ہفتہ ‘ 11 شعبان المعظم 1436ھ ‘ 30 مئی 2015ئ

ہفتہ ‘ 11 شعبان المعظم 1436ھ ‘ 30 مئی 2015ئ

اسلام آباد میں کتے کی ہلاکت کا مقدمہ درج

یہاں انسان کے مرنے پر مقدمہ درج کروانے کیلئے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے۔ پولیس کی مٹھیاں گرم اور اعلیٰ حکام کے اکاﺅنٹ میں بھی رقم جمع کروانی پڑتی ہے اس کیلئے سفارشیں بھی تگڑی ہونی چاہیں۔ پھر کہیں جا کر ایک انسان کے قتل کا مقدمہ درج ہوتا ہے۔ وہ بھی آگے چل کر عدالتی نظام کی نذر ہو جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں پہلی دفعہ کتے کے مرنے پر ویٹرنری ڈاکٹر کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اسے قانون کا بول بالا ہونے سے تعبیر کریں یا پھر انصاف کے نظام کی بہتری کی بات کریں۔
یورپ میں انسان کے ساتھ ساتھ حیوانوں کے بھی حقوق ہیں۔ ان کے حقوق کا باقاعدہ خیال رکھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو انسان کی جان ایک حیوان کی جان سے بھی سستی ہے۔ کراچی میں انسانیت گاجر مولی کی طرح کاٹی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سروں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یہی حال دیگر صوبوں کا ہے۔ ابھی حال ہی میں ڈسکہ میں 2 وکلاءکو جس طرح مارا گیا۔ آخر یہ کیا ہو رہا ہے۔ کیا انسانیت اس قدر سستی ہو گئی ہے۔ حکمرانوں کو آخر کب ہوش آئیگی۔
ماڈل ٹاﺅن میں انسانوں پر ایسے گولیاں برسائی گئی جیسے ان کے سامنے کوئی غیر ملکی دشمن کھڑا ہو اور ملزمان کی شناخت ہونے کے باوجود وہ بچ نکلے شاعر نے کہا تھا....
ہر ظلم گر کو ہمدرد سمجھ لیتی ہے
کتنی بدقسمت ہے یہ جوانی اپنی
شاعر نے گو جوانی کو طعنہ دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا انسان ہی بدقسمت ہے۔
....٭....٭....٭....٭....
غریبوں کو چیک دینے والی تقریب پر اڑھائی کروڑ کے اخراجات سیکرٹری خزانہ کا اعتراض
شاعر نے کہا تھا....
قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر
جو چپ رہے گی زباں خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
غریبوں کو اس قدر رقم نہیں دی گئی ہو گی جس قدر اس تقریب پر خرچ آ گیا ہے۔ اسی طرح کچھ عرصہ پہلے سول سیکرٹریٹ کے 10 کیمروں کیلئے اڑھائی کروڑ روپے کا بل وزارت خزانہ کو بھجوایا گیا تھا۔ اب تقریب کے اخراجات کیلئے ڈی سی او لاہور نے اڑھائی کروڑ روپے کا بل وزارت خزانہ کو بھجوا دیا ہے۔ اب اس فائل پر کوئی بھی دستخط کرنے کو تیار نہیں۔ پہلے یہ کیس سیکرٹری انڈسٹری کو بھجوادیا گیا پھر وہاں سے فائل محکمہ سروسز گئی وہاں سے محکمہ خزانہ اور اب وہاں سے منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کے پاس جائیگی۔
وزیراعلیٰ پنجاب قوم کے ایک ایک روپے کا حساب رکھتے ہیں۔ فضول خرچی سے اجتناب کرتے ہیں۔ امید ہے وہ نہ صرف اس فضول خرچی کے بل کی منظوری نہیں دینگے بلکہ اس کی تحقیق بھی کروائیں گے۔
ڈی سی او کہتے ہیں کہ اس تقریب کے اخراجات کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب نے خود 3 کروڑ 41 لاکھ 91 ہزار کے اخراجات کی منظوری دی تھی اور ہم نے ایک کروڑ 39 لاکھ بچت کی ہے۔ ماشاءاللہ آپ تو بڑے اچھے بیورو کریٹ ثابت ہوئے ہیں۔ جنہوں نے اتنی رقم بچا لی ہے۔ غریب لوگوں کے نام پر لوٹ مار آخر کب تک جاری رہے گی؟ اس کا سدباب ہونا چاہئے۔
ہر کوئی غریبوں کے نام پر ہی لوٹتا ہے۔ حکمران اگر اسی طرح غریبوں کا حق کھاتے رہے تو انہیں اس کا جواب تو روز محشر دینا ہی ہو گا۔ آخر کب تک وہ چور بازاری قائم رکھ سکیں گے۔
....٭....٭....٭....٭....
جب تک دماغ چلے گا، کام کروں گا، سید قائم علی شاہ
سائیں جی آپ جس طرح آصف علی زرداری کیلئے سہولتیں پیدا کر رہے ہیں اور وہ جس طرح آپ سے مطمئن ہیں اگر خدانخواستہ آپ کا دماغ چلنا بند بھی ہو گیا تو وہ آپ کے جسم کو شوکیس میں سجا کر حکومت چلاتے رہیں گے کیونکہ آج تک انہیں آپ سے کوئی شکوہ شکایت نہیں ہوئی بلکہ جس وقت آپ سٹیج پر چوٹی کا زور لگا کر جیئے زرداری کہتے ہیں تو ان کا خون ایک پاﺅ کے قریب بڑھ جاتا ہے اور آپ جب ایڑیاں اٹھا کر نعرے لگاتے ہیں تو انکے پیسے پورے ہو جاتے ہیں اس لئے وہ ایسا کبھی نہیں چاہیں گے کہ آپ کا دماغ چلنا بند ہو جائے۔
سائیں جی آپ کا دماغ تو ایک کمپیوٹر ہے جس میں زرداری صاحب کے سارے کھاتے محفوظ ہیں۔ اگر یہ کمپیوٹر بند ہو گیا تو ایک تاریخ بن پھیلے بند ہو جائیگی۔ آپ یا تو دماغ میں محفوظ باتیں دوسروں سے شیئر کر کے کسی کتاب میں بند کروائیں۔ یا پھر کوئی اور سلسلہ شروع کریں تاکہ آپکے تجربات نسل نو کو منتقل ہوں۔
سائیں جی آپ جس طرح اقتدار کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ اسکے بعد آپ ایک شعر لکھ کر اپنے گھر کی دہلیز پر لٹکائیں....
وصل ہجراں کے دوراہے پہ مجھے دفن کرو
مجھ کو اس عالم برزخ کی ہوا کھانی ہے
کیونکہ اگر آپ عالم برزخ میں ہونگے تو شاید ادھر بیٹھ کر حکومت چلاتے رہیں۔ اس کے کافی لوگوں کو فوائد ہونگے۔ پی پی پی کے پاس نوجوانوں کی کمی ہے لیکن اسکے باوجود بلاول کو آنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اگر بلاول آتے ہیں تو کارکنان انکے گرد ایسے جمع ہونگے جیسے گٹر پر مکھیاں اکٹھی ہوتی ہیں۔
....٭....٭....٭....