منگل 30 جون 2009 ء

ترکی کے ایک ڈیزائنر نے قبلہ کی درست سمت معلوم کرنے کیلئے روشن جائے نماز تیار کرلی ہے۔
کوئی ایسا ڈیزائنر بھی مسلم امہ میں سے اٹھے‘ جو پوری امت کا قبلہ درست کر دے۔ جب تک مسلمانانِ عالم اپنے اعمال درست نہیں کرلیتے‘ روشن جائے نماز بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ہمارے ہاں یہ روشن جائے نماز چل سکتی ہے‘ کیونکہ لوڈشیڈنگ میں مغرب کے بجائے مشرق کی طرف منہ کرکے بھی نماز پڑھنے کا خطرہ موجود رہے گا۔
بہرصورت ترکی کے اس ڈیزائنر کو کریڈٹ جاتا ہے جس نے روشن جائے نماز ایجاد کر ڈالی ہے۔ ظاہر ہے یہ جائے نماز ایکسپورٹ ہو گی اور بڑا بزنس کریگی‘ تھوڑا تقابل دیکھئے کہ ہم کن مخمصوں میں ازخود الجھے ہوئے ہیں اور دوسرے ممالک کس چابکدستی سے اپنے لئے صنعت و حرفت کے نئے راستے نکالتے ہیں۔ جب تک مساجد کے اندر کا قبلہ راست نہ ہو گا‘ روشن جائے نماز سے بھی روشنی نہ ہو سکے گی۔ کیونکہ مسجود کی نظر ساجد کی نیت پر ہوتی ہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ بندگی کے ضمن میں خوب اہتمام کرے‘ اللہ کی بارگاہ میں روشن جائے نماز بچھائے جس کا نام سجادہ 1420 ہے۔
٭…٭…٭…٭
ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے‘ تقسیم برصغیر سے مسلمانوں کو نقصان ہوا‘ علامہ اقبال نے قیام پاکستان کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔
الطاف بھائی آپ کا تو بڑا مقام تھا‘ آپ کیوں اس سے نیچے آنے پر راضی ہو گئے؟ برصغیر کی تقسیم کا قائل نہ ہونا پاکستان کے وجود سے انکار کے مترادف ہے اور دو قومی نظریے سے بھی فرار ہے۔ الطاف بھائی سے اہل وطن کو یہ توقع نہ تھی کہ وہ ایک ہی سانس میں اکھنڈ بھارت کے قائل ہو جائیں گے۔ ہم نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ یہ صدی رازوں کے افشاء ہونے اور حقیقتوں کے سامنے آنے کی صدی ہے۔
الطاف بھائی بھی ہرن کے نافے میں چھپے ہوئے مشکِ ختن کی مانند ہیں‘ آج انہوں نے بھی اپنا اندر ہمارے سامنے رکھ دیا اور کہہ رہے ہیں…؎
اساں دل تیرے قدماں وچ رکھیا
تو پیر اتوں پا تے سہی
پاکستان برصغیر میں اسلام کا قلعہ ہے اور یقین کیجئے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے‘ ہماری مرمت کیلئے فطرت کا تازیانہ ہے۔
٭…٭…٭…٭
ایک امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ناکام ریاستوں کی فہرست میں 10ویں نمبر پر آگیا۔
مبارک ہو گڈگورننس والوں کو کہ پاکستان ناکام ریاستوں کی فہرست میں دسویں نمبر پر آگیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ترقی معکوس میں پاکستان نے ترقی کی۔ مگر ہمیں ان فہرستوں سے کیا‘ اس لئے کہ ہمارے ہاں وہی حکومت میں ہوتا ہے جو پیچھے کی طرف دوڑتا ہے۔ دسویں پوزیشن بھی کوئی کم نہیں‘ یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ ہم نمبر ون پر آجاتے۔ امیر ملکوں نے غریب ملکوں کی فہرست بنا دی ہے‘ غربت کی غار سے نکلنا اور ناکام ریاستوں کا ٹیگ ہٹانا ہمارے لئے چیلنج ہے‘ اگر آج آئی ایم ایف ہاتھ کھینچ لے تو ہمارے ہاں باقاعدہ فاقہ کشی شروع ہو جائے گی۔
