بدھ ‘ 10 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘29 ؍ نومبر2017ء

بدھ ‘ 10 ؍ ربیع الاوّل 1439ھ‘29 ؍ نومبر2017ء

بھارتی کرکٹر دھونی کا کشمیر میں بوم بوم آفریدی اور آزادی کے نعروں سے استقبال

بھارتی کرکٹر مہندر سنگھ دھونی کو یہ مشورہ کس نے دیا تھا کہ وہ اس نارسا موسم میں کشمیر کا دورہ کرے۔ جہاں چپے چپے پر بھارتی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود لوگ آزادی کے حق میں مظاہرے کرتے پھرتے ہیں۔ اب دھونی میاں کو اس وقت خوب آنکھوں میں مرچوں کی دھونی لگی ہوگی جب فوجی نرغے میں فوجی وردی پہن کر خود کو ہیرو بنانے کی کوشش میں وہ بارہمولا کرکٹ سٹیڈیم آئے تو لوگوں نے انہیں دیکھ کر بوم بوم آفریدی ، پاکستان زندہ باد اور ہم کیا چاہتے ہیں آزادی کے نعرے لگا لگا کر انہیں شرمندہ کر دیا۔ بے چارہ دھونی فوجیوں سمیت بے بسی سے یہ آزادی پسند نعرے اور بوم بوم آفریدی کے قصیدے سنتا رہا۔ اس واقعہ کے بعد حسب معمول بھارتی میڈیا کشمیریوں پر برس پڑا اور ایسے واقعات کو سپورٹس مین شپ کے خلاف قرار دے کر واویلا مچا رہا ہے اور کشمیریوں کی تذلیل کر رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے جب بھارتی قابض فوج اسی کشمیر میں میچ کھیلتے لڑکوں، کرکٹ یا فٹبال میچ سے قبل آزاد کشمیر کا قومی ترانہ پڑھنے پرکھلاڑیوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے ان پر گولیاں برساتی ہے انہیں گرفتار کر تی ہے۔ اس وقت تو بھارتی میڈیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ ادھر ذرا سا دھونی کو آئنہ دکھایا تو سب برا مان گئے کیا یہ ساری باتیں اس حقیقت کی طرف اشارہ نہیں کر رہی ہیں کہ کشمیری بھارت سے وابستہ ہر چیز سے نفرت کرتے ہیں اور وہ بھارتی غلامی کا جوا اپنے گلوں سے اتارنے کیلئے سربکف ہیں۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجود اگر کوئی بھارتی کرکٹر حکومت کے ایما پر کشمیر آئے گا تو اس کا استقبال ہر جگہ ایسا ہی ہوگا۔
٭…٭…٭…٭
سپریم کورٹ کا کراچی میں میدانوں اور پارکوں سے شادی ہالز ختم کرنے کا حکم
عدالت کا یہ فیصلہ بالکل درست ہے کیونکہ جس برق رفتاری سے ان سرسبز میدانوں کو اجاڑہ جا رہا ہے۔ یہاں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے نام پر آئے روز کوئی نہ کوئی فتنہ برپا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جلد ہی یہ پارک صفحہ ہستی سے نابود ہو جائینگے۔ سرسبز پارک عوام کی تفریح کیلئے بنائے جاتے ہیں اسے آباد رکھنا حکومت اور انتظامیہ کا فرض ہے مگر یہاں الٹی گنگا بہتی نظر آ رہی ہے۔ کراچی کی انتظامیہ یہ پارک شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں استعمال کیلئے کرایے پر دے دیتی ہے۔ ظاہر ہے شام سے لے کر رات گئے تک یہ پارک شادی بیاہ کرنے والوں کے نرغے میں رہتے ہیں جو دیگیں پکا کر شامیانے لگا کروا کے ان کا حلیہ بگاڑدیتے ہیں بعداز تقریب کے یہ پارک کسی اجڑی ہوئی لشکرگاہ کا منظر پیش کرتے ہیں یا جنگ کے میدان کا۔ نہ کوئی روش سلامت نظر آتی ہے نہ پھولوں کی کیاریاں۔سبزہ جل چکا یا کچلا جا چکا ہوتا ہے۔ ہر طرف گندگی اور اجاڑ کے وہ مناظر سامنے آتے ہیں کہ یہ پارک خود اپنی تباہی کا نوحہ پڑھتے ہیں۔ صرف کراچی میں نہیں پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں پارکوں کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ پہلے کون سے پارک رہ گئے ہیں۔کہ ہم باقی پارکوں کو بھی تباہ کر رہے ہیں چند ایک گنے چنے بچ جانیوالے پارکوں کی جو حالت ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے‘ ان کو بچانے کیلئے اگر اب کوشش نہ کی گئی تو انکی داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
