سر را ہے

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

خبر ہے کہ رحمٰن ملک اچانک اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔
بخدا ہماری تو پائوں تلے سے زمین نکل گئی کہ ملک صاحب اتنی جلد اڈیالہ جیل کیسے پہنچ گئے‘ بہرحال وہ تو ساری خبر پڑھ کر دل کو ٹھنڈ پڑی کہ نہیں‘ وہ تو صرف اڈیالہ کا معائنہ کرنے گئے ہیں‘ اس میں رہنے نہیں گئے۔
رحمان ملک صاحب ایک دیدہ ور مشیر ہیں‘ وہ ایسے فٹ مشیر ہیں کہ اگر انہیں وزیر بھی بنا دیا جائے تو مس فٹ رہیں گے۔ انکے مشوروں کا فائدہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی اٹھایا جاتا ہے۔ یقین نہ آئے تو پہلے بش اور پھر اوبامہ سے پوچھ لیں۔
رہ گئے وزیراعظم اور صدر محترم تو دونوں کو ایسا مشورہ دیتے ہیں کہ بقول پٹھان‘ انگریز نے کیسی ٹرین بنائی ہے جس کا اوپر والا حصہ پشاور جا رہا ہے اور نیچے والا کراچی۔ وماعلینا الاالبلاغ۔
٭٭٭٭٭٭
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے‘ افغانستان میں امریکی حکمت عملی ناکام ہو گئی‘ اوبامہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کریں۔
ممکن ہے بقول وزیراعظم یہ فرمان صحیح ہو کہ افغانستان میں امریکی حکمت عملی ناکام ہو گئی مگر پاکستان میں کامیاب ہے اور یہ کامیابی آپکی تو کامرانی ٹھہری مگر پاکستان کو ایک آزاد و خودمختار ریاست نہیں رہنے دیا‘ یہاں تک کہ ہم اپنے ہمسائے سے بھی شرمندہ ہیں یا پھر یہ بات ہے کہ ہمیں ہمارے ہمسائے کی نظروں میں وہ امریکہ گرا رہا ہے‘ جس کی خاطر ہم نے خون سے لیکر تیل تک سپلائی کیا۔
ہم گلہ تو نہیں کرتے‘ نہ کوئی اعتراض مگر ہمارے حکمرانوں کو پاکستان کی خودمختاری پر توجہ دینے سے کیا چیز روکے ہوئے ہے؟
ایک شہزادے کا تعلق درویشوں سے ہو گیا۔ درویش چونکہ ایک جگہ نہیں ٹھہرتے‘ شہزادے کو بھی نگر نگر ساتھ لئے پھرے‘ تاآنکہ جب شہزادہ واپس آیا تو اسے نیند نہ آنے کی بیماری لاحق ہو گئی۔ ابن سینا تک سے رجوع کیا گیا مگر افاقہ نہ ہوا۔
آخر ایک درویش نے کہا‘ رات کو جب یہ لیٹ جائے تو اس پر دو من اینٹیں رکھ دو‘ اسے خود ہی نیند آجائیگی کیونکہ اس کی ساری توجہ نیند پر مرکوز ہو جائے گی۔
بہرحال وزیراعظم کو یہ تو پتہ ہو گا کہ افغانستان تو پلیٹ فارم ہے‘ جہاں سے ڈرائونے طیارے اڑ کر پاکستانی علاقوں پر بمباری کرتے ہیں اور صدر گرامی قدر نے بڑی اچھی بات کی ہے کہ ڈرون حملے بند کئے جائیں‘ مگر ضرورت یہ ہے کہ وہ یہی بات مردحر کے انداز میں کہیں تاکہ اثر بھی ہو۔
اقبال نے رومی سے پوچھا:
زندہ ہے مشرق تری دیدار سے
امتیں مرتی ہیں کس آزار سے
