مناسب سہولیات ملیں نہ مراعات‘ 2013ءمیں خواتین کھلاڑیوں کا استحصال جاری رہا

مناسب سہولیات ملیں نہ مراعات‘ 2013ءمیں خواتین کھلاڑیوں کا استحصال جاری رہا

لاہور (حافظ محمد عمران) سال 2013ءمیں بھی پاکستان کی خواتین کھلاڑیوں کا استحصال جاری رہا انہیں مناسب سہولتیں فراہم کی گئیں اور نہ ہی ایسی مراعات کہ وہ ملک کے لئے مزید کامیابیاں حاصل کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار کھیلوں سے وابستہ خواتین نے وقت نیوز کے پروگرام ”گیم بیٹ“ میں کیا۔ پاکستان کی نمبر ون ٹینس پلیئر عشفاءسہیل نے کہا کہ 2013ءمیں اپنی کارکردگی سے اس لحاظ سے مطمئن ہوں کہ میں اپنے طور پر بھرپور محنت کر رہی ہوں اور جتنے مواقع ہمیں میسر ہیں اس کے مطابق میری کارکردگی اچھی رہی ہے۔ میں نے یورپ میں عالمی سطح کے مقابلوں میں شرکت کی اور سپینش مونٹی ٹینس ٹورنامنٹ میں کامیابی بھی حاصل کی۔ تاہم میں سمجھتی ہوں کہ ملک میں انٹرنیشنل مقابلے نہ ہونے سے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری نظر نہیں آ رہی۔ والدین کے لئے اپنی بیٹی کی سکیورٹی بہت اہم ہوتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ لڑکیوں کو خواتین کوالیفائیڈ کوچزاور خواتین آفیشلز کے ساتھ ہی ٹریننگ کے مواقع دیئے جائیں۔ میں جہاں بھی جاتی ہوں لڑکیوں کے والدین سے یہی کہتی ہوں کہ ان کا ساتھ دیں اور آگے پڑھنے میں مدد کریں۔سیکرٹری پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن (وومن ونگ) راحت خان نے کہا کہ خواتین ہاکی پلیئرز کے لئے فیڈریشن کی طرف سے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں اور نہ ہی حکومت کی طرف سے۔ نیشنل وومن چیمپئن شپ کے انعقاد کے لئے تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا تھا مگر فیڈریشن نے اسے بھی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا ہے۔ ہاکی کے پیٹرن وزیر اعلیٰ پنجاب سے مل کر خواتین کھلاڑیوں کے لئے الگ سٹیڈیم اور ہاسٹلز کے قیام کی درخواست کریں گے۔خاتون سپورٹس جرنلسٹ مناءرانا نے کہا کہ ایک کھیل کی کئی فیڈریشنز بننے اور ان میں بھی دھڑے بندی سے خواتین کی کھیلیں بُری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ وومن سپورٹس کی فیڈریشنز کو خواتین کے سپرد کرکے خود مختار اور الگ کر دینا چاہئے۔وومن کبڈی ٹیم کی کپتان مدیحہ لطیف نے کہا کہ کبڈی ٹیم کا پہلی بار انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت ہونا خوش آئند ہے مگر یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ کھیلوں سے وابستہ ارباب اختیار کو باہمی اختلافات ختم کرکے وومن سپورٹس کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے جو لڑکیاں ملک کا نام روشن کرنے کا جذبہ لے کر باہر نکلتی ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔باسکٹ بال پلیئر نشاءچودھری نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی کھیلوں کو اس طرح اہمیت نہیں دی جاتی جیسے مردوں کے کھیلوں کو دی جاتی ہے۔ کرکٹ اور ہاکی کے علاوہ دیگر گھیلوں کی فیڈریشنز کو بھی اس قابل بنایا جائے کہ وہ کھلاڑیوں کو سہولتیں فراہم کریں۔