جو ملک قرضے اٹھاکر دوسروں کی جنگ لڑے‘ وہ پیٹ کی جنگ ہار جائیگا اور یہ کہتا ہوا سڑکوں پر آجائیگا کہ…؎
پیٹ نہ پیئیاں روٹیاں
تے سبھے گلاں کھوٹیاں
اگر اس ملک کو اچھی قیادتیں نصیب ہوتی رہتیں تو آج پاکستان کامیاب ریاستوں میں شمار ہوتا۔
٭…٭…٭…٭
صوبہ سرحد کے گورنر اویس غنی نے کہا ہے‘ گورنر نہ ہوتا تو بتاتا پاکستان کو کون تقسیم کرنا چاہتا ہے؟
کیسی ستم ظریفی ہے کہ سولہ کروڑ عوام کو یہ بتانا کوئی گناہ ہے کہ پاکستان کو کون توڑ رہا ہے‘ اگر اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی قوم کو حق سچ سے مطلع نہیں کر سکتے تو گورنری سے فراغت کے زمانے میں انکی کون سنے گا؟
گورنر سرحد آخر کیوں ایک ایسے راز کو راز رکھنا چاہتے ہیں جو امریکہ نے دبائو ڈال کر دبا رکھا ہے‘ کیا ہمیں کرسی کے چھن جانے کا اتنا ہی ڈر ہے کہ حق کا نعرہ بھی بلند نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہاں یہ روش عام ہے کہ حکومت کی بنیادیں منافقت پر رکھی جاتی ہیں‘ اقتدار میں آکر لیڈرز عوام کو حقائق سے روشناس کرنا گناہ عظیم سمجھتے ہیں۔ وہ کسی اقتدار سے باہر کے آدمی کو اصل حقیقت سے آگاہ کر دیں‘ وہ خود ہی عوام کو بتادے گا کہ لوگو! ہمارے ملک کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ اس طرح فائدہ ہو گا کہ عوام اندھیرے میں نہیں رہیں گے اور وہ اپنے ملک کو بچانے کی تدبیر کریں گے۔ باقی رہ گئی یہ بات کہ اگر میں گورنر نہ ہوتا تو ٹکے کا بھی نہ ہوتا۔
٭…٭…٭…٭
ایران میں مظاہروں میں ملوث ہونے کے الزام میں برطانوی سفارت خانے کے 8 اہلکار گرفتار کئے گئے‘ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ یہ دھمکی آمیز اقدام ہے‘ ان میں سے چار اہلکار رہا کر دیئے گئے۔
ایران بڑا ہی سخت جان نکلا کہ عراق کی بربادی کے بعد مسلسل اس کو فکس اپ کرنے کی کوشش کی گئی مگر مخالف قوتوں کو کامیابی نہ مل سکی۔ خمینی کے اسلامی انقلاب کے بعد برطانیہ امریکہ جوں سرگرم ہو گئے‘ ایران کو ناکام ریاست بنانے کیلئے کہ الامان و الحفیظ۔ مگر ایران کے معاملے میں انکی دال گلتی نظر نہیں آئی۔ برطانیہ کے ملی بینڈ کو ہر صورت بجنا ہوتا ہے‘ سو وہ بجتا ہی رہے کیونکہ وہ پوری برٹش سوسائٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایران میں مظاہروں میں برطانوی سفارتخانے کا ملوث ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ مغرب‘ ایران میں جو انقلاب آیا تھا‘ اس کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ایرانی بھی کوئی کانچ کے بنے ہوئے نہیں‘ وہ ایک عرصے سے اپنی مرضی کے مطابق چل رہے ہیں۔ کوئی ان پر دبائو ڈال سکتا ہے‘ نہ ہی کوئی ان کو امام خمینی کے انقلاب سے بدراہ کر سکتا ہے۔ یہی کام ایرانیوں نے کیا ہوتا برطانیہ میں تو انہوں نے قیدیوں کی بو تک نہیں سونگھنے دینی تھی۔ چہ جائیکہ وہ انہیں بری کر دیتی۔