رومی نے جواب دیا۔ ہر ہلاکت امت پیشیں کہ بود زانکہ بر جندل گماں برد ندعود (وہ پہلی امت جو ہلاک ہو گئی اسکی وجہ صرف یہ تھی کہ اس نے جندل کو عود سمجھا)۔
٭٭٭٭٭٭
ٹائون شپ میں 42 لاکھ کی واردات‘ جبکہ مرغزار میں ڈاکوئوں نے تاجر قتل کر دیا۔
صرف ننھو گورایہ کا جنازہ گلی گلی گھمانے سے کچھ فرق نہیں پڑیگا‘ ننھو کا پونگا بھی مارنا پڑیگا‘ تب جا کر یہ ہر روز‘ ہر آبادی میں لاکھوں کروڑوں کے ڈاکے اور قتل و غارت رکے گی۔ مرغزار نام کتنا شاعرانہ ہے اور وہاں کا ماحول کس قدر قاتلانہ ہے۔ یہ ماحول ڈاکوئوں کا پیدا کردہ ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب ایک نگاہ خشمگیں ٹائون شپ اور مرغزار پر بھی ڈالیں کہ جہاں خوبصورت پرندے اڑتے ہیں‘ اب وہاں لاشیں گرتی ہیں۔ آج ایک تاجر قتل ہوا‘ کل کوئی خدا نہ کرے اور زندگی سے محروم ہو گا‘ آخر یہ خون ناب سلسلے کب تک چلیں گے؟ یوں تو صرف مرغزار اور ٹائون شپ کی بات ہی نہیں‘ پورے دارالحکومت میں ڈاکے‘ چوریاں‘ راہزنیاں عام ہیں اور ان کا سدباب پولیس کر سکتی ہے۔ آفتاب چیمہ شیر پولیس نے تو ننھو گورایہ کو کیفر کردار تک پہنچا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ساری پنجاب پولیس میں ان کی روح ان کا ہنر گھس جائے تو شاید یہاں مال سامنے پڑا ہو‘ اور ڈاکو کوئی نہ ہو اور اگر حالت یہی رہی تو پھر ڈاکو رہ جائیں گے‘ مال نہ ہو گا۔ کچھ نہ کچھ منصوبہ بندی شہریوں کو بھی کرنی چاہئے۔ آدھی رات دو رکعت تہجد کیلئے ہی اٹھ کر ساتھ ڈاکوئوں پر بھی نگاہ رکھا کریں‘ ہم خرما وہم ثواب ملے گا مگر کیا کریں کہ پنجابی بہت جلد ٹھگے جاتے ہیں۔ اقبالؒ نے پنجابی ہو کر بھی یہ کہا تھا…؎
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
٭٭٭٭٭٭
جاوید میاں داد نے کہا ہے‘ کام میں مداخلت برداشت نہیں کر سکتا‘ اس کے بعد انہوں نے پی سی بی سے استعفیٰ دے دیا۔
ایک زمانہ تھا کہ کرکٹ پاکستان کا فخر تھی اور ایک یہ زمانہ ہے کہ اسکے فخر کا ’’ف‘‘ اڑ گیا ہے۔ جاوید میاںداد کرکٹ کے غیرت مند ہیرو ہیں‘ بھلا کیسے ایرے غیرے کی مداخلت کو برداشت کر سکتے ہیں۔ جاوید میاں داد کو استعفیٰ مبارک ہو اور ہمارے پاس کوئی چیز کھری رہ نہیں گئی تھی‘ ایک کرکٹ تھی‘ جس کے ذریعے ہم دنیا کے میدانوں میں سبز ہلالی پرچم لہرایا کرتے تھے۔ اب کرکٹ میں جو کوڑا کرکٹ شامل ہو گیا‘ اس کو ہم پیسے کا کھیل یا ریس کورس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں؟ جب تک جاوید میاںداد اور عمران خان جیسے کرکٹرز کی بات نہیں مانی جاتی اور مداخلت بند نہیں کی جاتی‘ کرکٹ کا میدان ویران ہی رہے گا اور اب تو کرکٹ بورڈ نے بے چارے نابینائوں کی کرکٹ بھی بند کر دی ہے‘ یہ نعرہ لگاتے ہوئے کہ ہم کوڑھے کافی ہیں۔