ڈومیسٹک سیزن میں شاندار کاکردگی ، سلمان بٹ ، آصف کی واپسی کے امکانات روشن

کراچی(بی این پی ) قومی ٹیسٹ ٹیم میں متوقع اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں سلمان بٹ اور محمد آصف کی واپسی کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،طویل فارمیٹ کی کرکٹ میں گرین شرٹس کی خراب کارکردگی باعث تشویش ہونے کے سبب قائد اعظم ٹرافی کے کامیاب کھلاڑی بھی سلیکشن کمیٹی کیلئے قابل غورہو سکتے ہیں،دوسری جانب انجری سے نجات کے بعد اوپننگ بیٹسمین اظہر علی نے بھی اپنے کم بیک پر نگاہیں مرکوز کرلی ہیں جن کا کہنا ہے کہ فٹنس کا حتمی فیصلہ ڈاکٹروں کو کرنا ہے البتہ انٹرنیشنل کرکٹ میں جلد واپس آنا چاہتا ہوں،بہترین کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھنے کی خواہش ہے۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں سری لنکا کیخلاف گزشتہ ہوم ٹیسٹ سیریز میں ناقص کارکردگی کے بعد سزا یافتہ کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف کی قومی اسکواڈ میں واپسی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق دونوں کرکٹرز قائد اعظم ٹرافی اور دیگر ڈومیسٹک ایونٹس میں مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں لہٰذا انہیں ا?زمائش کیلئے میدان میں اتارنے پر غور کیا جا رہا ہے اور ویسے بھی ایک حالیہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ ہوا ہے کہ قائد اعظم ٹرافی میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ اسکواڈ میں ترجیح دی جائے لہٰذا دونوں سزا یافتہ کرکٹرز جلد قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں واپسی ممکن بنا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم مختصر فارمیٹ میں تو متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے تاہم ٹیسٹ فارمیٹ میں اس کی پرفارمنس سلیکشن کمیٹی کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق ملک میں جاری ڈومیسٹک ایونٹ قائد اعظم ٹرافی میں قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس ایونٹ میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں موقع ملنے کا قوی امکان ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ اسی مقصد کے تحت رواں ہفتے قومی سلیکشن کمیٹی نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا بھی دورہ کرے گی جہاں قومی کرکٹرز کی پرفارمنس کو جانچا جائے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق اس مرتبہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں کیونکہ سری لنکا کیخلاف کلین سوئپ شکست کے بعد پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں اور بورڈ نے بھی سلیکشن کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ ٹیسٹ اسکواڈ کی از سر نو تشکیل کی جائے اور اولین کوشش یہی ہو کہ سینئر بیٹسمینوں مصباح الحق اور یونس خان کی کمی پوری کی جائے جن کے جانے پر طویل فارمیٹ کی کرکٹ میں زوال کے ا?ثار نمودار ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹیسٹ کپتان کی تبدیلی کا فی الحال کوئی امکان نہیں اور سرفراز احمد کو ہی مزید موقع دیا جائے گا البتہ سینئر ا?ل راؤنڈر فواد عالم کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے کیونکہ سلیکشن کمیٹی سینئرز کی کمی پوری کرنے کیلئے متعدد متبادل ا?پشنز پر غور کر رہی ہے اور مستقبل قریب کی پلاننگ میں سلمان بٹ اور محمد ا?صف کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق اس وقت ٹیم انتظامیہ کیلئے ٹیسٹ سکواڈ میں صرف بیٹسمینوں کی ہی نہیں بالرز کی کارکردگی بھی پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے اور اسی وجہ سے بہترین دستیاب تجربہ کار بیٹسمینوں اور بالرز کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب قومی اوپننگ بیٹسمین اظہر علی نے بھی کم بیک کرنے پر نگاہیں مرکوز کی ہوئی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کی فٹنس کا حتمی فیصلہ ڈاکٹروں کو کرنا ہے تاہم وہ جلد قومی ٹیم میں واپسی کیلئے پر امید ہیں۔ انجری سے نجات کے بعد قائد اعظم ٹرافی میں سنچری کے ساتھ اپنی واپسی کو کامیاب بنانے والے بیٹسمین کا کہنا تھا کہ وہ یومیہ بنیادوں پر ڈاکٹروں سے مشورہ کر رہے ہیں اور اگرچہ انجری کے بعد واپسی کا عمل کافی مشکل اور مایوس کن ہوتا ہے لیکن وہ اپنے تجربے کی بدولت کم بیک کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ مشکل حالات میں تجربہ ہی کارا?مد ثابت ہوتا ہے۔ اظہرعلی کا کہنا تھا کہ وہ ڈاکٹروں کے مشورے سے اپنا کیریئر ا?گے بڑھاتے ہوئے مطمئن اور پرسکون ہیں اور اپنی محنت میں کوئی کمی نہیں ا?نے دیں گے۔ سابق ون ڈے کپتان کے مطابق چیلنجز اور مایوسی بھی کھیل کا حصہ ہے لیکن وہ ان تمام چیزوں کو مثبت انداز سے دیکھتے ہیں اور ان کی بھرپور کوشش ہو گی کہ جس فارمیٹ میں بھی موقع ملے بہترین کارکردگی کا تسلسل جاری رکھا جائے۔