عبوری کمیٹی اور پی او اے ........ آخری راونڈ شروع

حافظ محمد عمران
انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے بار بار واننگ کے باوجود پاکستان سپورٹس بورڈ کی آشیرباد نے بننے والے عبوری کمیٹی نے با لآخر پی او اے کے غیر قانونی الیکشن مکمل کر لیے ہیں۔ ان الیکشن کی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے اور اس طرح کے اقدام سے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر معطلی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آئی او سی ایگزیکٹو بورڈ ان انتخابات کو کس طرح لیتا ہے اس کا فیصلہ بھی جلد سامنے آ جائے گا۔ تاہم پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عارف حسن کا کہنا ہے کہ غیر قانونی عبوری کمیٹی کی وجہ سے پاکستان کی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی سے رکنیت کی معطلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری عبوری کمیٹی اور پاکستان سپورٹس بورڈ پر عائد ہوگی۔پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے انتخابات کے بعد سے ہی پاکستان سپورٹس بورڈ اور پی او اے کے درمیان یہ کشمکش چلی آرہی ہے۔اس حوالے سے افسوسناک بات یہ ہے کہ عہدوں کے لالچ اور ذاتی مفاد کے باعث ملک کا وقار اور کھیلوں کا مستقبل داﺅ پر لگادیا گیا ہے۔جنرل عارف حسن کے انتخاب کے بعد معاملے کو خوامخواہ الجھایا گیا اور اسے اس سطح پر پہنچادیا گیا ہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے پاکستان میں جاری کھیلوں کے معاملات میں سرکاری مداخلت پر رکنیت معطل کرنے کے حوالے سے حتمی وارننگ جاری کردی ہے مگر اس کے باوجود پاکستان سپورٹس بورڈ اپنی ضد چھوڑنے کو تیار نہیں۔
نیشنل گیمز کے انعقاد کے حوالے سے بھی قومی مفاد کو یکسر نظر انداز کیا گیا اور عبوری کمیٹی کی نگرانی میں قومی کھیلوںکے مقابلے منعقد کروادئیے گئے۔ لاہور ہائیکور اس پر فیصلہ دے چکی ہے کہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ان مقابلوں کو32ویں نیشنل گیمز کا نام نہیں دیا جاسکتا۔اس کے باوجود عبوری کمیٹی بضد ہے کہ وہ قومی کھیلوں کو ”کامیابی سے“ منعقد کر وا رہی ہے۔ہمارے ہاں یہ عجیب روایت ہے کہ عہدوں کے حصول کیلئے قومی مفاد کو پس پشت ڈال دیاجاتا ہے۔یہی حال عبوری کمیٹی کے ارکان کا ہے۔تاہم اب یہ خبریں بھی سننے میں آرہی ہیں کہ عبوری کمیٹی کے اراکین میں بھی باہم اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور کئی سپورٹس آرگنائزیشنز بھی دوبارہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی طرف رجوع کر رہی ہیں۔یہی بہتر طریقہ ہے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر کا انتخاب باقاعدہ ووٹنگ کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت عمل میں آیا تھا،اس انتخاب کو تسلیم نہ کرنے والوں نے محض عہدے کے لالچ میں قومی مفاد کو داﺅ پر لگادیا اور اب پاکستان کو پابندی کے خطرے سے بالکل ٹریپ کردیا ہے۔پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن پر ایڈہاک لگانے والے اور عبوری کمیٹی تشکیل دینے والے سب موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ان سب کے خلاف انکوائری ہونی چاہئے اور انہیں ملک میں پہلے سے زوال کا شکار کھیلوں کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب ہوناچاہئے۔ اب جبکہ عبوری کمیٹی کے سیکرٹری جنرل رانا مجاہد اولمپین نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے اور جنرل(ر) عارف حسن کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے وہ خود بھی سیکرٹری جنرل کے عہدے کیلئے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ضروری ہے کہ کھیلوں کے ارباب اختیار ملکی مفاد کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کریں۔ جنرل(ر) عارف حسن نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کا وقت مانگا ہے،امید ہے وزیراعظم اصل حقائق جاننے کے بعد ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دیں گے اور ملک کے مفاد میں جلد از جلد اس متنازع کو حل کریں گے تاکہ پاکستان پر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی طرف سے پابندی کا خطرہ ٹل سکے اور اختلافات و تنازعات ختم کرکے کھیلوں کے فروغ کیلئے اقدامات کیے جاسکیں۔