ہاکی ورلڈ لیگ ........ قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی

محمد معین
پاکستان ہاکی ٹیم ان دنوں ملائشیا کے شہر جوہربارو میں منعقد ہاکی ورلڈ لیگ کھیلنے میں مصروف ہے۔ ٹورنامنٹ میں پہلی تین پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں اگلے سال منعقد ہونے والے عالمی کپ ٹورنامنٹ کے لئے براہ راست کوالیفائی کر جائیں گی۔ پاکستان ہاکی ٹیم کی کوریا کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست نے قومی ٹیم کا خواب چکناچور کردیا ہے۔ ٹورنامنٹ میں آج دونوں سیمی فائنل سمیت درجہ بندی کے میچز کھیلے جائیں گے۔ کورارٹر فائنل میں شکست کے بعد پاکستان ہاکی ٹیم آج پانچویں سے آٹھویں پوزیشن تک کے لئے ملائشیا کے مدمقابلہ ہو گی۔ پاکستان ٹیم نے ٹورنامنٹ کا شاندار آغاز کیا تھا پہلا میچ ملائشیا کے خلاف کھیلا گیا جس میں قومی ٹیم نے خسارے میں جانے کے باوجود میچ کو چارچارگول سے برابر کردیا۔ قومی ٹیم کا ٹورنامنٹ میں دوسرا ٹاکرا انگلینڈ کی مضبوط ٹیم سے ہوا تو اس میچ میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ قومی ٹیم خسارے میں جانے کے باوجود میچ کو دو، دو گول سے برابر کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ ملائشیا اور انگلینڈ کے خلاف دو سخت میچز کھیلنے کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف قومی ٹیم سے توقعات بڑھ گئی تھیں کہ اس میچ میں بڑے مارجن سے کامیابی اپنے نام کرے تاکہ کوارٹر فائنل میں اس کا مقابلہ گروپ اے کی کسی نرم ٹیم سے آئے تاہم میچ میں پاکستان ٹیم نے شاندار کھیل پیش کیا اور 2 کے مقابلے 6 گول سے کامیابی حاصل کی۔ کوارٹر فائنل میں پاکستان کا مقابلہ کوریا سے پڑ گیا۔ پاکستان ٹیم نے کوریا کے خلاف اچھے کھیل کا آغاز کیا اور وقفہ تک اسے حریف ٹیم پر دو ایک سے برتری حاصل تھی تاہم دوسرے ہاف میں کورین ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی فارورڈ لائن کو بے بس کرتے ہوئے مزید گول کرنے سے روک دیا۔ دوسرے ہاف کا اختتام کوریا کی تین کے مقابلے چار گول کی برتری سے ہوا۔ ہاکی حلقوں میں پاکستان کی کوریا کے ہاتھوں ہونے والے شکست کو اپ سیٹ قراردیا جا رہا ہے۔ پہلی چار ٹیموں میں جگہ نہ بنا سکنے کی بنا پر قومی ٹیم نے 2014ء کے عالمی کپ ٹورنامنٹ تک رسائی حاصل کرنے کا بھی موقع گنوا دیا ہے تاہم ابھی فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ رواں ماہ کے آخر میں ملائشیا ایک اور ٹورنامنٹ کی میزبانی کے فرائض انجام دینے جا رہا ہے جو کہ ایشیا کپ ہے۔ ہاکی حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان ہاکی ٹی مینجمنٹ کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ٹیم کوریا کے خلاف کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہاکی حلقوں کا کہنا ہے کہ میچ میں عمران بٹ پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا گیا جو ٹیم کو لے ڈوبا جس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ عمران بٹ کے بڑے بھائی ریحان بٹ اس وقت پاکستان ہاکی فیڈریشن کی انتظامیہ کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے ہیں لہذاجب تک ریحانب ٹ کی خوشنودی پی ایچ ایف کے ساتھ ہے عمران بٹ کو ہی ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے مواقع دئیے جانے کا امکان ہے۔ پاکستان ہاکی ٹیم ٹورنامنٹ میں آج ملائشیا کے مدمقابل ہو رہی ہے۔ اس میچ میں کامیابی کی صورت میں قومی ٹیم پانچویں اورچھٹی پوزیشن کے لئے میدان میں اترے گی اور اگر ملائشیا کے خلاف بھی اپ سیٹ ہوا تو قومی ٹیم کو ٹورنامنٹ کی آخری دو پوزیشنز ساتویں اور آٹھویں کے لئے کھیلنا پڑے گا۔ پاکستان ہاکی کے حلقوں کو قومی ٹیم کی کارکردگی سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی گزشتہ چھ سات ماہ سے ساری توجہ دیگر سرگرمیوں پر رہی ہے جس کی وجہ سے بھی ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ ہاکی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ کی توجہ اسی طرح منفی سرگرمیوں میں ملوث رہی تو پاکستان ہاکی ایشیا کپ میں بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکے گی۔
پاکستان ہاکی ٹیم کے کوچ اجمل خان لودھی سے ملائشیا میں ٹیلی فون گفتگو ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہاکی ورلڈ لیگ سیمی فائنل ٹورنامنٹ ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل تھا بڑی امید تھی کہ اس ٹورنامنٹ میں پہلی تین ٹیموں میں جگہ حاصل کرکے 2014ءکے عالمی کپ کے لئے باآسانی کوالیفائی کر جائیں گے لیکن کوریا کے ہاتھوں ہونے والی اپ سیٹ شکست نے ہمارے تمام پلان کو چکناچور کر دیا۔ اجمل لودھی کا کہنا تھا کہ مایوسی کی بات نہیں پاکستان ٹیم ایشیا کپ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ اجمل لودھی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات غلط ہے کہ پاکستان ٹیم کا پول آسان تھا ٹورنامنٹ میں شریک کوئی بھی ٹیم آسان نہیں تھی۔ ہمارے کھلاڑیوں نے ملائشیا اور انگلینڈ کے خلاف بڑی تیز ہاکی کھیلی دونوں میچوں میں پاکستان ٹیم خسارے میں تھی اس کے باوجود دونوں میچ برابر کرنے میں کامیاب ہوئی۔ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں کھلاڑیوں کا ردھم انتہائی شاندار رہا رحیم خان نے ہیٹ ٹرک بنائی جو کہ ٹورنامنٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک تھی۔ کوریا کے خلاف میچ میں بھی پاکستان ٹیم نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا تھا تاہم میچ میں ہونے والی غلطیوں سے جیتا ہوا میچ ہم ہار گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام کھلاڑی پوری طرح تیار ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں پراگلے میچز میں قابو پائیں گے۔ گول کیپر کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں اجمل لودھی کا کہنا تھا کہ عمران شاہ اور عمران بٹ دونوں ایک جیسے گول کیپر ہیں ان کے علاوہ ابھی کوئی نیا گول کیپر پاکستانی سکواڈ میں نہیں آیا جسے موقع دیا جائے، ابھی ہمیں ان گول کیپرز پر ہی اعتماد کرنا ہو گا تاہم میری فیڈریشن سے درخواست ہے کہ وہ ملک میں گول کیپرز کی تلاش کے لئے ٹیلنٹ ہنٹ کیمپ کا انعقاد کرے۔ قومی ٹیم کے کوچ کا کہنا تھا کہ ہمارے یہی کھلاڑی قوم کو خوشخبریاں دیں گے گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے۔