سابق چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف کے دور میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

سابق چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف کے دور میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

لاہور (حافظ محمد عمران/ نمائندہ سپورٹس) پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین چودھری ذکاء اشرف کے 22ماہ کے دوراقتدار کے شاہانہ اخراجات مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کی ایک اور ہوشربا داستان سامنے آئی ہے۔ پی سی بی کی انٹرنل آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق چیئرمین نے سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرکٹ بورڈ کے خزانے سے اپنی کمپنی کے وکلاء کو ساٹھ لاکھ روپے کی ادائیگی کی۔ ذکاء اشرف کی ذاتی کمپنی وکلاء کو کرکٹ بورڈ سے چھ ملین روپے کی ادائیگی کی گئی اس میں سے صرف ایک وکیل کو ادا ہونے والی رقم 52 لاکھ پچیس ہزار بنتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ ادائیگیاں اس وقت کی گئیں جب بورڈ کا اپنا لیگ ڈیپارٹمنٹ موجود تھا۔ اب یہی وکلاء مسٹر ذکاء اشرف کے مقدمات لڑ رہے ہیں۔ سابق چیئرمین نے اپنے آبائی شہر اور ذاتی شوگر کے دوروں پر لگ بھگ پچاس لاکھ روپے اور ان کی اہلیہ کے غیرملکی دوروں کی مد میں کرکٹ بورڈ کو چالیس لاکھ روپے ادا کرنا پڑے۔ پی سی بی کے سابق چیئرمین کے صاحبزادے بھی اس کام میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ بہتی گنگا میں انہوں نے خوب ہاتھ دھوئے اور بنگلہ دیش کے ایک دورہ کے موقع پر صرف ہوائی ٹکٹ کی مد میں بورڈ کے پونے دو لاکھ روپے اڑا دیئے۔ کرکٹ بورڈ کی سنسنی خیز آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی سی بی کے معزول سربراہ ذکاء اشرف نے شاہانہ اخراجات اس وقت کیے جب غیرملکی ٹیموں کے پاکستان نہ آنے اور ہوم سیریز بھی بیرون ملک کھیلنے کے سبب بورڈ خاطرخواہ آمدن سے محروم تھا۔ انٹرنل آڈٹ رپورٹ کے مطابق 22 ماہ کے دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ پیسہ بے رحمانہ طریقے سے لٹایا گیا۔ اس عرصے میں ذکاء اشرف کے ملکی وغیرملکی دوروں پر لگ بھگ ایک کروڑ 43 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ یہ اخراجات اعجاز بٹ کے تین سالہ دور کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھے۔ پہلے بھی اس قسم کی تفصیلات میڈیا میں آ چکی ہیں۔ تاہم ابھی تک ان کا سلسلہ جاری ہے۔ ذکاء اشرف اپنے دور میں آبائی علاقے بہاولپور جانے کیلئے کرائے کیلئے پرتعیش کاروں کا بے دریغ استعمال تھا صرف بہاولپور کے دس دوروں میں کرکٹ بورڈ کے خزانے پر چھیالیس لاکھ بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ ان کی اہلیہ کے بارے میں بھی آڈٹ رپورٹ میں حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بیگم ذکاء اشرف آئی سی سی اجلاسوں سمیت ہر غیرملکی دورے پر اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک سفر کیا اور ان کے سفری اخراجات کی مد میں چالیس لاکھ کے لگ بھگ کا بوجھ بورڈ کے خزانے کو اٹھانا پڑا۔