منگل ‘ 3 محرم الحرام 1436ھ‘ 28 ؍ اکتوبر 2014ء

منگل ‘ 3 محرم الحرام 1436ھ‘ 28 ؍ اکتوبر 2014ء

مہنگائی کے باوجود پاکستانیوں نے ایک سال میں 250 ارب روپے کے سگریٹ پھونک ڈالے۔ اس سے زیادہ ہماری بے حسی اور کیا ہو گی کہ قوم اجتماعی خودکشی کی راہ پر گامزن نظر آ رہی ہے مگر کوئی روکنے والا نہیں۔ حکمرانوں کو کرسی کی فکر ہے تو اپوزیشن کو بھی کرسی کا غم ہے۔ بیورو کریسی اور انتظامیہ اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ بجاتی ہے۔ سب اچھا ہے کا خواب دکھاتی ہے۔
سگریٹ کے ہر پیکٹ پر ’’سگریٹ نوشی مضر صحت ہے اور 16 سال سے کم عمر بچوں کو فروخت منع ہے‘‘ لکھا ہونے کے باوجود 8 تا 10 سال کا بچہ بھی باآسانی دکان سے سگریٹ خریدتا ہے اور سربازار کش لگا رہا ہوتا ہے۔ گھٹیا کوالٹی کے سستے سگریٹ ہر جگہ ملتے ہیں یہ غریب عوام کیلئے عیاشی کا کام دیتے ہیں۔ بیروزگاری اور پریشانیانیوں کی ماری پسماندہ آبادی کا بڑا حصہ اپنے غم اسی کے دھوئیں میں اڑتا ہے اور یہ دھواں زہر بن کر انکی رگوں میں اترتا ہے۔ آہستہ آہستہ انہیں اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہتا ہے۔
حکمرانوں نے اس کو آبادی میں کمی کا ایک سستا اور آسان طریقہ سمجھ رکھا ہے۔ اسی لئے اس بارے میں خاموش ہیں۔ ورنہ سگریٹ نوشی کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی راہ میں کون سی رکاوٹ ہے۔ 250 ارب روپے معمولی رقم نہیں حکومت اگر سگریٹ کی قیمت میں 200 فیصد اضافہ کر دے تو اس کی بڑی مہربانی ہو گی اس طرح 50 فیصد لوگ تو جیب کے ہاتھوں سگریٹ نوشی ترک کر دیں گے جس سے کم از کم 125 ارب روپے کی بچت تو ہو سکتی ہے۔ یہ رقم سگریٹ نوش اپنے پر خرچ کرکے اپنی جان بنا سکتے ہیں۔ 
٭…٭…٭…٭
سمندری طوفان ’’نیلوفر‘‘ کے باعث ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا۔
ایک وقت تھا بچے رات کو نیلوفر پری کی خوبصورت کہانیاں دادی یا نانی اماں کی زبانی سنتے تھے اور نیند کی وادیوں میں کھو جاتے تھے۔ اب وقت بدلا تو نیلوفر بھی پری کی بجائے طوفان بن کر سامنے آنے لگی۔
کراچی اور سندھ کے حالات ویسے بھی سیاسی مدوجزر کا شکار ہیں۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم سوکنوں کی طرح آپس میں لڑ بھر رہی ہیں اور دوسری طرف خدائی آفات نے بھی پاکستان کا رخ کر لیا تو کیا ہو گا۔ ہم تو ورثے میں ملی ہوئی چیزوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ اس طوفان بلاخیز کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ ’’نیلوفر‘‘ کو آنے سے ابھی تک تو اوپر والے نے روک رکھا ہے۔ ورنہ جس فر، فر کی رفتار سے وہ یمن اومان کی جانب بڑھ رہا ہے اگر اس کا رخ کراچی کی طرف ہو گیا تو پھر وہاں ’’نی ۔ لوفر‘‘ کی ہا ہا کار مچی نظر آئے گی۔
ہماری تھکی ٹُٹی حکومت ابھی ’’سونامی‘‘ کے دھرنوں اور ریلیوں کے دبائو سے باہر نہیں آ سکی وہ بھلا ’’نیلوفر‘‘ کو کیسے برداشت کر پائے گی۔ اب دو دن موسلادھار رم جھم سے امید ہے کہ آفات کا غصہ ٹھنڈا ہو گا تو ساتھ ہی دعا ہے کہ پی پی پی اور ایم کیو ایم کا بھی غصہ ٹھنڈا ہو اور وہ دوبارہ پریم اور محبت کی بھاشا بولیں۔
