منگل ‘ 28؍ جمادی الثانی 1435ھ‘ 29 ؍ اپریل 2014ء

منگل ‘  28؍ جمادی الثانی  1435ھ‘ 29 ؍ اپریل 2014ء

اپنی ناکامی کا اعتراف کرتا ہوں، کشتی ڈوبنے پر جنوبی کوریا کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا !
چنگ کیو ہونگ ون نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ کر واضح کر دیا کہ اگر حکمرانوں کے ضمیر ہوں تو قومیں ترقی کرتی ہیں لیکن اگر حکمران ہی نشے میں دُھت ہو کر اقتدار سے چمٹے رہیں تو پھر قومیں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں ٹرین کا حادثہ ہُوا تو وزیرریلوے موصوف نے استعفیٰ کے مطالبے پر فرمایا تھا کہ میں استعفیٰ کیوں دوں، میں ٹرین تھوڑا ہی چلا رہا تھا۔
حقیقت میں وزیر موصوف ٹرین نہیں چلا رہے تھے بلکہ ان کا ضمیر مُردہ ہو چکا تھا، اگر ان کا ضمیر زندہ ہوتا تو اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے خود بخود استعفیٰ دے دیتے۔ ضمیر ایک ایسی چیز ہے جو فرد یا قوموں میں مخصوص وقتوں میں ازخود جنم لینے کے بعد برق رفتاری سے ایسے فرائض سرانجام دیتا نظر آتا ہے جن کا اس سے پیشتر شائبہ تک بھی نظر نہیں آتا لیکن ہمارے ہاں یہ چیز ختم ہو چکی ہے۔ ہم ضمیر کی ملامت کے باوجود الیکشن میں دو نمبری کرنے اور 35 پنکچر لگانے سے باز نہیں آتے۔
چنگ کیو ہونگ ون 476 افراد کی کشتی کا ملاح تھا نہ ہی اس کا اس حادثے میں کوئی ہاتھ ہے لیکن اس کے ضمیر نے اسے جھنجوڑا اور وہ استعفیٰ دیکر اپنی قوم کا ہیرو بن گیا۔
ہمارے ہاں کراچی میں ہر روز لاشیں اُٹھائی جا رہی ہیں، مارگلہ میں جہاز گر کر تباہ ہُوا لیکن حکمرانوں کی پیشانی پر ندامت تک نظر نہیں آئی۔ بچیوں کے ساتھ زیادتی کے کیس اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ لوگوں نے اپنی بچیوں کو گھروں سے نکلنے سے روک دیا ہے لیکن حکمرانوں کے ضمیر سوئے ہوئے ہیں۔
ضمیر کسی فارمولے کا نام ہے نہ ہی اسکی کوئی جسمانی ساخت ہے یہ تو فطرتی طور پر انسان میں نظر آتا ہے۔ جنوبی کورین وزیراعظم کے استعفیٰ سے ایک بات سامنے آئی ہے کہ ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں۔ شاعر نے کہا تھا … ؎
جب کبھی ضمیر کے سودے کی بات ہو
ڈٹ جائو تم حسین کے انکار کی طرح
ہمارے ہاں ڈٹ جانے کی بجائے ضمیر سرِ بازار بکنا شروع ہو گئے ہیں۔ ضمیر فروش گاہکوں کے متلاشی ہیں بس کوئی اچھا بھائو لگانے والا مل جائے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
اداروں میں تنائو ہے نہ اختلاف، سول ملٹری تعلقات پر مکالمے ہونے چاہئیں : پرویز رشید !
پرویز رشید کو اگر تنائو نظر نہیں آ رہا تو انہیں اپنے مشیر تبدیل کرنے چاہئیں یا پھر ایک ہی چینل کو دیکھنے کی بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر چینل کو بھی دیکھا کریں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ پانی سر سے گزر رہا ہے۔
اداروں میں تنائو نہیں لیکن کج فہم لوگ تنائو پیدا کرنے کے درپے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ غلیل والے دلیل والوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، کبھی گل فشانی کرتے ہیں کہ میڈیا کو دبانے والا وقت چلا گیا۔
جنابِ من! اگر تنائو نہیں تو آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے چیف کی وزیراعظم ہائوس میں ملاقات کے دوران فوج کے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ جوانوں نے وزیراعظم ہائوس کے سٹاف کو کمرے میں بند کر کے سکیورٹی کیوں سنبھال لی تھی۔ وزیراعظم گھنٹی پر گھنٹی بجاتے رہے لیکن کوئی ملازم انکی بات سُننے نہیں آیا۔
 آخر یہ نوبت کیوں پیش آئی؟ جناب خود بخود نوبت یہاں تک نہیں پہنچی …؎
گنجلک شہر کی تنگ گلیوں میں سوئے جھروکوں میں
جھانکے نہ کوئی یہاں بند کمروں میں لپٹی گھٹن رہ رہی ہے
یہ شعر صحیح معنوں میں اس ماحول کی عکاسی کرتا ہے جو چند روز قبل وزیراعظم ہائوس میں ہُوا تھا۔ سیاستدان اور حکمران کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے نہ بیٹھیں بلکہ گھٹن کے اس ماحول میں پکتے لاوے پر بھی نظر رکھیں تاکہ انہیں چارسُو پھیلی حبس اور گھٹن کا احساس ہو سکے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
بھارت میں پیدا بچے کا ویزہ نہ ہونے پر پاکستانی جوڑے کو واپسی سے روک دیا گیا!
بھارتی حکام کا اعتراض بڑا عجیب ہے کہ بچے کا ویزہ کہاں ہے؟ بھارت نے پیدائش سے قبل ویزہ لگوانے کا کوئی نظام ایجاد کر رکھا ہے تو بتائے تاکہ ماں کے پیٹ میں ہی ویزہ لگ جائے۔ ایک بچے کی پیدائش بھارت میں ہوئی وہ پیدائش سے قبل پاکستان کا ویزہ کیسے حاصل کر سکتا تھا؟
بھارت ابھی تک شناختی کارڈ کا جدید سسٹم تیار نہیں کر پایا لیکن باتیں وہ آسمان پر کمندیں ڈالنے کی کرتا ہے۔
مودی ابھی سے جو زہر اُگل رہے ہیں خدانخواستہ اگر وہ حقیقت میں وزیراعظم بن گئے تو پھر بھارت کو مزید ٹکڑے ہونے سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اب پاکستانی جوڑا بچے کو لیکر وہاں کہاں جائے وہاں تو یہ کیفیت ہے کہ … ؎
جائوں کہاں دیوار یہاں چار طرف ہے
تنہائی کا آزار یہاں چار طرف ہے
بھارت میں تو ویزے کے ساتھ بھی مشکوک سمجھا جاتا ہے، وہاں دو چار سر پھرے نہیں بلکہ سبھی ’’محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے ہیں‘‘ لہٰذا پاکستانی جب بھارت جائیں تو کم از کم اپنی ذات کی حد تک کاغذات مکمل رکھیں تاکہ وہاں انکا چلنا پھرنا آسان رہے کیونکہ پاکستانی شہری کو دیکھتے ہی بھارتی پولیس کے دماغوں میں سرمئی آندھی جیسے بگولے گردش کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