دورہ ویسٹ انڈیز توقعات پر پورا اترا جا سکے گا؟

چودھری محمد اشرف
پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلی کے ساتھ قومی ٹیم بھی کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی ہے تاہم نئے چیئرمین نے سابقہ دور میں کام کرنے والی قومی سلیکشن کمیٹی کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیم میں متعدد کھلاڑی وہی ہیں چند ایک نوجوان کھلاڑیوں کو دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے موقع دیا گیا ہے تاہم قوی امکان ہے کہ ماضی کی طرح نئے کھلاڑی ٹیم کے ساتھ صرف اور صرف سیر و تفریح تک ہی محدود رہیں گے۔ پی سی بی کے معطل چیئرمین چودھری ذکاءاشرف کی جگہ قائم مقام چیئرمین نجم سیٹھی کی تقرری کی گئی ہے جنہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی تین ماہ کی مہلت دی ہے کہ وہ انتخابی عمل کو مکمل کریں تاہم یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ نئے قائم مقام چیئرمین کس قسم کے انتخابی عمل کو پورا کرینگے۔ قائم مقام چیئرمین پی سی بی کی تعیناتی کے خلاف مقدمے کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی۔ قائم مقام چیئرمین نجم سیٹھی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کےلئے کوشاں ہوں ہر قسم کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ اپنی پہلی میڈیا بریفنگ میں چیئرمین پی سی بی نے صاف انکار کر دیا تھا کہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ یک بحالی ان کی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے۔ پتہ نہیں انہوں نے عدالت میں جا کر انٹرنیشنل کرکٹ یک بحالی کی ذمہ داری کیسے قبول کر لی۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ وہ قائم مقام چیئرمین کا عہدہ قبول نہیں کر رہے تھے تاہم وزیراعظم نے کہا تھا کہ آپ نے پنجاب میں شفاف کام کیا اس لیے کرکٹ کو بھی کرپشن سے پاک کریں۔ عدالت نے قائم مقام چیئرمین کو حکم دیا کہ پی سی بی کے90 دن میں انتخابات کرا کر مستقل چیئرمین کی تقرری عمل میں لائی جائے۔ صرف بورڈ کی کمیٹی ہی دستور بنا سکے گی جس پر نجم سیٹھی نے کہاکہ عدالت نے مجھے پراعتماد کا اظہار کیا،90 روز میں کرکٹ بورڈ کے مسائل حل کریں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے کوشش کررہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔نجم سیٹھی نے کہاکہ انھوں نے یہ ذمہ داری طویل عرصے کےلئے قبول نہیں کی اور وہ بورڈ اور ٹیم میں نظم و ضبط لانے کی کوشش کریں گے۔ قائم مقام چیئرمین کو شاید ابھی اپنے اختیارات کا نہیں پتہ کہ انہوں نے ٹیم میں کیسے نظم و ضبط لانا ہے ایسے بیان سے کھلاڑیوں کے من مانی کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ویسے سابق چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے ٹیم سے پلیئرز پاور کا خاتمہ کیا تھا کوئی دوسرا چیئرمین ابھی تک ایسا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کل ویسٹ انڈیز کے دورہ پر روانہ ہو رہی ہے جہاں وہ میزبان ٹیم کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے علاوہ دو ٹی ٹونٹی میچز کیھلے گی۔ سبکدوش ہونے والی قومی سیلکشن کمیٹی نے ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچز کے لیے الگ الگ ٹیموں کا اعلان کر رکھا ہے۔ ون ڈے ٹیم کے لیے مصباح الحق جبکہ ٹی ٹونٹی میچز کے لیے ایم حفیظ کو کپتان برقرار رکھا ہے۔ آل راونڈ شاہد آفریدی اور عمر اکمل دونوں فارمیٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ عمران فرحت، شعیب ملک اور کامران اکمل چیمپیئنز ٹرافی کی ناقص کارکردگی کی بنا پر سلیکشن کمیٹی کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں ضرورت بھی اس امر کی ہے کہ ٹیم میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی چھٹی کر کے نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے۔ ون ڈے سکواڈ میں ریگولر وکٹ کیپر ہونے کے باوجود عمر اکمل سے دونوں فارمیٹ میں وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری لی جائے گی۔ ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے چیف سلیکٹر اقبال قاسم کا کہنا تھا کہ شاہد آفریدی کو چیمپیئنز ٹرافی میں بیٹنگ آرڈر کی ناکامی کی وجہ سے نچلے نمبروں پر ساتویں نمبر کے طور پر شامل کیا گیا ہے دوسرا ان کے شامل ہونے سے ٹیم کے تجربہ میں بھی اضافہ ہوا ہے کیونکہ مشکل صورتحال میں ٹیم کو تجربہ کار کھلاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے امید ہے کہ شاہد آفریدی دورہ ویسٹ انڈیز میں اپنے انتخاب کو درست ثابت کرینگے۔ چیف سلیکٹر نے اچھا دلیل دی ہے کہ ٹیم کو تجربے کی ضرورت ہے اگر اتنے ہی تجربے کی ضرورت ہے تو سابق کھلاڑی جاوید میانداد، انضمام الحق کو کیوں ٹیم میں واپس نہیں لیا جاتا۔ چلے ہوئے کارتوس کسی جنگ میں کام نہیں آتے۔ اقبال قاسم کا یہ بھی کہنا تھا کہ دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے قومی سکواڈ میں ینگسٹر کو 2014ءمیں منعقد ہونے والے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کو مد نظر رکھ کر موقع دیا جا رہا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے اعلان کردہ 16 رکنی سکواڈ میں ناصر جمشید، احمد شہزاد، محمد حفیظ، مصباح الحق (کپتان)، اسد شفیق، عمر اکمل، شاہد آفریدی، سعید اجمل، وہاب ریاض، جنید خان، ایم عرفان، اسد علی، عمر امین، محمد رضوان، عبدالرحمان اور حارث سہیل شامل ہیں جبکہ دو ٹی ٹونٹی میچز کے لیے ناصر جمشید، احمد شہزاد، محمد حفیظ، حارث سہیل، عمر اکمل، حماد اعظم، شاہد آفریدی، سعید اجمل، سہیل تنویر، وہاب ریاض، محمد عرفان، اسد علی، عمر امین، ذوالفقار بابر اور جنید خان شامل ہیں۔ پاکستان ون ڈے ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ چیمپیئنز ٹرافی کی طرح ویسٹ انڈیز دورہ ویسٹ انڈیز میں اچھی اور بری کارکردگی کے ذمہ دار ہونگے۔ ویسٹ انڈیز کی وکٹیں پاکستان ٹیم کو سوٹ کرینگی امید ہے کہ کھلاڑی اچھے رزلٹ فراہم کرینگے۔ قومی کپتان کا کہنا تھا کہ چیمپیئنز ٹرافی کے لیے اعلان کردہ ٹیم بھی مشاورت سے بنائی گئی تھی اس مرتبہ بھی ٹیم تمام لوگوں کی مشاورت سے بنی ہے۔ مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے ینگسٹر کو زیادہ سے زیادہ موقع دیا گیا ہے۔ پہلا ٹارگٹ ٹیم کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرنا ہے کوئی میچ یا سیریز کو کو ٹارگٹ نہیں بنایا گیا ہے نظریں صرف اور صرف کامیابی پر ہیں۔ ٹی ٹونٹی ٹیم کے کپتان محمد حفیظ نے کہاکہ انہوں نے تینوں میں فارمیٹ میں یکساں کارکردگی دکھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ الزام درست نہیں کہ وہ صرف ٹی ٹونٹی میں پرفارم میں کرتے ہیں۔ حفیظ نے کہاکہ چیمپئنزٹرافی میں ناکامی کی وہ بھی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور تمام کھلاڑی ناقص کارکردگی پر ذمہ دار ہیں۔ محمد حفیظ نے کہاکہ پاکستانی ٹیم کے پاس بے پناہ ٹیلنٹ ہے اور انہیں یقین ہے کہ دورہ ویسٹ انڈیز میں کھلاڑی نہ صرف عوام کو خوشی دیں گے بلکہ اپنی ساکھ کو بھی بہتر کریں گے۔