٭…٭…٭…٭
وزیراعلی سندھ نے تھرپارکر کے متاثرین کو ’’ایک ہزار روپے‘‘ پر ٹرخا دیا۔ اچھل اچھل کر زرداری اور بلاول کے قصیدے گانے والے معمر وزیراعلی میں ذرا سی بھی انسان دوستی کا خمیر ہوتا تو وہ اس طرح اچھل اچھل کر تھرپارکر کے متاثرین قحط کی بھی مدد کرتے مگر افسوس انہوں نے صرف ایک خاتون کے ہاتھ میں قارون کا خزانہ مبلغ ’’ایک ہزار‘‘ روپے کا لفافہ تھماتے ہوئے کہا اسے آپس میں تقسیم کر لیں۔ خاتون نے خوشی کے مارے وزیراعلی سندھ کی طرح اچھلتے ہوئے جب لفافہ کھولا تو اس میں صرف ایک ہزار کا نوٹ تھا۔ اب ’’گنجی کیا نہائے اور کیا نچوڑے‘‘ اس خاتون کو چاہئے کہ وہ سوا روپے اضافہ کرکے یہ لفافہ واپس اس بونس پر چلنے والے وزیراعلی کو بھجوائے کہ شاید ان کے اہل خانہ کے کام آئے۔ سندھ حکومت کے وزیر خوراک، وزیر آبپاشی کیا یہ سب اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں تھرپارکر میں بھوک اور پیاس سے مرنے والے انسان و حیوان نظر نہیں آتے۔ اوپر سے وزیراعلی کہہ رہے ہیں کہ بچے بھوک سے نہیں غربت سے مرے ہیں۔ تو جناب غربت بھوک اور بیماری نہیں تو کیا عیش و عشرت لاتی ہے۔ اربوں روپے سندھ کے حکمران وزیر و مشیر اڑا رہے ہیں کیا اس میں چند سکوں پر بھی ان غریبوں کا حق نہیں اور پھر علاقے کے ایم پی اے اور ایم این اے کہاں مر کھپ گئے ہیں۔ بلاول صاحب ذرا اس طرف بھی نظر کریں اور اس پیر تسمہ پا قسم کے بے رحم لوگوں سے سندھ کو بچائیں۔ لندن اور پیرس بہت دیکھ لیا۔ اب اپنا صوبہ بھی دیکھیں ورنہ بعد میں ’’تیرا لٹیا شہر بھنبور‘‘ والا نوحہ بھی پڑھنے کی مہلت نہیں ملے گی۔
٭…٭…٭…٭
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ کے دعوت نامہ میں صدر ممنون حسین کا نام ’’منموہن سنگھ‘‘ لکھ دیا گیا!
اسے ستم ظریفی کہیں یا مذاق کہ ممنون اور منموہن کا تلفظ ملتا جلتا ہے اس لئے لکھنے والے نے پڑھا کچھ اور لکھا کچھ۔ شکل سے دونوں میں داڑھی مونچھ کا فرق ہو سکتا ہے مگر دونوں سیاسی ایوانوں کے روایتی قیدی ہیں جو 5 سال کی قید کاٹنے اس ایوان میں داخل ہوتے ہیں۔ بھارت میں تو بدقسمتی سے ہر قیدی صدر یا وزیراعظم اپنی مدت پورا کر کے رہا ہوتا ہے بشرطِ کہ ’’یم‘‘ آ کر اسے زندگی کی قید سے ہی آزاد نہ کرے۔ پاکستان میں البتہ خوش قسمتی سے کئی صدر اور وزیراعظم وقت سے پہلے ہی حادثات و واقعات کے سبب اس قید خانے سے رہائی پانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا قید حیات سے بھی نجات پالیتے ہیں۔کام دونوں ممالک کے صدور کا البتہ یہی ہے کہ سرکاری تقریبات کی رونق بڑھائیں، اہم دنوں میں قوم کو درشن کرائیں اور تقریر سنائیں یا پھر کسی فلاحی ادارے کا افتتاح کریں اور غیر ملکی وفود سے مسکراتے ہوئے ملیں انکے سفارت کاروں کی اسناد وصول کریں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بھارت میں کوئی صدر کسی بھی حکومت کا دھڑن تختہ نہیں کرتا، البتہ ہمارے ملک میں اپنی ہی پارٹی کا صدر اپنی حکومت کا بوریا بستر گول کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتا۔ہے ناں عجیب بات…