بھارتی پولیس نے قیمتی پودے کھانے پر 6گدھوں کو جیل بھجوا دیا۔
بھارتی پولیس نے جس طرح فرض شناس کا مظاہرہ ان بے زبان گدھوں کو گرفتار کرکے جیل بھجوا کر کیا ہے کاش وہ اسی فرض شناس کا مظاہرہ مسلمانوں کے قتل اور ان پر تشدد کرنیوالوں کے سلسلے میں بھی دکھاتی تو شاید بے لگام ہندو غنڈوں میں پھر کسی نہتے مسلمان کو مارنے کی جرأت نہ ہوتی۔ ان بے زبان گدھوں پر الزام تھا کہ انہوں نے قیمتی پودے کھا لئے تھے۔ اول تو ان خر دماغوں کو رعایت دینا چائیے تھی کہ ان کو کیا معلوم تھا کہ یہ پھول قیمتی ہیں نہیں۔ اگر انہیں اس بات کا پتہ ہوتا تو وہ گدھے نہیں ہوتے، انسان ہوتے۔ پھر یہ کہاں کی انسانیت ہے کہ پولیس نے اس عام سی بات کو بھی واردات بنا ڈالا اور ان چھ عدد معصوم مسکین بھولے بھالے گدھوں کو جھٹ دھر لیا اور مقدمہ درج کرکے جیل بھی بھجوا دیا۔ اب ان گدھوں کو کیا اس طرح عقل آگئی ہوگی کہ انہوں نے کیا کیا۔ اب شکر ہے کہ کسی خدا ترس آدمی کو ان گدھوں کی بے چارگی پر ترس آگیا اور اس نے ان گدھوں کی ضمانت کروالی اس طرح انہیں جیل سے رہائی دلوائی۔ یہ تو شکر ہے کہ پولیس والوں کو ان گدھوں کے مالک یا مالکان کا خیال نہیں آیا۔ ورنہ ان پر بھی مقدمہ درج ہوجاتا ہے۔ اور ان گدھوں کی جگہ وہ جیل کی ہوا کھا رہے ہوتے ان کی تو کسی نے ان ضمانت تک نہیں کروانی تھی اب کیا قیمتی پھول کھانے کے بعد یہ گدھے بھی قیمتی ہو گئے ہیں یا ویسے ہی گدھے کے گدھے رہیں گے۔
٭…٭…٭…٭
مسلمان مکمل انسان نہیں ، سویڈن کے سیاستدان کی دشنام طرازی پہ ہنگامہ برپا ہوگیا
اب یہ کوئی جاکر موصوف سے پوچھے کہ حضرت آپ پر یہ شیطانی الہام کہاں سے نازل ہوا۔ اگر جملہ انسانی حواس و اعضا گن گن کر بھی دیکھیں تو مسلمانوں میں وہ تمام چیزیں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں جو غیر مسلموں میں پائی جاتی ہیں۔ آپ کو ایسی کونسی چیز نظر آگئی ہے جو غیر مسلموں میں تو ہے مگر مسلمانوں میں نہیں۔ ماسوائے شرعی ختنے کے مگر یہ بھی کوئی خاص عذر نہیں یہودی اور کئی مسیحی بھی یہ رسم ادا کرتے ہیں البتہ مسلمانوں میں یہ لازمی ہے۔ ورنہ باقی سب معاملات میں جو مکمل انسان بننے کی خوبیاں ہیں وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں یکساں ہیں۔ رہی بات ان کے کہیں نہ کہیں داعش سے رابطے والی تو یہی خوبی غیر مسلموں میں کسی نہ کسی سطح پر موجود ہے۔
آج کل تو غیر مسلموں کی اکثریت انتہا پسندی کی طرف دل و جان سے راغب ہے۔ جو ملحد ہیں وہ تو مذاہب سے ہی بے زار ہیںاور انہیں مٹانے پر تلے نظر آتے ہیں۔ باقی سب بھی کہیں نہ کہیں سے دیگر ادیان کو مٹا کہ اپنے مذہب کو سچا ثابت کرنے کیلئے کٹ مرنے کو تیار نظر آتے ہیں۔ اس میں صرف مسلمانوں پر الزام دھرنا درست نہیں یہ مذہبی انتہاپسندی سب میں پائی جاتی ہے۔ خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ۔ اب سویڈن کے اس سیاستدان کے بیان پر دیکھ لیں خود سویڈن میں ہنگامہ برپا ہے۔ اس کی اپنی سیاسی جماعت نے بھی اسی انتہا پسند سوچ پر اس سے بیزاری کا اعلان کیا ہے اور اسے جماعت سے نکالنے کاکہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خود سیاستدانوں میں بھی کہیں نہ کہیں سے انتہا پسندی کا شکار ہے اور وہ بھی مکمل انسان نہیں ہے۔
٭…٭…٭…٭