پنجاب یونیورسٹی: ویمن کھلاڑیوں کو ممنوعہ ادویات کھلانے کا انکشاف

لاہور (سپورٹس رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی کی ویمن کھلاڑیوں کو مبینہ طور پر فوڈ سپلیمنٹ کے نام پر ممنوعہ ادویات کھلانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ویمن کھلاڑیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے انہیں زبردستی انجیکشن اور ممنوعہ ادویات کھلائی جاتی رہی ہیں شکایت کرنے پر یونیورسٹی اور ہاسٹل سے نکال دینے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ ویمن کھلاڑیوں نے وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کے نام خط میں اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف مہیا کیا جائے۔ پنجاب یونیورسٹی نے واقعہ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شعبہ سپورٹس کی چند کھلاڑیوں کی جانب سے دی گئی درخواست حقائق کے منافی ہے ۔ درخواست کے پیچھے ایک خاتون لیکچرار جس کے خلاف انکوائری چل رہی ہے، ملوث ہے اور اس کی ریکارڈنگ انتظامیہ کے پاس موجود ہے جسے کل منظر عام پر لایا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کی جانب سے کھیل کے میدانوں میں پنجاب یونیورسٹی کی پوزیشن بہتر بنانے کے لئے گراں قدر اقدامات کئے گئے ہیں اور کھلاڑیوں کو مفت رہائش اور کھانے کے ساتھ سکالرشپ بھی دئیے جاتے ہیں مگر طالبات نے انتظامیہ کو شکایت کرنے کی بجائے مخصوص عناصر کے کہنے پر پروپیگنڈہ کرنے کے لئے اعلیٰ حکام کو بے بنیاد خط لکھا۔ ترجمان نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کی کھیل کے میدانوں میں رینکنگ بہتر ہو رہی ہے جسے متنازعہ بنانے کے لئے مخصوص لابی سرگرم ہے۔