جمعۃ المبارک‘ 24 ؍محرم الحرام ‘ 1435ھ ‘ 29؍ نومبر2013ء

میڈیا سچن ٹنڈولکر کی تعریف بند کرے، مصباح الحق بہترین کپتان ہے : تحریک طالبان پاکستان ! 
یوں لگتا ہے کہ تحریک طالبان نے حُبِ علی نہیں بلکہ بُغضِ معاویہ کے مصداق مصباح الحق کی تعریف کی ہے ورنہ انہیں کرکٹ سے کیا شُغل بلکہ قوم کے محافظوں کے سروں کو فٹ بال بنا کر کھیلتے ہیں۔ سچن ٹنڈولکر جتنا مرضی اعلیٰ کھلاڑی ہو لیکن طالبان نے تو اسے مسلم اور غیر مسلم کی نظر سے ہی دیکھنا ہے۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ کھیل کود میں حسب نسب کی قید سے دور ہو کر کھلاڑیوں کو ان کی کارکردگی پر شاباش دی جاتی ہے۔ انہیں اگر کرکٹ سے اتنا ہی لگائو ہے تو پھر کرکٹ کی ٹیم تشکیل دیکر وہ اپنا یہ شوق بھی پورا کرلیں مگر اندیشہ ہے کہ ایمپائر کے آئوٹ دینے پر وہ سیخ پا ہو جائیں گے اور پھر اسکے سر کی خیر نہیں ہو گی۔ آپ تو کھیل شروع کرنے سے قبل یہی کہیں گے … ؎
اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی ۔۔۔ جیتوں تو تُجھے پائوں ہاروں تو پیا تیری 
کیونکہ انکی ڈکشنری میں ’’ہار‘‘ کا تو کوئی لفظ ہی نہیں، مصباح الحق کی اتنی تعریف کیوں کی جا رہی ہے وہ نہ تو پٹھان ہے نہ ہی کٹر مذہبی رجحان رکھتا ہے لیکن آپ ان پر واری جا رہے ہیں آخر کچھ راز تو ہے ورنہ جذبات کے لحاظ سے شاہد آفریدی انہیں زیادہ پسند ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہ بھی ان جیسا جذباتی ہے لیکن مصباح الحق تو اتنے ٹھنڈے مزاج کے مالک ہیں کہ انہوں نے اس  مدمیں جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی مات دے رکھی ہے۔ 
٭۔٭۔٭۔٭۔٭لٹویا : چھت گرنے سے ہلاکتوں پر وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا ! 
یہ زندہ جاوید قوم کی نشانی ہے، لگتا ہے لٹویا کے وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ کیا نہ ہی ہمارے سیاستدانوں کا ’’جوٹھا‘‘ کھایا ورنہ وہ بھی جونیجو خان اور غلام بلور کی طرح تاویلیں نکال کر عہدے کے ساتھ چمٹے رہتے۔ محمد خان جونیجو جب وزیر ریلوے تھے تو انکے دور میں ریلوے کا حادثہ ہوا جس میں بیسیوں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ بی بی سی کا نمائندہ وہاں پر پہنچا اس نے جونیجو صاحب سے پوچھا جناب اتنے لوگ فوت ہو گئے ہیں آپ کب استعفیٰ دے رہے ہیں تو جونیجو صاحب نے کہا میں استعفیٰ کیوں دوں؟ میں کوئی ڈرائیونگ سیٹ پر تو نہیں بیٹھا تھا؟ اسی طرح غلام بلور جب وزیر ریلوے تھے تو ریلوے کی خراب کارکردگی پر ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا لیکن انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔ لٹویا میں چھت گرنے سے 54 ہلاکتوں پر وزیراعظم گھر چلے گئے جبکہ ہمارے ہاں 92 افراد کی لاشیں سڑکوں پر رکھ کر لواحقین احتجاج کرتے رہے لیکن حکمرانوں کے سروں پر جوں تک نہیں رینگی۔ کراچی میں ایک ایک دن میں دو تین درجن کے قریب لوگ مرتے رہے لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی رہی اور تب کے وزیر داخلہ مرنے والوں کو گرل فرینڈز کا نام دیتے تھے۔ ایک طرف ہمارے ہاں یہ بے حسی ہے جبکہ دوسری طرف وزیراعظم چھت گرنے پر استعفیٰ دے رہے ہیں لیکن ہم تو پھر بھی اس امید پر قائم ہیں کہ … ؎
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے  ۔۔۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی 
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
تحریک انصاف نے ڈرون حملوں پر سی آئی اے کے سٹیشن کمانڈر کے نام مقدمہ درج کروا دیا ! 
