ہفتہ‘4؍ صفرالمظفر 1430ھ‘ 31؍ جنوری 2009 ء

سابق صدر پرویز مشرف نے اعتراف کیا ہے کہ مجھے پاکستان میں امریکی پٹھو اور امریکہ میں دوغلا سمجھا جاتا ہے۔
مشرف صاحب کو اب کچھ کہنا‘ مرے کو مارے شاہ مدار کے مترادف ہے۔ وہ خود ہی خود کو وہ کچھ کہہ رہے ہیں‘ جو وطن سے لے کر دنیا کے لوگوں تک انہیں کہہ رہے ہیں۔ اسی لئے تو میاں محمد بخشؒ نے کہا تھا…ع
لاپریت اجئی محمد جگ تے رہے کہانی
ہم تو کہتے ہیں کہ اس مخمصے میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے‘ جو پٹھو کہتے ہیں‘ وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں اور جو دوغلاء کہتے ہیں‘ وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں۔ مگر حضرت مشرف سید نے وہ کہانی چھوڑی ہے کہ دشمن چاہیں تو ان پر فلم بنا سکتے ہیں‘ جو لڑائی کٹائی جمہوریت کشی‘ قتل عزیز ہم وطنو سے بھرپور ہو گی اور اس میں ڈالرز کی لین دین انسان فروشی کے عوض بھی ہو گی‘ یوں بڑی ہٹ فلم ہو گی۔
اللہ نے عزت بھی دی تھی‘ دولت بھی دی تھی‘ اب دولت بھلے رہ گئی ہو‘ مگر ’’عزت نام تھا جس کا‘ گئی پرویز کے گھر سے‘‘۔ پاکستان کتنی پریتوں سے بنا‘ کتنے لاشے گرے‘ ان شہیدانِ وطن کی خوشبو آج بھی پاک سرزمین کی مٹی میں دفن ہے‘ جو کہتے کہتے اپنی لاشوں سے ٹرینیں بھر گئے کہ پاکستان کا مطلب کیا‘ لاالٰہ الااللہ‘‘ ہم سب باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں کہ مشرف صاحب کم از کم وہ ڈالر تو قومی خزانے میں جمع کرا دیں جو لال مسجد میں جامعہ حفصہ میں خون کی ہولی کھیلنے کے ان کو انکل سام سے ملے۔ باقی کا حساب تو اللہ ہی لے لے گا۔
آج بھی قومی پرچم لہرا رہا ہے اور حکمران فرما رہا ہے‘ ہمیں کچھ اور دیجئے ہم کچھ اور بھی کرکے دکھائیں گے۔ مشرف صاحب ایک طرز آدمی ہیں‘ جو دنیا میں ایک نہیں ایسے کئی یہاں اور کئی وہاں بھی ہیں۔ یہ بڑی بات ہے کہ انہوں نے اپنے القابات و خطابات میں سے کچھ خود ہی بیان کر دیئے‘ امریکہ کا پٹھو انہوں نے ایسے کہا جیسے یہ بڑا اعزاز ہو اور دوغلا ایسے کہا جیسے منافقت وجہ تفاخر ہو۔ ہمیں اللہ ان مشرفوں سے نجات دے کہ تعداد اتنی ہے جسے خدا ہی منظر سے ہٹا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
روس کے کیتھڈرل میں قدامت پرست عیسائی پادریوں کے اجلاس کی تصویر شائع ہوئی ہے‘ جس میں وہ نئے سربراہ کے انتخاب کیلئے اکٹھے ہوئے تھے۔ ان تمام پادریوں نے داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں۔
آج کے دور میں جہاں داڑھی رکھنے والے مسلمانوں کا طالبان یا القاعدہ سے تعلق ثابت کرکے انہیں بطور خاص نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ ان کی طرف کسی کی نظر نہیں جا رہی۔
مسلمان داڑھی اس لئے رکھتے ہیں کہ یہ ان کے پیارے نبیؐ کی سنت مطہرہ ہے۔ داڑھیاں عیسائی پادری‘ سکھ اور کئی فیشن کے طور پر بھی رکھتے ہیں‘ مگر ان کے پیچھے سنت کی نیت نہیں ہوتی‘ اس لئے ہم داڑھیوں کو دو کیٹگریوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک مسنون داڑھیاں دوسرے غیر مسنون داڑھیاں‘ افسوس اس بات کا ہے کہ برق گرتی ہے تو مسنون داڑھی والوں پر‘ اس لئے کہ وہ نام محمدؐ لیتا ہے۔ ایک اللہ کی پرستش کرتا ہے اور دنیا میں اس کے ستاون ملک ہیں جن سے باہر بھی وہ دنیا کے ہر خطے میں پھیلا ہوا ہے۔
تصویر میں قدامت پرست پادریوں کی چھ عدد مسجع مقفع داڑھیوں کا ہجوم ہے‘ کوئی انہیں جہاز میں بیٹھنے سے نہیں روکتا‘ کوئی انہیں دہشت گرد قرار نہیں دیتا‘ کوئی ان کی جرابیں نہیں اترواتا‘ کوئی ان کی جامہ تلاشی نہیں کرتا۔
٭٭٭٭٭٭
بھارتی رام سینا نے مسلمانوں پر خودکش حملوں کی دھمکی دی ہے‘ کرنل پروہت نے انتہا پسند ہندوئوں سے تعلق کا اعتراف کرلیا۔
لو جی ایک اور مورکھ نے بھی اعتراف کرلیا۔ کرنل پروہت وہ شخص ہے جس نے سمجھوتہ ایکسپریس میں معصوم مسلمانوں کو زندہ جلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
بھارت میں انتہا پسند ہندوئوں کے ساتھ کرنل پروہت کا تعلق ہی نہیں‘ وہ ان کا پروہت ہے‘ کرکرے کو مروانے کا ان کا ظالمانہ فعل بھی‘ اپنی غلاظت ڈھانپنے کا پروگرام تھا۔ شیوسینا‘ رام سینا ایک ہی بیل کے دو تومے ہیں‘ دونوں کی تلخی میں کفر کا زہر ملا ہوا ہے۔ انتہا پسند ہندو یہ نہیں بھولتے کہ مسلمانوں نے باہر سے آکر ان پر ایک ہزار سال حکمرانی کی مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ پریکٹس اب بھی ہو سکتی ہے۔
ممبئی حملوں کے نتیجے میں پوری کوشش تو کی گئی کہ پاکستان پر حملہ کیا جائے مگر جرأت نہ ہوئی۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح احمدآباد‘ گجرات کے فسادات کیوں نہ دہرائے جائیں اور اب تو ہندوئوں نے خودکش حملوں کا بھی اعتراف کرلیا۔ دنیا سن لے کہ خودکش صرف مسلمان ہی نہیں ہوتے‘ شیوسینا اور رام سینا بھی ہو سکتے ہیں۔ خود حکومت بھارت بھی یہ بات نوٹ کرلے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے اور الزام کس پر دھرنے والا ہے۔
بھارت یہ نہ بھولے کہ ہزار سال کے بعد دوسرا ہزار سال بھی شروع ہو گا۔ لبھو رام اور انکل سام مل کر ربیوں کے ساتھ کھچڑی پکا رہے ہیں‘ جس روز یہ کھچڑی پک جائے گی‘ علم اسلام میں ایک اجتماعی جہاد شروع ہوگا‘ صرف ان کے خلاف جو خواہ مخواہ اسلام اور مسلمانوں کو چھیڑتے ہیں۔
مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا
صلۂ شہید کیا ہے تب و تاب جاودانہ