پیر‘ 19رمضان المبارک ‘ 1434ھ ‘ 29 جولائی2013

لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے بجلی چور ہیں : خواجہ آصف !
اسے کہتے ہیں ”اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ یا ”چوری اور سینہ زوری“۔ چند ماہ قبل تک تو یہ مظاہرے اور آپکی حکومت پنجاب کی نظر میں حمیت اور قومی غیرت کا مظہر تھے اور مظاہرین کے خلاف ”ہتھ ہولا“ رکھا جاتا تھا آج یہ سب مظاہرین چور بن گئے۔ عجب حیرت اور دیدہ دلیری ہے ....
یہ تیرگی جو میرے نامہ¿ سیاہ میں تھی
جب ان کی زلف پہ پہنچی تو حُسن کہلائی
عوام 15 برسوں سے بجلی کی آنیاں جانیاں دیکھ رہے ہیں اور حکومتوں کی بے نیازیاں بھی۔ لوٹ مار، کرپشن حکمران طبقہ کرے اور سزا عوام کو ملے، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ یہ کون سا قانون ہے جس کے تحت سزا صرف اور صرف غریب عوام کیلئے مخصوص ہے۔ ہر ظلم ہر ستم سہنا صرف عوام کی قسمت میں لکھا گیا ہے اور اگر یہ غریب مجبور و محکوم عوام خود پر ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کریں تو انہیں ”چور“ کہہ کر ان کی توہین کی جائے، انہیں باغی یا گمراہ کہہ کر قتل کیا جائے، مار ڈالا جائے، غائب کیا جائے، یہ کہاں کا انصاف ہے کہاں کا دستور ہے۔
یہ جتنے چور سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں ذرا انکی حالت دیکھیں، انکے گھروں کی چیکنگ کریں، انکے بنک بیلنس دیکھیں، ان کے حالات کا معائنہ کریں اور تو اور انکے بجلی بل چیک کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ بیچارے تو صرف ”عوام“ ہیں جو ہر ماہ 2 یا 3 ہزار کا بل بھی بخوشی جمع کراتے ہیں۔ انکی کوئی فیکٹری نہیں کارخانہ نہیں جسے وہ بجلی چوری کر کے چلا رہے ہیں، وہ واپڈا کے اہلکاروں سے مل کر میٹر کی ریڈنگ نہیں بدلتے کیونکہ وہ ایماندار ہیں اور صرف اپنا حق طلب کر رہے ہیں۔ چور اور ڈاکو تو وہ ہیں جو اقتدار کی غلام گردشوں میں بسیرا کرتے ہیں ان کے گھر، دفاتر، کاروباری مراکز اور کارخانوں میں کھلم کھلا بجلی چوری ہوتی ہے۔ اگر حکومت میں ہمت و حوصلہ ہے تو ذرا ان پر ہاتھ ڈال کر دکھائے۔
٭....٭....٭....٭....٭
خیبر پی کے میں پاکستان کی پہلی موبائل کورٹ نے کام شروع کر دیا !
انصاف آپ کی دہلیز تک کے انتخابی نعرے تو سب نے سُنے تھے اور کئی دہائیوں سے سُنتے چلے آ رہے ہیں مگر انصاف کی اس طرح عوام کی دہلیز تک آمد کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ پہلے یا قدیم زمانے میں شہنشاہانِ وقت اپنی سلطنتوں کے دور دراز علاقوں کا دورہ کرتے اور وہاں دربار لگاتے تھے جہاں فریادی حاضر ہو کر ”جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں“ کہہ کر اپنا دُکھڑا سناتے اور انصاف پاتے تھے۔ اب مو¿رخوں نے یہ نہیں لکھا کہ کیا ان فریادیوں کی براہِ راست بادشاہ تک رسائی ہوتی تھی یا ہمارے موجودہ نظام کی طرح انہیں بھی قدم قدم پر رشوت اور نذرانہ دیکر شرف باریابی ملتا تھا۔ یہ تو غنیمت ہے کہ پرانے دور کے ان فریادیوں کو انصاف مل جاتا تھا ورنہ ہمارا تو جدید دور میں یہ حال ہے کہ نذرانوں کے باوجود باریابی کے باوجود بھی انصاف ملتا نظر نہیں آتا‘ بقول شاعر ....
آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں
ورنہ شاہوں کی عدالت سے تو امید نہیں
اب خدا کرے ”موبائل عدالتوں“ کا یہ سلسلہ کامیاب ہو اور عوام کو انکی دہلیز پر انصاف ملنا شروع ہو جائے، ایسا ہُوا تو عدالتوں، تھانوں اور کچہریوں میں قدم قدم پر لُٹنے والے غریبوں کو ریلیف ملے گا اور وہ یہ فیصلہ کرنے والے حکام کو دعائیں دیں گے۔ کشمیری زبان کا ایک خوبصورت محاورہ ہے ”خدایا ہمیں ظالموں، تھانوں اور ہسپتالوں سے محفوظ رکھ“ ۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک اچھا قدم اٹھایا، ہم دعائے خیر کرتے ہیں،خدا کرے یہ تجربہ کامیاب ہو اور دیگر صوبوں میں بھی اس پر عمل کیا جائے۔
٭....٭....٭....٭....٭
لاہور اور گوجرانوالہ میں ون ویلنگ کرنے والے 2 نوجوان ہلاک، متعدد زخمی !
بارہا حادثات اور ہلاکتوں کے باوجود نجانے کیوں ہماری نوجوان نسل اس موت کے کھیل سے باز نہیں آتی۔ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں تو باقاعدہ میدان ہیں، ٹریک بنے ہوئے ہیں جہاں قانون اور قاعدے کے مطابق نوجوان اپنا شوق پورا کرتے ہیں جی بھر کر موٹر سائیکلوں کے کرتب دکھاتے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ سہولتیں میسر نہیں ابھی تک تو ہم روٹی اور پانی کے چکر سے آزادی حاصل نہیں کر سکے تفریح کیلئے سہولتیں تو بڑی دور کی بات ہے۔ ہمارے ہاں پہلے ہی حادثات کی شرح بہت زیادہ ہے اب اس طرح کے خطرناک کرتبوں کی وجہ سے کئی گھر اُجڑ گئے، والدین کو جواں سال بچوں کے لاشے اٹھانے پڑتے ہیں، ماﺅں کو بہنوں کو اپنے پیاروں کیلئے خون کے آنسو بہانا پڑتے ہیں، شاید اسی لئے کسی نے کہا تھا ....
کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں پہ
اسی لئے تو وہ بیٹوں کو مائیں دیتا ہے
یہ والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ کم عمر اور شوخ و شریر بچوں کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہ دیں اور اگر ان کے خلاف شکایت ملے ون ویلنگ یا خطرناک ڈرائیونگ کی تو فوری ایکشن لیں‘ مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے والدین احتیاط نہیں کرتے اور بچوں کی خطاﺅں سے چشم پوشی کا یہ سلسلہ بعد میں سوہانِ روح بن جاتا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کو بھی سخت ایکشن لینا ہو گا کہ کسی نوعمر لڑکے کو موٹر سائیکل یا کار چلانے کی اجازت نہ دے اور ون ویلنگ کرنے پر بھاری جرمانہ کیا جائے یا انکی موٹر سائیکل ضبط کی جائے تاکہ کسی دوسرے کو ایسا کرنے کی ہمت نہ ہو، ورنہ یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو ہماری سڑکیں یونہی والدین کے ارمانوں کے لہو سے سرخ ہوتی رہیں گی۔
٭....٭....٭....٭....٭