جمعرات ‘ 11 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘30 ؍ نومبر2017ء

جمعرات ‘ 11 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘30 ؍ نومبر2017ء

روس طالبان کی حمایت کر رہا ہے۔ گلبدین حکمت یار

اگر یہ سچ ہے تو اس میں حیرت کیسی۔ جو کام روس کے خلاف امریکہ نے کیا آج اگر روس کو موقع مل رہا تو وہ وہی کام امریکہ کیخلاف کر رہا ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ پہلے طالبان کا وجود نہیں تھا امریکہ کے ہاتھوں روس کیخلاف استعمال ہونے گلبدین حکمت یار کے مجاہدین تھے۔ اب جب روس اپنا بدلہ امریکہ سے چکا رہا ہے تو ان لوگوں کا نام مجاہدین کی بجائے طالبان پڑ گیا ہے۔ خود گلبدین حکمت یار اس ساری کہانی کے چشم دید گواہ ہیں۔ مجاہدین سے طالبان تک کا سفر انہوں نے خود دیکھا ہے۔ اصل میں دکھ تو اس بات کا ہے کہ افغانوں جیسی جنگ جو اور بہادر قوم کو کبھی مجاہدین اور کبھی طالبان کے نام پر خود اس کے رہنماؤں نے لیڈروں نے لڑوایا اور مروایا۔ خود خوب مال کمایا۔ پہلے ترہ کئی ببرک کارمل تھے اب حامد کرزئی اور اشرف غنی ہیں جو حکومت کر رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ دانشمندی سے کام لیتے تو آج افغانستان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ افغان قوم نے جس بہادری سے روس اور امریکہ کو اپنے ملک پر قبضے کا دندان شکن جواب دیا ہے‘ وہ قابل تعریف ہی نہیں ناقابل فراموش ہے۔ اب عالمی شطرنج کے کھلاڑی پھر ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں پہلے راؤنڈ میں شکست کھانے والااب دوسرا راؤنڈ جیتنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ پہلے روس کو شہ مات ہوئی اب وہ امریکہ کو شہ مات دے کر حساب برابر کرنا چاہتا ہے۔ اس لڑائی میں نقصان صرف اور صرف بے گناہ افغانیوں کا ہو رہا ہے۔ جس کے ذمہ دار خود افغان حکمران اور رہنما ہیں جو مگرمچھ کے آنسو بہا کر افغانوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
قطری شہزادے حماد بن جاسم کی وفد کے ہمراہ نواز شریف سے ملاقات
قطر والے ہوں یا عرب والے ان کی میاں نواز شریف سے محبت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ سعودی عرب والے بھی میاں صاحب کی سعودی عرب میں کی جانیوالی اربوں کی سرمایہ کاری کی وجہ سے ان سے زیادہ عرصہ ناراض نہیں رہتے۔ لیکن قطر والوں کی طرف سے میاں صاحب سے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ شہزادہ حماد بن جاسم کی ملاقات سے کہیں وہ سیخ پا نہ ہو جائیں کیونکہ اس وقت سعودی عرب اور قطر کے درمیان تعلقات ساس اور بہو والے ہیں۔ مگر عربوں کی اربوں والوں کیساتھ دوستی اپنی جگہ مسلم ہے۔ اب یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ قطری شہزادے حماد بن جاسم کا یہ اچانک دورہ کیوں طے پایا ہے۔ دشمنوں کو تو پہلے ہی میاں صاحب اور عربوں کی دوستی کانٹے کی طرح چبھتی ہے۔ اب وہ اس پر بھی طرح طرح کی لاف زنی کرتے نظر آئیں گے۔ کوئی اسے این آر او کی کوشش کا نام دے گا کوئی بااحترام قطر لے جانے کا فسانہ سنائے گا۔ کوئی مقتدر قوتوں اور میاں صاحب میں افہام و تفہیم کی سفارتکاری قرار دے گا۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں ہوں گی۔اب اصل بات صرف میاں صاحب اور شہزادہ حماد کے علم میں ہے۔ ملاقات ان دونوں میں ہوئی ہے۔ تکلیف دوسروں کو ہو رہی ہے۔ وہ اب خوب اپنے دل کا غبار نکالیں گے کیونکہ بہت سے لوگ صلح و صفائی کی بجائے جنگ و جدال پسند کرتے ہیں۔ مگر کیا کریں اگر ضامن مضبوط اور بااثر ہو تو پھر لامحالہ نہ چاہتے ہوئے بھی معاہدہ تو کرنا پڑتا ہی ہے۔ این آر او کہہ لیں یا افہام و تفہیم کی راہ خود بخود نکل آتی ہے۔ جیسے دھرنے والوں کے ساتھ نکالی گئی۔