چیئرمین پی سی بی کے پاس تو ایک چڑیا ہے جو انہیں خبریں لا کر دیتی ہے لیکن تحریک انصاف کے پاس کونسی چڑیا ہے جس نے انہیں ڈرون آپریٹ کرنیوالے سٹیشن کمانڈر کا نام بتا دیا ہے۔ خان صاحب پر کہیں وحی تو نازل نہیں ہوتی کیونکہ آج تک خبروں کے کھوجیوں کو بھی ان کے نام کا پتہ نہیں چل سکا جو عمران خان کی پارٹی کو چلا ہے۔ آجکل جمائما خان ڈرون پر فلم بنا رہی ہیں شاید انہوں نے خان صاحب کے کان میں سرگوشی کر دی ہو کیونکہ یہ کام تو سرگوشی والا ہی ہے سرعام تو کوئی بھی اعلان نہیں کر سکتا۔ 
خان صاحب ڈرون حملوں کیخلاف میدان میں آ چکے ہیں لیکن دیکھیں وہ کب کامیاب ہوتے ہیں۔ ابھی تک تو اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے لیکن انکی سیاسی دکان خوب چمک رہی ہے، ابھی تک تو وہ سیاسی دکان ہی چمکانا چاہتے ہیں کیونکہ اس سے بڑی سستی شہرت کہیں اور نہیں مل سکتی۔ ابھی ڈرون پر انکے احتجاج پر قوم کے فرزند آہستہ آہستہ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ دیکھیں کوئی ان سے سٹیشن کمانڈر کے نام کی وحی کا کب پوچھتا ہے۔ بہرحال عمران خان اب سٹیشن کمانڈر کو گرفتار کرنے کیلئے اپنا ایس ایچ او بھیجیں، اگر یہ ناممکن ہے تو پھر ایف آئی آر ہی ٹی سی ایس کر دیں اور پھر ایک جوابی خط بھی لکھوا رکھیں کیونکہ انہیں جواب الجواب پہلے سے ہی تیاررکھنا چاہئے۔ بقول شاعر … ؎
قاصد کے آتے آتے خط اِک اور لکھ رکھوں  ۔۔۔ میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں 
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
’’چیف جسٹس کو ولی مان گیا ہوں‘‘ انہوں نے کہا تھا کچھ ہو نہ ہو وزیر دفاع ضرور مقرر ہو جائے گا : جسٹس جواد ! 
اس میں ولایت کیا ہے یہ تو سب کو پتہ تھا کہ یہ ہونا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ فاضل جج کی کسی کو ولی ماننے کیلئے ایسی پیش گوئیاں پوری ہونا ہی کافی ہے۔ اگر ’’ولایت‘‘ کے اس استدلال کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر ہمارے ہاں کے نجومی تو ولی کامل ہونگے۔ اصل میں فاضل جج کی اپنے چیف جسٹس کو ولی قرار دینے کی وجوہات کچھ اور بھی ہو سکتی ہیں جو شاید مخفی ہوں۔ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کا نام سُنتے ہی ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں اور خواجہ آصف کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے آگے کر دیا ہے۔ یہ صرف میاں نواز شریف ہی نہیں بلکہ ہر چوہدری ایسا کرتا ہے، قتل خود کرے گا گرفتاری نوکر دیدے گا، ٹریفک حادثہ کا ذمہ دار خود ہو گا جبکہ ڈرائیور سینہ تان کر قانون کے سامنے کھڑا ہو جائیگا۔ چوہدری خود کو بچا کر ملازم کو قربانی کا بکرا بنا دیتا ہے، سابق صدر زرداری نے خود کو بچانے کیلئے یوسف رضا گیلانی کو آگے کر دیا تھا یہی نواز شریف نے کیا۔