یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام منفرد، ملکی کرکٹ کیلئے مفید ہے : علی ضیاء

لاہور (حافظ محمد عمران/نمائندہ سپورٹس) گیارہ سال بعد پاکستان کی انڈر 17 ٹیم کسی بیرون ملک دورے پر جا رہی ہے۔ کھلاڑیوں کو بھرپور انداز میں تیاری کروائی جا رہی ہے۔ ہمارا یوتھ ڈویلپمنٹ کا پروگرام بہت منفرد اور ملکی کرکٹ کیلئے مفید ہے۔ انڈر 17 والے کرکٹرز کی بڑی تعداد انڈر 19 اور پھر اس سطح کے کرکٹرز کی بڑی تعداد فرسٹ کلاس کرکٹ اور بعد میں قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار منیجر انڈر 17 کرکٹ ٹیم علی ضیاء نے وقت نیوز کے پروگرام گیم بیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈر 17 ٹیم کی سلیکشن خالصتاً میرٹ پر ہوئی ہے اور پرفارمرز کو ہی موقع ملا ہے۔ دورہ انگلینڈ کیلئے بھی وہاں کے موسمی حالات کے مطابق کھلاڑیوں کو ٹریننگ کروائی جا رہی ہے۔ کھلاڑی باصلاحیت ہیں اور ان سے اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔ انڈر 17 اور انڈر 19 کی سطح پر ٹیم انتظامیہ کو کم از کم دو سال تک ذمہ داریاں ملنی چاہئیں۔ انڈر 17 ٹیم کے کپتان عمران رفیق کا کہنا تھا کہ مجھے گھر والوں نے کرکٹ کھیلنے سے روکا تھا کیونکہ تاثر یہی تھا کہ ٹیلنٹ کی قدر نہیں  لیکن میں پرفارم کرکے اس سطح تک پہنچا ہوں تو سب بہت خوش ہیں۔ میرے علاقے کے لوگوں میں بھی اب کھیل کا شوق بڑھا ہے۔ نائب کپتان حسن خان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ پہلا غیرملکی دورہ ہے۔عمدہ کارکردگی کیلئے وہاں کے حالات کے مطابق تیاری کر رہے ہیں۔ کوچنگ سٹاف بہت مدد اور رہنمائی کر رہا ہے۔  سلطان محمود نے کہا  کہ والد کی خواہش ہے کہ وسیم اکرم کی طرح ملک کا نام روشن کروں۔محنت کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔گوہر حفیظ کا کہنا تھا کہ تین سنچریاں اور تین نصف سنچریاں بنا کر سلیکشن کمیٹی کی نظروں میں آیا تھا۔  دورہ انگلینڈ میں بہتر کارکردگی کیلئے پُرعزم ہوں۔