ورلڈکپ میں تمام ٹیموں کیخلاف فوکس کرنا ہو گا :مشتاق احمد

ورلڈکپ میں تمام ٹیموں کیخلاف فوکس کرنا ہو گا :مشتاق احمد

لاہور(سپورٹس رپورٹر/نمائندہ سپورٹس) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سپن با¶لنگ کوچ مشتاق احمد نے کہا ہے کہ عالمی کپ ٹورنامنٹ میں بھارت کے خلاف نہیں پوری ٹیموں کے خلاف فوکس کرنا ہوگا۔ پاکستان ٹیم میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ کسی بھی ٹیم کو شکست دے سکتی ہے۔ ٹی ٹونٹی اور ایک روزہ کرکٹ میں سپنرز کے کردار کو کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قذافی سٹیڈیم میں جاری انڈر 19 فاسٹ ٹریک کوچنگ پروگرام کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی کپ ٹورنامنٹ میں اچھی کرکٹ کھیل کر کامیابی حاصل کرینگے۔ بھارت کے خلاف ہمیشہ پاکستان کا میچ سنسنی خیز ہوتا ہے چاہے وہ پہلا میچ ہو یا آخری۔ ہمیں تمام ٹیموں کو فوکس کر کے ان کے خلاف اچھی تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس نے کھلاڑیوں میں اعتماد پیدا کرنا شروع کیا ہے کہ وہ جیت سکتے ہیں۔ انشااﷲ اسی طرح کام جاری رہا تو اچھے نتائج بھی حاصل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں جتنے اچھے پروگرام ہو رہے ہیںایسے ہی پروگرام انگلینڈ میں بھی ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعید اجمل، محمد حفیظ اور شاہد آفریدی کافی عرصے سے پاکستان ٹیم کی سپن با¶لنگ کے شعبہ کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے اچانک سعید اجمل کے بعد ایم حفیظ کا ایکشن متنازعہ قرار دیئے جانے کے بعد تھوڑی بہت مشکل پیدا ہوئی ہے ہمیں تھوڑی محنت کرنا ہوگی پاکستان میں ٹیلنٹ موجود ہے۔ اب سلیکشن کمیٹی پر منحصر ہے کہ وہ نئے ٹیلنٹ کو کیسے تلاش کرتی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں یاسر شاہ، ذوالفقار بابر نے جس طرح پرفارم کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں اچھا ٹیلنٹ موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ شاہد آفریدی کی یو اے ای میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں فارم بحال ہو گئی ہے جس کا پاکستان کرکٹ کو عالمی کپ میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کو تمام ٹیموں کے خلاف حکمت عملی تیار کر کے میدان میں اترنا ہوگا کسی ایک ٹیم کے خلاف حکمت عملی سے ٹورنامنٹ نہیں جیتے جاتے۔ سپن باولنگ کوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام انڈر 19 فاسٹ ٹریک کوچنگ پروگرام کے تحت نوجوان کھلاڑیوں پر فوکس کیا جا رہا ہے۔ جس میں کھلاڑیوں کی فزیکل فٹنس کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ کے شعبہ میں بہتری کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