٭٭٭٭٭٭
سیاسی جماعتوں کے لئے 2 ہزار ممبران لازمی ہونے کا نوٹیفکیشن چیلنج
عدالت کو چاہئے کہ وہ پہلی فرصت میں الیکشن کمشن کا یہ فرمان عالی شان چیلنج کرنے والے کی درخواست مسترد کر کے اسے داخل دفتر اور عدالت کا قیمتی وقت برباد کرنے کی کوشش کرنے والے اس درخواست گزار کو معقول مدت کے لئے جیل کے اندر اصلاح قلوب کے لئے بھجوا دے۔ کیا اس درخواست گزار کو علم نہیں کہ ہمارے ہاں برساتی کھمبیوں کی طرح سیاسی جماعتیں اور این جی اوز وجود میں آتی ہیں۔ ان کا مقصد کیا ہوتا غالباً یہ ان جماعتوں اور تنظیموں کے بنانے والے بھی نہیں جانتے ہوں گے۔ این جی اوز کا مقصد تو صاف ظاہر ہے فنڈز ہڑپ کرنا ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا سمجھ نہیں آتا کیا ہو گا۔ کیا وہ صرف پریشر ڈالنے کے لئے یا صرف اپنے نام کے ساتھ سیاسی رہنما کا دم چھلا لگانے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ الیکشن کمشن نے 2 ہزار تو کجا‘اگر ایک ہزار ممبران کا ہی حکم دیا ہوتا تو ہماری سینکڑوں سیاسی جماعتوں کے لئے اتنے ممبران جمع کرنا مشکل ہو جاتا۔ تانگہ پارٹی کی خوبصورت اصطلاح انہی جماعتوں کے لئے ہی استعمال ہوتی ہے۔ جن کی افرادی قوت بمشکل تین یا چار افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ مگر وہ خود کو رہبر و رہنما قرار دینے سے بھی نہیں چوکتے۔
اب الیکشن کمشن کے اس فیصلے سے امید تھی کہ عوام کی ان جماعتوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ اس طرح سیاسی میدان میں پھیلا گند بھی کچھ کم ہو جائے گا۔ مگر لگتا ہے عدالتوں میں درخواست بازی کرنے والے باز نہیں آ رہے اور وہ اس اہم مسئلہ میں بھی ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد کے خلاف عدالتوں کو خود ہی ایکشن لینا چاہئے تاکہ ان کا قیمتی وقت برباد کرنے والوں کو کان ہوں اور وہ آئندہ درخواست بازی کا شغل فرمانے سے پہلے نتائج پر بھی نظر رکھیں گے۔
٭٭٭٭٭٭
مارشل لا کا زمانہ گیا۔ اب جو تحفظ دے گا اس پر بھی آرٹیکل 6 لگے گا: مشرف
بیرون ملک مقیم عدالتی مفرور پرویز مشرف کو بھی نت نئی سوجھتی ہے۔ وطن میں تھے تو عدالت تک جانے کے قابل نظر نہیں آتے تھے۔ کبھی سٹریچر پر کبھی ویل چیئر پر شدید بیمار نظر آتے تھے۔ جیسے ہی ملک سے باہر بھاگے بھلے چنگے ہو گئے۔ کبھی جاکنگ کرتے اور کبھی رقص کرتے نظر آتے ہیں۔ اب مارشل لا کیخلاف بھی بیان داغ رہے ہیں۔ حالانکہ وہ خود بھی اسی مارشل لا کے صدقے میں ہوا میں سابق آرمی چیف بننے کے بعد بھی زمین پر اترے تو جرنیلی چیف ایگزیکٹو اور صدر پاکستان بن چکے تھے۔ انہوں نے بھی عدالتوں سے ہی حکمرانی کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ تو بھلا اب وہ کس طرح مارشل لا نہ لگنے کا فتویٰ جاری کر رہے ہیں۔ کیا مارشل کسی سے پوچھ کر لگایا جاتا ہے۔ اور کیا مارشل لا اپنے تحفظ کیلئے واقعی کسی کے تحفظ کا محتاج ہے۔ ہمارے ہاں تو پی او سی کے تحت بھی حلف اٹھا کر نظام کو رواں دواں رکھا جاتا ہے۔ رہی بات آرٹیکل 6 کی تو کل کو اگر کوئی مارشل لا آتا ہے تو مشرف کی طرح وہ بھی آرٹیکل 6 کو الٹا کر 9 دو گیارہ ہو جائیگا۔ آخر 9 اور 6 میں صرف الٹ پھیر کا ہی فرق ہے۔ ویسے یہ اچھی منطق ہے۔
’’جو یہاں پیو تو حرام ہے جو وہاں پیو تو حلال ہے‘‘
حضرت کو آرٹیکل 6 کا تقدس یاد آیا تو پہلے وہ اپنی ذات گرامی پر اس کا اطلاق کرلیں کیونکہ یہ ’’مصیبت‘‘ ابھی تک انکے سر سے ٹلی نہیں۔ انکے باہر فرار ہونے سے آرٹیکل 6 کا مقدمہ بس مؤخر ہوا ہے ختم ہرگز نہیں ہوا۔ کیا یہ خطرہ مول لے کر وہ ملک واپس آنا پسند کرینگے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ موصوف ذرا اپنی جوانمردی دکھائیں تو سہی۔