبا منظور اور مریم معلی پنجاب یونیورسٹی کی کھلاڑی ہی نہیں جبکہ رواں سال ہونے والے انٹر یونیورسٹی مقابلوں میں تینوں لڑکیوں نے نجی یونیورسٹی آف لاہور کی نمائندگی کی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ثابت ہو گیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے کھلاڑیوں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرنے والے کون سے عناصر ہیں۔