ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس ‘ سیکورٹی خطرات نظرانداز‘ ایشیا کپ بنگلہ دیش میں کرانے کا اعلان

ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس ‘ سیکورٹی خطرات نظرانداز‘ ایشیا کپ بنگلہ دیش میں کرانے کا اعلان

کولمبو(آئی اےن پی)ایشین کرکٹ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ امن وامان کی مخدوش صورتحال اور سکیورٹی خطرات کے باوجود ایشیاکپ کرکٹ ٹورنامنٹ شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش میں ہوگا،ایونٹ میں افغانستان کو بھی شامل کرلیاگیا۔ہفتہ کو ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس اے سی سی کے صدر اشرف الحق کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی نمائندگی چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی جگہ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے کی۔ ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ زکے سربراہان شریک ہوئے ۔ اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈنے بنگلہ دیش میں کرکٹ کھیلنے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تاہم بھارت کی مخالفت کے باعث پاکستان کے تحفظات کو رد کردیا گیا۔ پی سی بی نے ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں بنگلہ دیش میں ہونے والے پاکستان کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے بھی بات چیت کی لیکن پاکستانی موقف کو اجلاس میں پذیرائی نہ مل سکی ۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر نظم الحسن نے تمام ممالک کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔بنگلہ دیش میں خراب حالات کے باعث ایونٹ کی میزبانی کسی اورملک کوسونپے جانے کاامکان تھالیکن کولمبو میں ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ ایشیاکپ شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش میں ہوگا۔پاکستان ،سری لنکا،بھارت اوربنگلہ دیش کے علاوہ افغانستان کوبھی شامل کر لیا گیاہے۔ افغانستان کی ایونٹ میں شمولیت کی درخواست بھارت نے کی جسے منظورکرلیا گیا۔ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد اجلاس میں پاکستان کا کیس بھرپور انداز میں پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ۔ پی سی بی کی عبوری انتظامی کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے اجلاس میں خود نہ جاکر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا اورپاکستانی ٹےم کو شدیدخطرات میں ڈال دیا۔ اے سی سی کے اجلاس میں بھارت نے حسب روایت آئی سی سی کی طرح اپنی بالادستی ثابت کردی ہے ۔پاکستان نے مضبوط موقف کو کمزور انداز میں پیش کیا جس کے باعث پاکستانی ٹےم کو شدید تناﺅ اور سکیورٹی خطرات میں بنگلہ دیش جانا پڑے گا۔قومی ٹےم کو بنگلہ دیش میں بھارت کی طرح کے کراﺅڈ کا سامان کرنا پڑے گا ۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے انعقاد کے لئے دارالحکومت ڈھاکہ، چٹاگانگ اور سلہٹ کا انتخاب کیا تھا تاہم تینوں شہروں میں گزشتہ ایک ماہ سے پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