بھارتی سری نواسن کو شکست‘ سید رضی نواب ایشین سکواش فیڈریشن کے نائب صدر منتخب


لاہور (سپورٹس ڈیسک) ایشین سکواش فیڈریشن میں آٹھ سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کی دوبارہ ’انٹری‘ کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان کے ائروائس مارشل سید رضی نواب بھارتی امیدوار سری نواسن سبرامینم کو شکست دے کر ایشین سکواش فیڈریشن کے نائب صدر منتخب ہوئے ہیں جس کے بعد اس بات کے امکانات روشن ہوگئے ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر ایشیائی سکواش میں اہم کردار ادا کر سکے گا۔ بین الاقوامی کھیلوں میں بھارت اپنی مضبوط معاشی پوزیشن کے سبب حالیہ برسوں میں سپر پاور کے طور پر سامنے آیا ہے۔ آئی سی سی فیصلے کرتے وقت بی سی سی آئی کو ناراض کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی اسی طرح ایف آئی ایچ کے فیصلہ ساز بھی بھارتی سپانسرشپ کی چکاچوند چمک کو بخوبی سمجھتے ہیں اور اب تو فارمولا ون میں بھی بھارت کی گہری دلچسپی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ورلڈ سکواش فیڈریشن کی باگ ڈور اس وقت بھارت کے نارائن راما چندرن کے ہاتھوں میں ہے جو اس سے قبل ایشین سکواش فیڈریشن کے بھی صدر رہے۔ اس تناظر میں ایشین سکواش فیڈریشن کے حالیہ الیکشن میں سری نواسن سبرامینم بہت ہی مضبوط پوزیشن میں تھے وہ ایشین سکواش فیڈریشن کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں اور دوسری مدت کے لئے نائب صدر کا الیکشن لڑ رہے تھے۔ ان کی انتخابی مہم میں راما چندرن بھی پیش پیش رہے لیکن رکن ممالک کی اکثریت نے تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے پاکستان کو ووٹ دیا۔ نومنتخب نائب صدر ائر وائس مارشل رضی نواب جو پاکستان سکواش فیڈریشن کے سینیئر نائب صدر بھی ہیں اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے اور اپنی چار سالہ مدت کے دوران وہ ان فاصلوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان اور ورلڈ سکواش کے درمیان پیدا ہو چکے ہیں۔ ائر وائس مارشل رضی نواب کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ صرف عالمی چیمپیئنز کا ملک ہے بلکہ اس نے کوچنگ اور انتظامی معاملات میں بھی ہمیشہ دوسرے ملکوں میں سکواش کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
 شاید ہی کوئی ایشیائی ملک ہو جہاں پاکستانی کوچز موجود نہ ہوں لیکن یہ بات بھی شدت کے ساتھ محسوس کی گئی ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی اسکواش میں تنہا کیا گیا ہے۔
 پاکستان میں بین الاقوامی ٹورنامنٹس نہیں ہو پارہے ہیں جبکہ یورپ اور امریکہ میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کے خواہش مند پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ سید رضی نواب کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ پاکستان اور دوسرے ملکوں کے درمیان اسکواش روابط مستحکم کئے جائیں اور دوطرفہ مقابلے شروع کئے جائیں۔ سکواش میں پاکستان کا وسیع تجربہ کئی ملکوں کے کام آسکتا ہے۔